Mahwish talib کی تحاریر

قفس۔ماہ وش طالب

بھردو جھولی میری یا محمدﷺ لوٹ کر میں نہ جاؤں گا خالی۔۔ عقب سے آتی آواز کسی بازگشت کی مانند معلوم ہوتی تھی۔۔ “صائم محبت کوئی نیاز نہیں کہ جھولی پھیلائی اور مل گئ, یہ جو تم محبت محبت کا←  مزید پڑھیے

بدلہ۔مہوش طالب

رات چاندنی اپنے جوبن پر تھی, فضا میں  دلفریب پھولوں کی باس رچی تھی, میں جو اس کی یاد سے منہ موڑنے کی تدبیریں کررہا تھا, یکدم اس کی موجودگی کا احساس میرے حواسوں پہ سوار ہوکرمجھےبے  چین کرنے لگا,←  مزید پڑھیے

آدھا منظر۔مہوش طالب

شام کے دھندلکے سائے گہرے ہونے کوتھے، وہ دونوں تھکے ماندے لو ٹ رہے تھے، تھکن اور بیزاری دونوں کے چہرے سے عیاں تھی۔ وہ دونوں کلاس فیلو رہ چکے تھے اور اتفاق سے میڈیا رپورٹنگ کے مشترکہ شوق نے←  مزید پڑھیے