مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

انقلاب اور مکالمہ ۔ بلال حسن

جس طرف نظر دوڑائیں، عوام کو اس کرپٹ نظام اورظالم حکمرانوں سے نجات دلانے کے لیے تحریکیں چل رھی ھیں۔ یہ تحریکیں عوام کوسوشل ،پرنٹ اورالیکٹرونک میڈیا کے ذریعے اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ یہ سلسلہ ویسے تو دو←  مزید پڑھیے

طنز و مزاح میری نظر میں ۔ حکیم فاروق سومرو

طنز تنقید ہے۔ صدائے احتجاج ہے۔ دشنامِ یار ہے۔ تبصرہ ہے۔ تازیانہ ہے۔ اس کا مقصد اصلاح ہے۔دوسرے کی پگڑی اچھالنا ہے۔ اپنے احساسِ برتری کا مظاہرہ کرنا ہے۔بے ہودہ اشیا اور اشخاص کا مضحکہ اڑانا ہے۔ مزاح میں مبالغہ←  مزید پڑھیے