شام آنگن میں یوں اتر رہی ہے جیسے کسی بوڑھے شاعر کے دل میں کوئی پرانی یاد دبے پاؤں لوٹ آئی ہو، یا جیسے کسی شکستہ دل پر اداسی کی چادر تن جائے- یہ شام کسی خط کے بند لفافے← مزید پڑھیے
رات کی تہہ در تہہ خاموشی میں جب دنیا نیند کی آغوش میں کھو جاتی ہے، کچھ دل ایسے ہوتے ہیں جو بیدار رہتے ہیں۔ مگر یہ بیداری مکمل نہیں ہوتی، اور نہ ہی وہ نیند جس میں یہ دل← مزید پڑھیے
زندگی میں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جو سوال کی صورت گزر جاتا ہے، مگر اس کا جواب ساری عمر سنبھالنا پڑتا ہے۔ محبت اگرچہ ایک فلسفہ ہے، لیکن یہ سب سے گہرا سوال بھی ہے۔ جب دو لوگ کسی← مزید پڑھیے
ادب محض تخیل کا کھیل نہیں، بلکہ وہ شعور و لاشعور کے مابین پل ہے، جہاں انسانی تجربات کی تلخ ترین پرتیں ظہور پذیر ہوتی ہیں۔ کچھ زخم ایسے ہوتے ہیں جو صرف جسم کو نہیں، روح، شناخت اور روایت← مزید پڑھیے
چیٹ ونڈو… وہ کھیت جہاں لفظ اگتے بھی ہیں اور مرجھا بھی جاتے ہیں۔ “Read…” یہ لفظ سیما کی سکرین پر ہر بار اس وقت چمکتا جب وہ جانتی تھی کہ میں نے پیغام پڑھ لیا ہے… مگر جواب نہیں← مزید پڑھیے
القدس سوگوار ہے۔۔ اقصی کے مینار سسک رہے ہیں۔ اس کے صحن میں بکھری اذانیں بین بن چکی ہیں۔عیسی علیہ السلام کو بپتسمہ دینے والے دریائے اردن کی لہریں کسی ازلی غم میں ٹھہرنے لگی ہیں۔ اور یروشلم کے پرانے← مزید پڑھیے
کہیں پڑھا تھا کہ اچھی نثر وہی ہوتی ہے جو مسلسل شاعری کی طرف رجوع کرے- مگر نطشے کہتا ہے کہ نثر شاعری کے ساتھ مسلسل، شائستہ جنگ کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہے۔ یہ دو مختلف نقطہ ہائے نظر← مزید پڑھیے
مطالعے کے دوران ایک لفظ نظروں سے گزرا؛ “ماورائے گماں”۔ لحظہ بھر کے لیے کتاب کو ایک طرف رکھا اور اس لفظ کے مفہوم پر غور کرنے لگا کہ گماں کیا ہے؟ اور اس کی سرحد سے پرے کیا شے← مزید پڑھیے
لفظ آدم کے ساتھ جُڑا، اور جب کاتبِ تقدیر نے اسے قوتِ بیان عطا کی، تب ہی یہ طے پایا کہ انسان صرف جسم سے نہیں، بلکہ اپنے کہے اور لکھے ہوئے الفاظ سے بھی پہچانا جائے گا۔ لکھاری وہ← مزید پڑھیے
ادب محض الفاظ کی ترتیب نہیں، نہ ہی یہ کسی خاص ہیئت، اسلوب یا صنف میں مقید ایک فنّی مہارت ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر خوش بیان مقرر، ہر نکتہ سنج فلسفی، اور ہر ماہر قصہ گو ادیب کہلاتا،← مزید پڑھیے
غور و فکر انسانی ذہن کی سب سے بڑی نعمتوں میں سے ایک ہے۔ یہی وہ طاقت ہے جس نے انسان کو دیگر مخلوقات پر برتری عطا کی، علم و حکمت کے دروازے کھولے اور تہذیب و تمدن کی بنیاد← مزید پڑھیے
میرے عزیز! کبھی تم نے سوچا ہے کہ وہ لمحہ کیسا ہوگا جب غالب کا کوئی مصرع کسی مشین کی پیشین گوئی کے مطابق تشکیل دیا جائے گا؟ جب میر کی سادگی، اقبال کی بلندی، فیض کی بغاوت اور ن← مزید پڑھیے
عزیزم! انسانی تہذیب کی تاریخ درحقیقت مکالمے کی تاریخ ہے۔ آغازِ آفرینش سے لے کر آج تک، انسان نے اپنی بقا، ارتقا، اور فکری بالیدگی کے لیے مکالمے کو وسیلہ بنایا۔ کبھی یہ مکالمہ فطرت سے تھا، کبھی دیوتاؤں سے،← مزید پڑھیے
بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ اے ابو عبداللہ محمد بن موسیٰ الخوارزمی! تمہیں مخاطب کرتے ہوئے مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں وقت کے ایک روشن دریچے سے جھانک کر بغداد کے ان علمی مراکز کو دیکھ رہا ہوں جہاں← مزید پڑھیے
عزیزم! جب میں تمہیں یہ خط لکھنے بیٹھا تو جان کیٹس اور ابن الحزم کے بارے میں کچھ باتیں کرنے کا من تھا- دل چاہا کہ جان کیٹس کی “Saint Cupid’s Nun” اور ابن الحزم کے محبت کے فلسفے پر← مزید پڑھیے
عزیزم! آنکھوں کے راستے دل تک پہنچنے کا ہنر کسے آتا ہے؟ شاید ان لوگوں کو جو خاموشی میں کہانیاں سننا جانتے ہیں۔ آنکھیں بولتی نہیں، مگر جو کہتی ہیں، وہ الفاظ سے کہیں زیادہ گہرا ہوتا ہے۔ کہتے ہیں← مزید پڑھیے
گاؤں کے دامن میں ایک چھوٹا سا قدیم اور پراسرار میدان تھا، جسے لوگ “پوہ ر” کہتے تھے۔ اس میدان کا نام ہمیشہ سے ایک راز رہا، اور جو بھی اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کرتا، یا تو← مزید پڑھیے
اس بستی سے کب باہر نکلوں گا از ناصر عباس نیر تبصرہ: علی عبداللہ کیا ہر بستی حقیقت میں وہ قید خانہ ہے جو ہماری سوچوں، خوابوں، اور آزادی کے راستوں پر پہرے بٹھا دیتی ہے؟ ہم اپنی زندگی کے← مزید پڑھیے
افسانوی ادب پڑھنا ایسا ہی ہے جیسے خوابوں کی گلیوں میں آوارہ گردی کرنا- جہاں حقیقت دھند کی مانند تحلیل ہو جاتی ہے اور ہر کہانی ایک دریچہ کھولتی ہے—روح کے ان گوشوں کی طرف، جنہیں ہم نے کبھی دیکھا← مزید پڑھیے
یہ کہانی ایک ایسے وجود کی ہے جو ہمیشہ ہر شے کے اندر کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے، مگر کبھی اپنی شناخت نہیں پا سکا- یہ وجود ایک بے نام جذبہ ہے، ایک بے مقصد سفر یا← مزید پڑھیے