مکالمہ کی تحاریر
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

اسلام میں طلاق کا بحران: فقہی اجتہاد سے آگے قرآن کی رہنمائی/عبیداللہ سلفی

اسلام میں طلاق کا بحران: فقہی اجتہاد سے آگے قرآن کی رہنمائی۔19 نومبر 2025 کو سپریم کورٹ نے طلاقِ حسن کے عمل ۔ خصوصاً وکیل کے ذریعے بغیر شوہر کے دستخط کے نوٹس جاری کرنے۔کو چیلنج کرنے والی درخواست کی←  مزید پڑھیے

جمہوری رومانویت گورننس میں اصلاحات کی راہ میں حائل رہے گی/اسلم اعوان

سابق وزیر اعظم عمران خان اور بشری بی بی بارے مشہور برطانوی اخبار ” دی اکانومسٹ”کی سٹوری کی گونج نے اگرچہ 27 ویں آئینی ترمیم پر پبلک ڈسکورس کو پس منظر میں دھکیل دیا تاہم آرٹیکل243 میں کی گئی غیر←  مزید پڑھیے

ہم بر عظیم کے باسی ہیں یا بر صغیر کے؟/ابو نثر

راولپنڈی سے راجا محمد یوسف صاحب کا ایک مراسلہ موصول ہوا ہے۔ بعد دعا و سلام لکھتے ہیں: “اپنے شاگردوں کے لیے ایک مضمون کا انگریزی سے اُردو میں ترجمہ کررہا تھا۔ ایک جگہ آکر اُلجھ گیا۔ الجھن یہ ہے←  مزید پڑھیے

گلوبل سنیما اور جمالیات بطور مزاحمت ہومی بهابها اور فینن/سائرہ رباب

کچھ عرصہ قبل ایک تحریر میں فلم “پردیس” اور “دل تو پاگل ہے” جیسی فلموں کو مغرب پر ’’عامیانہ تنقید‘‘ قرار دیا گیا۔ یہ دعویٰ اُس پیچیدگی کو نظرانداز کرتا ہے جو نوآبادیاتی دنیا کی بنیادی حرکیات میں پوشیدہ ہے۔←  مزید پڑھیے

جب ہم نے انور مقصود کی لُوز شاعری پر 50 ڈالر لٹائے/ظفر سیّد

انور مقصود پاکستانی ٹیلی ویژن کی دنیا کا اہم نام ہیں۔ انھوں نے اداکاری بھی کی، ڈرامے بھی لکھے، لیکن ان کے سٹیج شو خاص طور پر بے حد مقبول ثابت ہوئے ہیں۔ اس دوران انھوں نے مزاحیہ شاعری بھی←  مزید پڑھیے

گفتگو، موضوع اور علمی حدود : فکری مباحث میں سوال کا مقام/وحید مراد

کچھ اہلِ فکر کا کہنا ہے کہ علم میں محض “سوال اٹھانا” فکر کی بے نسبی اور انتشار کو بڑھا دیتا ہے۔ ان کے نزدیک وہی سوال علمی ترقی کا ذریعہ بنتا ہے جو موضوع سے جڑا ہو اور اس←  مزید پڑھیے

انسانیت کی گم شدہ بیٹیوں کا نوحہ/ابو جون رضا

زمانۂ قدیم میں سفر کا راستہ محض فاصلہ طے کرنے کا نام نہ تھا؛ یہ خوف، بے یقینی اور اندیشے کی ایک مسلسل گزرگاہ تھی۔ انسان کسی اجنبی درخت کے سائے میں بھی اپنے آپ کو محفوظ نہیں سمجھتا تھا۔←  مزید پڑھیے

 رباعی کی معنوی تجدید کا سفر،محمد نصیرزندہ کے سنگ…. محمد افراہیم بٹ

ادب کی دنیا میں بعض اصناف وقت کے ساتھ بوسیدہ نہیں ہوتیں، بلکہ ہر عہد میں نیا بدن، نیا لباس اور نیا لہجہ لے کر دوبارہ زندہ ہو جاتی ہیں۔ رباعی بھی ایسی ہی صنف ہے! چھوٹی، مگر صدیوں کی←  مزید پڑھیے

سلسلہء خطوط/دو طبیب،دو ادیب،دو حبیب(ڈاکٹر خالد سہیل اور ڈاکٹر عابد نواز)خط نمبر 17,18

خط نمبر ۱۷۔۔۔۔ڈاکٹر خالد سہیل کا ڈاکٹرعابد نواز کو خط حضرت عابد و زاہد و متقی و پرہیزگار آپ کو ایک پاپی و عاصی و گنہگار کی طرف سے دوستانہ سلام قبول ہو آپ نے صنعت تضاد کی ایسی دل←  مزید پڑھیے

دل کا دورہ/تحسین اللہ خان

دنیا میں سب سے زیادہ اموات کولیسٹرول بڑھنے اور ہارٹ اٹیک سے ہوتی ہے۔ ہارٹ اٹیک کے وقت سینے میں جو تکلیف ہوتی ہے اس کی شدت کافی زیادہ ہوتی ہے، میں ڈاکٹر نہیں ہوں، لیکن میں نے اپنے والد←  مزید پڑھیے

فن، جمالیات اور مزاحمت- مارکس سے مارکیوز اورفینن تک ( دوئم،آخری حصّہ )-سائرہ رباب

فینن: ثقافت اور ذہنی آزادی فرانز فینن (Frantz Fanon) کہتا ہے کہ استعمار سب سے پہلے ’’دماغ‘‘ کو غلام بناتا ہے۔ “Colonialism colonizes the mind.” فینن کے نزدیک نوآبادیاتی غلامی صرف سیاسی اور معاشی نہیں بلکہ نفسیاتی اور جمالیاتی غلامی←  مزید پڑھیے

الفاظ کی کثرت، معنی کی قلت اور فکر کا افلاس /مرزا بشارت

ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم نے بات چیت کا ماحول ختم کر دیا ہے اور یہ ہماری لیاقت یا دانست سے نہیں بلکہ ہماری انانیت کی وجہ سے ہوا ہے۔ ہمارے اہلِ علم ابھی تک فراخ دل اور بردبار←  مزید پڑھیے

طنز و تحقیر بطور ہتھیار : دلیل کی کمزوری کا اعتراف/ وحید مراد

علم کی روایت یہ سکھاتی ہے کہ استدلال کا مقصد سوال کو دبانا نہیں بلکہ اس کی سمت واضح کرنا اور فہم کے دروازے کھولنا ہے۔علم سوال سے جنم لیتا ہے اور مکالمہ اس کی روح ہے۔ جہاں گفتگو دلیل←  مزید پڑھیے

مہنگائی بڑھ کر کال بنی، ساری بستی کنگال بنی / عمر شاہد

پچھلے کئی دہائیوں سے پاکستان کی معیشت پر افراط زر کا خوف طاری ہے مگر اب یہ خوف اب ایک دائمی بیماری کی شکل اختیار کرچکا ہے، ایک ایسی بیماری جس نے عوام کی ریڑھ کی ہڈی توڑ کر رکھ←  مزید پڑھیے

کچھ ہوائی باتیں/ابو نثر

ہمارے نام تو اکثر سوال آتے ہیں۔ مگر اب کی بار سوال نہیں، مشورہ آگیا۔ وہ بھی ایک سبک دوش سیاست دان کا۔ فرماتے ہیں: “ہماری دنیائے سیاست کی ہوا ہمیشہ بیانات سے بھری رہتی ہے اور بیانات ہوا سے۔←  مزید پڑھیے

پاکستان میں شہری بحران /عمر شاہد

پچھلی کئی دہائیوں سے حکمران طبقے نے عوام کو یہ بیانیہ تھمایا ہوا ہے کہ پاکستان ایک دیہاتی معاشرہ ہے جہاں صرف 39 فیصد آبادی شہروں میں رہتی ہے۔ لیکن عالمی بینک کی تازہ رپورٹ نے اس جھوٹے بیانیے کی←  مزید پڑھیے

خاموش دستک – ایک جائزہ/ عابدہ قریشی

یہ تبصرہ اس تقریر سے ماخوذ ہے جو میں نے 14 ستمبر کو ٹورونٹو میں کتاب ‘خاموش دستک’کی رونمائی کی تقریب پر کی تھی۔ مختصر کہانیاں اور افسانے چند صفحات میں ایک دنیا آباد کر دیتے ہیں ۔ ان کے←  مزید پڑھیے

یقین دونوں طرف سے ٹوٹتا ہے/عائشہ بتول

یقین ایک احساس ہے جو دو دلوں کے درمیان پل بناتا ہے یہ رشتہ صرف ایک طرف سے قائم نہیں ہوتا بلکہ دونوں طرف سے جڑتا ہے اکثر ہم آپنے بڑوں سے کوئی خواہش یا فیصلہ شیئر کرتے ہیں تو←  مزید پڑھیے

خلطِ مبحث: فلسفیانہ مغالطہ یا مکالمے کو دبانے کا دفاعی میکنزم /وحید مراد

خلطِ مبحث محض ایک منطقی لغزش نہیں، علمی اور فکری دنیا میں یہ کبھی کبھی ایک ایسا پوشیدہ ہتھیار بن جاتا ہے جو دلیل کے بوجھ سے بچنے، سوال کی طاقت کو بے اثر کرنے اور مکالمے کی روح کو←  مزید پڑھیے

اُردو کے پاجامے کی شامت/ابونثر

خواجہ حیدر علی آتشؔ بھی شاید ہماری ہی طرح اُوب گئے تھے، مطلب یہ کہ اُکتا گئے تھے: غم و غصہ و رنج و اندوہ و حرماں ہمارے بھی ہیں مہرباں کیسے کیسے سو، ہمیں بھی ہمارے ایک مہربان بزرگ←  مزید پڑھیے