Mahwish talib کی تحاریر

آزادی۔۔ماہ وش طالب

“آزاد ملک کا آزاد شہری “ وہ بچپن سے منفرد تھا,  جوان ہوا تو اندازِ فکر و سوچ بدلا, دوست خبطی کہہ کر بلاتے, وہ پرواہ کیے بغیر آگے بڑھتا رہا, گزشتہ ماہ  لندن سے ڈگری لے کر وطن لوٹا,←  مزید پڑھیے

بدلہ۔مہوش طالب

رات چاندنی اپنے جوبن پر تھی, فضا میں  دلفریب پھولوں کی باس رچی تھی, میں جو اس کی یاد سے منہ موڑنے کی تدبیریں کررہا تھا, یکدم اس کی موجودگی کا احساس میرے حواسوں پہ سوار ہوکرمجھےبے  چین کرنے لگا,←  مزید پڑھیے

آدھا منظر۔مہوش طالب

شام کے دھندلکے سائے گہرے ہونے کوتھے، وہ دونوں تھکے ماندے لو ٹ رہے تھے، تھکن اور بیزاری دونوں کے چہرے سے عیاں تھی۔ وہ دونوں کلاس فیلو رہ چکے تھے اور اتفاق سے میڈیا رپورٹنگ کے مشترکہ شوق نے←  مزید پڑھیے