پوری دنیا میں تیزی سے پھیلنے والے کرونا وائرس نے انسانی زندگی کے ہر شعبے پر اثرات چھوڑے ہیں، اس وقت دنیا کی توجہ کا مرکز یہی مہلک وائرس ہے جس نے زندگی کو مفلوج بنا کر رکھ دیا ہے ہر ملک اس وبا پر قابو پانے کے لئے کوشش کر رہا ہے، مشرق سے لے کر مغرب تک حکومتیں عوام کو اس مہلک وبا سے محفوظ رکھنے کے لئے گھروں میں ٹھہرنے کی تلقین کر رہی ہیں۔
تا دمِ تحریر اس مہلک وبا کا علاج دریافت نہیں ہو سکا ، پوری دنیا میں کاروبار زندگی تقریبا ً معطل ہونے کی وجہ سے خود کو طرم خان سمجھنے والوں سے لے کر عام مزدور تک سب کرونا کی زد میں ہیں ،سب کو اپنے اپنےمستقبل کی فکر ہے کسی کو اپنا اقتدار جاتا نظر آ رہا ہے، تو کسی کے لئے زندگی کی سانسیں بحال رکھنا نا ممکن نظر آ رہا ہے۔
دنیا کو اس وقت غیر معمولی حالات کا سامنا ہے، انہی حالات کو دیکھتے ہوئے صاحبان نظر کی طرف سے کرونا کے بعد کی دنیا کا جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے اس کو سامنے رکھتے ہوئے یہ سوال اہمیت اختیار کر گیا ہے کہ کیا دنیا کا موجودہ تمدن تباہی یا سقوط کی جانب بڑھ رہا ہے ؟ ۔اس سوال کا جواب ڈھونڈنے سے پہلے تمدن کے وسیع اور اختلافی مفہوم کا واضح کرنا ضروری ہے تمدن در حقیقت ان علمی،ثقافتی،قانونی ڈھانچوں اور نظاموں کا مربوط سلسلہ ہے جو انسانی ضروریات کی تکمیل کے لئے بروئے کار لایا جاتا ہے۔دولت،طاقت،صنعت،تجارت،قوانین،علم و ادب کسی بھی تمدن کی ظاہری صورتیں ہیں ۔
اس وقت دنیا کو کرونا کے علاج کی فوری اور شدید ضرورت ہے موجودہ حالات میں اگر اس ضرورت کے پورا ہونے میں مزیدتاخیر ہوتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کرونا نے مشرقی و مغربی تمدن کے وجود پر گہری ضرب لگا کر اسے حرکت سے روک دیا ہےتاریخ تمدن کے طالبعلموں کے سامنے اس وقت جو سب سے بڑا سوال ہے وہ یہ ہے کرونا کے علاج کی دریافت میں دیر کی صورت میں کیا یہ وبا مشرقی و مغربی تمدن کو سقوط کے دہانے پر پہنچا دے گی؟
اس سوال کے جواب میں کوئی حتمی رائے تو قائم نہیں کی جا سکتی البتہ تاریخی اور علمی شواہد کی بنا پر کچھ مفروضے ضرور قائم کیے جا سکتے ہیں، پہلا مفروضہ یہی ہے کہ بالآخر جدید میڈیکل سائنس اس وبا کا علاج دریافت کر لے گی اور تمدن متحرک رہتے ہوئے تاریخ کی شاہراہ پر اپنا سفر جاری رکھے گا اس ضمن میں یہ بات بھی اہم ہے کہ اس وبا کا علاج مغرب سے سامنے آئے گا یا مشرق سے غالب امکان یہی ہے کہ مغرب اس مہلک وبا کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو گا اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جاسکتا کہ مشرق کرونا کا علاج دریافت کرلے کیونکہ کرونا کی وبا پھیلنے کے بعد مشرقی ممالک کی اکثر حکومتوں نے خرافات کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے منطقی اور علمی راستہ اپنایا ہے ،اس رویے کو سامنے رکھتے ہوئے ا س امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ مشرق کرونا کا علاج دریافت کرنے میں کامیاب ہو جائے۔
دوسرا مفروضہ یہ ہے کہ کرونا کے علاج کی دریافت میں دیر کی صورت میں ،مشرقی اور مغربی تمدن کا سفر تاریخ کی شاہراہ پر رُک جائے گا جو بالآخر دونوں تمدنوں کے سقوط پر منتج ہو گا اس حوالے سے تاریخ کی طرف رجوع کریں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے تمدن وبائی امراض پر قابونہ پانے کی وجہ سے اپنا وجود برقرار نہ رکھ سکے ، اس حوالے سے معروف مؤرخ اور فلسفی ول ڈورانٹ کا کہنا ہے کہ تمدنوں کو سقوط سے دوچار کرنے والے عوامل میں سے ایک عامل لا علاج وبائی مرض ہے ٹوئین بی کا تو یہاں تک کہنا ہے کہ اگر وبائی بیماری کی شدت اس حد تک ہو کہ انسا ن اس کے علاج سے عاجز ہو جائے تو اس صورت میں تمدن کا خاتمہ حتمی امر ہے۔
کرونا وائرس کے تناظر میں اگر موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ول ڈورانٹ اور ٹوین بی کے نظریئے سے صرف نظر نہیں کیا جا سکتا، یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ تمدن مختلف مراحل کو طے کرتے ہوئے تاریخ کا حصہ بن جاتا ہے دنیا میں موجود کتنے تمدن سقوط کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن چکے اس حوالے سے ابن خلدون تمدن کو انسانی زندگی سے تشبیہ دیتا ہے کہ جس طرح ایک انسان بچپن،جوانی اور بڑھاپے کے مراحل طے کرتا ہوا موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے اسی طرح ایک تمدن بھی ان مراحل کو طے کرتا ہوا سقوط کے دھانے پر پہنچ کر ختم ہو جاتا ہے۔
اب اگر ہم کرونا وائرس سے پہلے اور بعد کی دنیاکا جائزہ لیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس مختصر مدت میں کرونا نے تمدن کے مظاہر کو سنگین نقصان پہنچایا ہے اگر اقتصاد کو دیکھا جائے تو دینا ایک اقتصادی بحران کے دہانے پر کھڑی ہے کرونا کی وجہ سے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں ملازمتوں کے مستقل ختم ہونے کا خطرہ سر پر منڈلا رہا ہے ،اس کے ساتھ ساتھ چھوٹی کمپنیوں کا وجود برقرار رکھنا محال ہو تا جا رہا ہے ،خدا نخواستہ اگر کچھ عرصے تک کرونا پر قابو پانا ممکن نہیں ہو پاتا تو بڑی کمپنیاں بھی اس حد تک خسارے میں چلی جائیں گی کہ ان کا خسارہ پورا کرنا حکومتوں کے بس میں بھی نہیں ہو گا اس صورت میں مغربی تمدن کی بنیادیں ہل کر رہ جائیں گی بہت سے قوانین کو از سر نو ترتیب دینا پڑے گا فضائی کمپنیاں دیوالیہ ہو جائیں گی گاڑیاں بنانے والی کمپنیاں بھی بھاری نقصان اٹھائیں گی ٹورزم کی صنعت 99 فیصد ختم ہو کر رہ جائے گی اٹلی،فرانس،اسپین اور امریکا کو نا قابل تلافی نقصان ہو گا ۔
دوسری طرف اگر مشرق کی طرف دیکھیں تو تیل کی قیمتیں مسلسل گر رہی ہیں اگر خدانخواستہ یہ صورت حال جاری رہتی ہے تو تیل نکالنے والے مشرقی ممالک سے ناصرف کوئی تیل خریدنے والا نہیں ہو گا بلکہ قیمتیں اس حدتک گر جائیں گی کہ تیل کے ذخیروں سے مالا مال ممالک تیل نکالنے کا خرچ بھی افورڑ نہیں کر پائیں گے ۔
کرونا سے تمدن کو لاحق شدید خطرات میں انسانیت کو ایک موقع نصیب ہوا ہے کہ دنیا بھر کے انسان تعصبات سے بالاتر ہو کر دنیا کو بہتر بنانے کے لئے مل کر راہ حل سوچ سکیں کرونا نے موجودہ حالات میں یہ سبق دیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی انسان دوسرے انسان سے لاتعلق نہیں رہ سکتا انسانی قافلے کو آگے بڑھانے کے لئے ہر انسان کا عمل پوری انسانیت کی سرنوشت متعین کرنے میں مددگار ہے جہاں پر ایک انسان پوری دنیا کو خطرے سے دوچار کر سکتا ہے وہیں دانائی کا دامن تھام کر انسانیت کی بقا کے لئے بھی اپنا کردار ادا کرسکتا ہے۔
انسان کو پروردگار نے عقل و شعور جیسی نعمت سے سرفراز فرمایا ہے اس نعمت کو استعمال کرے تو بڑے سے بڑا مسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے موجودہ حالات میں ہر انسان کو یہ سوچنا ہو گا کہ وہ انسانیت کو درپیش اس خطرے سے نجات دلانے کے لئے کیا کر سکتا ہے؟ اس وقت پوری انسانیت خطرات سے دوچار ہے ان حالات میں غیر منطقی اور غیر علمی رویے انسانیت کے لئے زہر قاتل کی حیثیت رکھتے ہیں ہمیں یہ امید کرنی چاہیئے کہ کرونا کی صورت میں نازل ہونے والی مصیبت سے دنیا کو جلد چھٹکارا نصیب ہو خدانخواستہ ایسا نہ ہو سکا تو یہ ظالم کرونا مشرقی و مغربی تمدن کو سقوط کے دہانے پر پہنچا دے گا۔
Facebook Comments


بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں