وکٹر ہیوگو کا شاہکار ناول(Les Misérables)۔۔۔جمال خان

وکٹر ہیوگو 26 فروری 1802 کو بسکاں میں پیدا ہوا ۔ وکٹر ہیوگو نے ایک بھرپور زندگی بسر کی  وہ صرف  ایک ناول نگار ہی نہیں شاعر ،ادیب   ،ڈرامہ نگار اور سیاستدان بھی تھا۔ اس کا والد نپولین کی فوج میں ایک اعلی ٰ افسر تھا ، جو    جنرل کے عہدے تک پہنچا اور کاؤنٹ کے خطاب  کا  اعزاز بھی حاصل  کیا ۔وکٹرہیوگو کا بچپن مختلف ملکوں ،شہروں میں بسر ہوا ۔ بہت سارے ممالک اور شہر اس نے اپنے باپ  کی ملازمت کی وجہ سے بچپن میں ہی دیکھ لیے تھے۔اسے بعد میں پیرس میں ایک بورڈنگ  سکول میں داخل کروادیا گیا۔ وہ پندرہ برس کا تھا کہ آکادمی فرانس کی جانب سے منعقد کیے گئے ایک شعری مقابلے میں شریک ہوا اور وہاں اس مقابلے میں نمایاں اعزاز حاصل کیا۔

1819 میں وکٹر ہیوگو نے شاعری کے تین مقابلوں میں اوّل انعام حاصل کیا۔ اسی برس اس کے بھائی نے ایک پندرہ روزہ ادبی رسالے کا اجراءکیا ۔آنے والے تین برسوں میں جب تک یہ جریدہ شائع ہوتا رہا وکٹر ہیوگو نے اس میں بے شمار تحریریں لکھیں۔ اس کی بعض نظموں میں ایسے عناصر پائے جاتے تھے جن میں بادشاہت کو پسندیدہ قرار دیا گیا تھا اس لئے شاہ فرانس اس پر مہربان ہوا اور اسے 500 فرانک کا وظیفہ جاری کردیاگیا ۔1819 میں اسے شدید عشق ہوا ۔اس کی محبوبہ ایڈلی فوشر تھی ۔وہ اس سے شادی کرنا چاہتا تھا لیکن دونوں گھرانوں کے سربراہ بالخصوص وکٹرہیوگو کی والدہ اس رشتے کی سخت مخالف تھی۔ 1821 میں جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا تو وہ اپنی محبوبہ سے شادی کرنے میں کامیاب ہوا۔ اسی برس اس کی نظموں کا مجموعہ شائع ہوا ،جو اس نے اپنی محبوبہ کے لئے لکھی تھی۔ 1823 میں ان کا پہلا بیٹا پیدا ہوا ۔اب وکٹرہیوگو اپنی شاعری اور ڈراموں کی وجہ سے بہت شہرت حاصل کر چکا تھا اس کے وظیفے کی رقم بڑھا کر دو ہزار فرانک کر دی گئی۔ 1830 تک وہ تین بیٹوں کا باپ بن چکا تھا اور خوشگوار گھریلو زندگی بسر کر رہا تھا۔

وکٹر ہیوگو انقلابی ذہن کا مالک تھا اس کا شمار دنیا کے چند بڑے باشعور لکھنے والوں میں کیا جاتا ہے ۔اس نے پھانسی اور موت کی سزا کے خلاف ایک طویل جنگ لڑی۔ اس سزا کو منسوخ کرانے کےلیے اس نے کئی کتابیں لکھیں، کتابچے تحریر کیے، تقریریں کیں ۔اس ضمن میں اس کا شاہکار”Last Day Of Acondmmend”یعنی سرگشت ا سیر ہےجس کے مترجم منٹو ہیں۔ وکٹر ہیوگو نے اس دلدوز کتاب میں پھانسی کی سزا کے خلاف زبردست دلائل پیش کیے ۔کہا جاتا ہے کہ یہ سزا اس لیے دی جاتی ہے کہ لوگوں کو عبرت حاصل ہو اس نظریے کا بڑی سنگینی سے وہ مذاق اڑاتا ہے ۔سماجی عوامل اور انسانی زندگی پر اس کی نظر اتنی گہری ہے کہ وہ ان نتائج کو بڑے شدومد اور استدلال سے پیش کرتا ہے جو ایک شخص کی پھانسی کے بعد اس کے گھرانے پر مرتب ہوتے ہیں۔ ان دشواریوں صعوبتوں اور آلام کا ذکر کرتا ہے جن کا پہاڑ اس خاندان پر ٹوٹ پڑتا ہے، جس کے ایک فرد کو کسی جرم میں پھانسی دی گئی ہو ۔ اگر آج دنیا کے بیشترممالک میں پھانسی کی سزا منسوخ ہوچکی ہے تو یقیناً اس کی منسوخی میں وکٹرہیوگو کا بھی بڑا ہاتھ ہے ۔وکٹر ہیوگو اجتماعی معاشی اور سماجی زندگی گزارنے کا قائل تھا۔ وہ اپنی تحریروں اور تقریروں کے حوالے سے کمیون سسٹم کا بہت بڑا حامی بن کر سامنے آتا ہے۔ سماج کی معاشی اور معاشرتی حالت کو بہتربنانے کے لئے وہ یہ سمجھتا ہے کہ انسان اجتماعی زندگی بسر کرے اور کمیون سسٹم قائم کرے ۔اس کے ان انقلابی افکار کی وجہ سے اسے بہت سی پریشانیوں اور مخالفتوں کا بھی سامنا کرنا پڑا لیکن وہ اپنے نظریات پر ڈٹا رہا ۔

“نوٹرے ڈیم کا کبڑا “Notre Dame De Paris عظیم ادبی شہ پارہ ہے، انسانی محبت اور رشتوں کی ایسی تفسیر دنیا کے ادب میں بہت کم پیش کی گئی ہے ۔۔ نوٹرے ڈیم کے نیم انسان گونگے بہرے مسخ اور بدصورت ترین شکل والے کبڑے کے حوالے سے وکٹر ہیوگو ہمیں ایک ایسی انسانی صورتحال اور انسانی نفسیات سے متعارف کراتا ہے جو پڑھنے والے کے لئے ایک عظیم انسانی تجربے کی حیثیت اختیار کرلیتا ہے ۔۔
1841میں وکٹر ہیوگو کو فرانسیسی آکادمی کا رکن منتخب کرلیا گیا جو یقیناً بہت بڑا اعزاز تھا ۔اس کے بعد اگلے برس وہ مجلس قانون ساز کا رکن بن گیا۔
وہ نپولین کا حامی تھا مگر 1891 میں نپولین نے ریپبلک کو ختم کرکے اپنے آپ کو بادشاہ بنانے کا فیصلہ کیا تو وکٹر ہیوگو اس کا مخالف بن گیا ۔ہیوگو نے حزب اختلاف کو منظم کرنے کی کوشش کی اور بغاوت بھی ہوئی لیکن ناکامی سے دوچار ہوئی ۔ہیوگو کو اپنی جان بچانے کے لیے فرانس سے بھاگ کر برسلز میں پناہ لینی پڑی۔ 1851 سے لے کر نپولین کے زوال تک ہیوگو پیرس واپس نہ آیا اور جلاوطنی کی زندگی بسر کرتا رہا۔ اس جلاوطنی کے زمانے میں ہی اس نے اپنے بڑے تخلیقی شاہکار تصنیف کیے جن میں” لامزرا بیلز”بھی شامل ہے۔ ہیوگو کی محبوبہ اور بیوی بھی اس کے ساتھ جلا وطنی کی زندگی بسر کر رہی تھی جلاوطنی میں ہی اسکی بیوی کا انتقال 1868 میں ہوا ۔اپنی محبوب بیوی کی موت کا غم وہ کبھی نہ بھلا سکا۔

5 ستمبر1870 کو ہیوگو پیرس پہنچا ۔فروری 1871 کو اسے اسمبلی کا رکن چناگیا۔ یہ وہ دور تھا جب نپولین اپنے زوال سے دوچار ہوچکا تھا اور اس وقت تک پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا تھا۔ حالات اس کے بس سے باہر تھے، چند مہینوں کے بعد اس نے استعفیٰ دے دیا۔ اپنے نظریات کے خلاف کام کرنے کا  وہ عادی نہ تھا اور سماجی اور معاشی زندگی میں کمیون سسٹم کا زبردست حامی تھا ۔برسلز میں اس نے کمیون سسٹم پر جو تقریریں کیں تھی اس وجہ سے اس کی شدید مخالفت ہوئی اور برسلز کی حکومت نے اسےملک سے جبراً نکال دیا تھا ۔

اس کی زندگی اب صدموں سے بھری ہوئی تھی۔۔پہلے اس کا ایک بیٹا 1871 میں فوت ہوا اس کے بعد دوسرا ، پھر تیسرا اور آخری بیٹا بھی 1873 میں انتقال کر گیا۔ اب وہ ایک تنہا بوڑھا شخص تھا جسے عالمگیر شہرت حاصل تھی۔ دنیا بھر میں اس کے مداح پھیلے ہوئے تھے لیکن وہ اکیلا اور تنہا تھا ۔اس نے دوبارہ اسمبلی کا انتخاب لڑا لیکن ناکام رہا ،بالآخر 1876ءمیں اسے سینٹ کا رکن چن لیا گیا ۔اس کی شہرت میں پھر اضافہ ہوا ۔جب تک وہ زندہ رہا سینٹ کا رکن رہا۔ لیکن اس کی تمام تر سیاسی سرگرمیاں اور دوسری مصروفیات بھی اس کی تنہائی کا مداوا نہ بن سکیں۔ اسے پناہ اور تسکین ملی تو لکھنے سے ۔۔جب تک وہ زندہ  رہا لکھتا رہا ۔اس کی کتابیں شائع ہوتی رہیں ۔عشق انسانیت اور ایثار ایسے جذبے ہیں جن کا تعلق انسان کے ظاہر سے نہیں بلکہ باطن سے ہے۔ انسان کا باطن حسین ہے تو چاہیے وہ دنیا کا بد صورت ترین انسان ہی کیوں نہ ہو دراصل وہی صاحب جمال ہے ۔دنیا ادب میں بڑے بڑے بدصورت کردار پیش کیے گئے، لیکن جتنا بدصورت یہ نوٹرے ڈیم ڈیم کا کبڑا ہے اتنا بدصورت کردار شاہد ہی کوئی دوسرا ہو۔ لیکن یہی بدصورت کردار ہمیں دنیا کا حسین ترین انسان نظر آنے لگتا ہے کیونکہ اس کا دل سچی محبت وفا شاعری اور اطاعت سے لبریز ہے۔

وکٹر ہیوگو کا سب سے بڑا تخلیقی ولازوال کام ” لامزرا بیلز” 1862میں شائع ہوا ،اس کی اشاعت اس لحاظ سے تاریخ ساز واقعہ ہے کہ یہ بیک وقت دنیا کی دس زبانوں میں شائع ہوا۔اس کی اشاعت عالمی ادب کا ایک بہت بڑا واقعہ ہے۔ اس ناول کے حوالے سے عالمی ادب پر جو گہرے اثرات مرتب ہوئے ان کی اپنی ایک تاریخ ہے۔ اس عظیم اور ضیغم ناول کے حوالے سے وکٹر ہیوگو نے انسانی زندگی اور معاشرے سے تعلق رکھنے والے بعض بنیادی سوال اٹھائے اور ان کا جواب دیا ہے ۔

انسان اور قانون کا رشتہ ۔۔۔قانون ؟؟ قانون انسان کو مجرم بناتا ہے۔ جب کوئی انسان جرم کی راہ چھوڑ کر شرافت اور انسانیت کی زندگی بسر کرنا چاہتا ہے، تو قانون اسے شرافت کی زندگی بسر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔وکٹر ہیوگو کا ” لامزرا بیلز” ایک ایسا تخلیقی کارنامہ ہے جس میں پوری دنیا کو فخر ہے ۔
“لامزرابیلز” ایک ایسا اہم ناول ہے جس کے بارے میں عالمی ادب کے نقادوں نے ایک دلچسپ بحث بھی ایک زمانے میں شروع کی تھی۔اور کبھی کبھار اب بھی اس کی بازگشت سنی جاتی ہے۔ بعض بڑے تخلیق کاروں اور نقادوں کی رائے ہے کہ یہ ناول ٹالسٹائی کے عظیم ناول “وار اینڈ پیس” سے بھی بڑا ہے خود ہمارے ہاں کرشن چندر نے جہاں بالزاک کو ٹالسٹائی سے بڑا ناول نگار کہا وہاں ” لامزرابیلز”کو وار اینڈ پیس سے بڑا ناول قرار دیا۔ ظہیر کاشمیری جو عالمی ادب پر گہری نگاہ رکھتے تھے ،ان کا بھی یہی خیال ہے کہ وکٹرہیوگو کا یہ ناول ٹالسٹائی کے وار اینڈ پیس سے بڑا تخلیقی ناول ہے۔

یہ بحث بہت دلچسپ اور خیال افروز ثابت ہوسکتی ہے کہ دو مختلف زبانوں میں دو بڑے Giants کے ان دو بڑے تخلیقی شہ پاروں کا کس طرح موازنہ کیا جاسکتا ہے جن کے موضوعات ایک  دوسرے سے بالکل مختلف ہیں ۔
22 مئی 1885 کو دنیائے ادب کا یہ عظیم انسان انتقال کرگیا ۔پہلے اسے Pantheon میں دفن گیا ۔پھر پورے قومی اعزاز کے ساتھ اسے فتح کی محراب ( Arcdetriumphe)کے نیچے دفن کیا گیا

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *