سیدنا عمر رضہ، سیرت ، سوانح،کردار اور خدمات۔نعیم الدین

سسر رسول، داماد علی، مراد نبی، فاتح قبلہ اوّل، پیکر عدل وشجاع، شہید مسجد نبوی، خلیفہ راشد، خلیفہ دوم امیرالمؤمنین رضی اللہ عنہ کا نام عمر تھا، کنیت ابوحفص، اور فاروق لقب تھا، والد کا نام خطاب اور والدہ کا نام ختمہ تھا، آپ کا سلسلہ نسب آٹھویں پشت پر حضور اکرم سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم سے ملتا ہے، آپ کا ددھیال ننھیال قریش کے معزز خاندانوں میں تھا، اور قبیلہ کے اہم مناصب انہی کے حوالے تھے.

سیدنا عمرفاروق ہجرت نبوی سے چالیس برس پہلے پیدا ہوئے، سن بلوغ کو پہنچے تو آپ کا آغاز بھی انہی مشغلوں سے ہوا جو شرفائے عرب میں رائج تھے، نسب دانی، گھڑ سواری، تیر اندازی، پہلوانی اور خطابت میں آپ نے مہارت حاصل کی، اسی زمانہ میں ہی لکھنا پڑھنا سیکھ لیا تھا، ایام جاہلیت میں جو چند لوگ لکھنا پڑھنا جانتے تھے، آپ ان میں سے ایک تھے. رواج زمانہ کے مطابق تعلیم کے بعد فکر معاش کی طرف متوجہ ہوئے اور عرب کے اہم مشغلہ تجارت کو اپنے روزگار کا سامان بنایا، تجارت کے سلسلے میں آپ نے دور دراز ممالک کے سفر کیے، اس سے آپ کو بڑے تجربات حاصل ہائے. خودداری، بلند حوصلگی، معاملہ فہمی، اوردور رس نگاہی اسی کا نتیجہ تھا، قبائل کی درمیانی رنجشوں کو اپنے غیرمعمولی فہم اور تدبر سے بہت جلد حل فرما لیا کرتے تھے.

عمر کا ستائیسواں سال تھا کہ ریگستان عرب میں آفتاب اسلام طلوع ہوا، مکہ کی وادیوں سے توحید کی صدا بلند ہونے لگی، مشرکین عرب کے ساتھ آپ کے لیے بھی یہ آواز نامانوس تھی، آپ اس پر سخت برہم ہوئے، یہاں تک کہ جس کی نسبت معلوم ہوتا کہ وہ مسلمان ہوا ہے، اس کے جانی دشمن بن جاتے، ان کے خاندان کی ایک کنیز بسینہ مسلمان ہو گئی تھی، اس کو اتنا مارتے کہ مارتے مارتے تھک جاتے، بسینہ کے علاوہ جس پر بس چلتا زدوکوب کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے، لیکن اسلام کا نشہ ہی ایسا تھا کہ جو چڑھ کر اترتا ہی نہیں تھا، ان تمام سختیوں سے ایک شخص کو بھی اسلام سے بد دل نہ کر سکے. قریش میں سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کی طرح ابوجہل بھی مسلمانوں کی دشمنی میں صف اول میں تھا، ایک دن حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسلام کو عمر بن خطاب یا عمر ابن ہشام کے ذریعے معزز کر دے، مگر یہ دولت تو ازل سے ہی سیدنا عمرفاروق رضہ کی قسمت میں لکھی جا چکی تھی، دعا نبی کی ہو تو اثر کیسے  نہیں دکھاتی، اسلام کا سب سے بڑا دشمن جانثار اور دوست ہوگیا، اللہ نے عمر فاروق کو اسلام کی نعمت سے نواز دیا تھا، ان کے اسلام لانے سےایک زلزلہ برپا ہوگیا، مشرکین ان کے گھر کے اردگرد جمع ہو کر نعرہ بازی کرنے لگے ”صبا عمر صباعمر“ عمر بے دین ہوگیا، لیکن کسے معلوم تھا کہ عمرفاروق نے اپنی زندگی کا مقصد جان لیا تھا.

سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے ایک نیا دور شروع ہو گیا، اس وقت چالیس کے قریب افراد دائرہ اسلام میں داخل ہوچکے تھے، لیکن وہ نہایت بےبسی اور مجبوری کی زندگی بسر کر رہے تھے، اعلانیہ فرائض مذہبی ادا کرنا تو درکنار اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرنا بھی خطرے سے خالی نہ تھا، اور کعبہ میں نماز پڑھنا تو ناممکن تھا، آپ نے مشرکین کو جمع کرکے بڑی جرات مندی اور بہادری سے اپنے اسلام کا اعلان کیا، کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آپ کے سامنے کھڑا ہوتا، آپ کے ماموں عاص بن وائل نے دیکھا کہ اسلام کا معاملہ تازہ ہے، کہیں مشرکین کوئی گزند نہ پہنچائیں چنانچہ انہوں نے اپنی امان میں رکھ لیا، لیکن امیر المؤمنین اسلام سے قبل اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کی مظلومیت اور بےبسی دیکھ چکے تھے، اس لیے مسلمانوں کی محبت کی وجہ سے اس امان کو ٹھکرادیا، اور عام مسلمانوں کے ساتھ مل کر مشرکین کے مصائب کو استقامت کے ساتھ سہنے کو تیار ہوگئے، اور اعلان کیا کہ اب نماز جماعت کے ساتھ کعبہ میں ادا کی جائے گی، یہ پہلا موقع تھا کہ مسلمانوں نے کعبہ میں نماز ادا کی، اس بہادری کےانعام کے طور پر دربار نبوت سے ”فاروق“ کا لقب ملا.

مکہ میں جس قدر مسلمانوں کی تعداد بڑھتی گئی مشرکین قریش کے بغض و عناد میں بھی ترقی ہوتی رہی، پہلے وہ فطری خونخواری اور جوش مذہبی کی وجہ سے اذیت پہنچاتے تھے، تو اب انہوں نے سیاسی استحصال بھی شروع کر دیا تھا، مکہ میں مسلمانوں کی زندگی اجیرن بنتی جارہی تھی، مسلمان حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت سے مدینہ کے ساتھ مختلف ممالک کی طرف ہجرت کرنے لگے، تمام مسلمانوں نے خفیہ اور پوشیدہ ہجرت کی، اس کے مقابلے میں سیدنا عمرفاروق نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت ہجرت طلب کی، اجازت ملنے پر جس شان و شوکت سے آپ نے ہجرت کا سفر شروع کیا، وہ قابل بیان ہے، آپ نے گردن میں تلوار لٹکائی، تیر نکال کر ہاتھ میں رکھے، کعبہ کے پاس آئے، سات دفعہ طواف کیا اور مقام ابراہیم پر دوگانہ نوافل ادا کیے، اشراف قریش کعبہ کے اردگرد چہ مگوئیوں میں مصروف تھے، مختلف جماعتوں کی صورت میں بٹے ہوئے تھے، آپ ہر جماعت کے پاس آتے اور فرماتے: تمھارے چہرے خاک آلود ہوں، جو چاہتا ہے اس کی ماں اسے گم کرے (بددعا ) اور جو چاہتا ہو اس کے بچے یتیم ہوں، اس کی بیوی بیوہ بنے، وہ اس وادی کے پار آکر میرا مقابلہ کرے، سنو میں مدینہ ہجرت کر رہا ہوں، کون ہے مقابلہ کو تیار، آئے میدان میں، للکار فاروقی کے سامنے سب کی بہادری دم توڑ گئی اور کوئی بھی مقابلہ کو تیار نہ ہوا۔

آپ شاہانہ انداز سے ہجرت کرکے مدینہ پہنچے ہی تھے کہ مسلمان اس کے بعد جماعت در جماعت ہجرت کرکے مدینہ میں جمع ہونے لگے، حتی کہ آقائے نامدار سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم خود ہجرت کرکے مدینہ نازل ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مہاجرین و انصار کے درمیان رشتہ مواخات قائم کیا، انصار نے اس میں جانثاری کی مثالیں قائم کر دی تھی. مدینہ میں اب مسلمان سکون و اطمینان سے عبادت کرنے لگے تھے کہ غزوہ بدر کا عظیم معرکہ پیش آیا. امیرالمؤمنین اس معرکہ میں آقائے نامدار کے لیے اپنی مدبرانہ رائے، معاملہ فہمی اور شجاعت وبہادری سے دست بازو بنے رہے، اس معرکہ میں مسلمان سرخرو ہوئے، کامیابی اور کامرانی ان کا نصیب بنی، اور کفار کو ہزیمت سے دوچار ہونا پڑا، اس معرکہ میں سرداران قریش کی بڑی تعداد گرفتار ہوئی، اس بات پر بحث ہونے لگی کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے، سیدنا ابوبکرصدیق اور دیگر صحابہ کی رائے تھی کہ انہیں فدیہ لے کر آزاد کر دیا جائے جبکہ امیر المؤمنین کی رائے تھی کہ ان سب کو قتل کردیا جائے، آپ علیہ السلام نے ابوبکرصدیق اور اکثر صحابہ کی رائے پر عمل کرتے ہوئے ان تمام کو فدیہ لے کر آزاد کردیا، بارگاہ الہی سے سیدنا عمرفاروق کی رائے کے مطابق قرآن کی آیت کا نزول ہوا”ماكان لنبي ان يكون لہ اسري حتي يثخن في الارض ،…القران

اس کے علاوہ آپ نے احد، خندق، خیبر، اور فتح مکہ جیسے عظیم معرکوں میں نمایاں خدمات سر انجام دیں.

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی وفات کے بعد آپ مسند آرائے خلافت ہوئے، اپنے دس سالہ دور خلافت میں فارس، روم، ایران، عراق، شام، بیت المقدس، جیسی عظیم سلطنتوں کو فتح کیا، وقت کے فرعونوں کی حکومت کےتختے الٹ دیے، پوری دنیا میں اسلام کا ڈنکا بجا دیا. اپنے دور خلافت میں ملکی نظم و نسق کو باقاعدہ منظم کیا، آپ کے عہد میں ملک کےتمام ضروری شعبے وجود میں آچکے تھے، آپ نے مملکت کو صوبوں اور ضلعوں میں تقسیم کیا، ہر صوبے میں بڑے عہدے دار مقرر کیے، جن میں حاکم صوبہ، قاضی، فوجی محکمہ، پولیس، افسر خزانہ، منشی، کلکٹر وغیرہ شامل تھے. ملکی و قومی مسائل مجلس شوری میں پیش ہو کر طے پاتے تھے. آپ اپنے دور خلافت میں حکام اور حکومتی ملازمین کی کڑی نگرانی کرتے تھے، بوقت ضرورت عدالت کے کٹہرے میں لاکھڑا کرنے سے دریغ نہیں کرتے تھے. آپ نے قابل زراعت زمین کے لیے نہریں کھدوائیں، زراعت کے پیشے کو فروغ دیا، عشر اور خراج کے منظم احکام جاری فرمائے، جیل خانہ اور بیت المال جیسے اہم شعبے ترتیب دیے، تعمیرات کو سرکاری طور پر ترقی دلوائی، آپ نے نئی آبادیاں قائم کیں جن میں بصرہ، کوفہ، فسطاط، موصل اور دیگر شہر شامل ہیں.

اشاعت اسلام کی لیے آپ کی خدمات قابل قدر ہیں، آپ کی دینی مساعی جمیلہ عہد صدیقی میں ہی شروع ہوگئی تھیں، آپ کے اصرار پر قرآن جو اساس اسلام، دستور اور منشور ہے، مرتب کیا گیا، آپ نے اپنے عہد خلافت میں اس کے درس وتدریس کو رواج دیا، معلمین ،حفاظ اور مؤذنین کی تنخواہیں مقرر کیں، اشاعت حدیث کے لیے بھی مشاہیر صحابہ کو مختلف ممالک کی طرف روانہ فرمایا، آپ نقل احادیث میں بڑی احتیاط فرماتے تھے، تمام ممالک محروسہ میں فقہائے کرام کو مقرر کیا، مختلف فیہ فقھی مسائل میں مجمع صحابہ سے مشورہ کرکے ایک رائے طے کرواتے تھے، مسجد نبوی کو وسعت دی، نئی مساجد تعمیر کروائیں، ان کی ضروریات کا بندوبست کروایا، حرم کی توسیع کی، حجاج کی رہائش اور آرام کے لیے مختلف انتظامت کروائے.

آپ کے عہد کا نمایاں وصف عدل و انصاف تھا. شاہ وگدا، امیر و غریب، عزیز و بیگانہ سب کے لیے ایک ہی قانون تھا، عدل فاروقی کا دائرہ کار صرف مسلمانوں تک محدود نہ تھا بلکہ ان کا دیوان عدل مسلمان، یہودی اور عیسائی سب کے لیے یکسان تھا. آپ کاعلم، فصاحت و بلاغت، قوت تحریر، برجستگی کلام، ذوق شاعری بے مثال تھا. آپ فطرتاً ذہین اور صائب الرائے تھے، آپ کی رائے کے مطابق کم و بیش بیس آیتوں کا نزول ہوا، جنہیں ”موافقات عمر“ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے، اسیران بدر، اذان، حرمت شراب، مقام ابراہیم کو مصلیٰ بنانا، اور ازواج مطہرات کے پردے سے متعلق آرا مشہور ہیں.

قربت نبی علیہ السلام کی وجہ سے آپ کو احکام میں بہت مہارت تھی، اس کے باوجود کسی مسئلہ میں الجھن ہوتی تو بلا پس و پیش صحابہ سے دریافت فرما لیتے تھے. قرآن مجید تلاوت کرتے وقت مجتہدانہ انداز سے بڑا غور و فکر فرماتے تھے، اس کی بدولت قرآن مجید سے استدلال میں بڑی مہارت تھی. آپ کے اخلاق و عادات دین محمدی کی عملی تصویر تھے. آپ کے آئینہ اخلاق میں خلوص، انقطاع الی اللہ، لذائذ دنیا سے اجتناب، حفظ لسان، حق پرستی، راست گوئی، تواضع اور سادگی کا عکس نمایاں نظر آتا تھا. جنت کا پروانہ ملنے کے باوجود آپ کا خوف خداوندی اور خشیت الہی قابل دید تھی، رات بھر عبادت، ذکر و اذکار میں مشغول رہتے، نماز میں عموما ان آیات کی تلاوت فرماتے جن میں خدا کی عظمت و جلال کا بیان ہو، ان آیات کی وجہ سے آپ اس قدر روتے کہ ہچکی بندھ جاتی.

سیدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دل میں حب رسول اور اتباع سنت رچی بسی ہوئی تھی، آپ جمال نبوت کے سچے شیدائی تھے، اس راہ میں جان ومال، آل اولادر اور عزیز و اقارب کی قربانی سے دریغ نہیں فرماتے تھے. زہد و قناعت کا پیکر تھے، دنیا طلبی، حب جاہ و مال سے طبعی نفرت تھی، آپ کی زندگی نہایت سادہ تھی، کھانے میں بغیر چھنے ہوئے آٹے کی معمولی روٹی اور روغن زیتون ہوتا تھا. خلافت کے بارگراں کے بعد نہایت محتاط ہوگئےتھے، بیت المال سے بقدر قوت لایموت لیتے تھے، فقر و فاقہ اور تنگدستی سے زندگی بسر کر لیتے تھے. نہایت متواضع شخصیت کے مالک تھے. خاکساری کا یہ عالم تھا کہ کاندھے پر مشکیزہ رکھ کر بیوہ عورتوں کے لیے پانی بھر لاتے تھے، بازار سے ان کو سوداسلف لا دیتے تھے، آپ کی زندگی رحمدلی، عفو و درگزر سے بھرپور تھی، البتہ دینی معاملات میں سختی تھی، آپ اپنے بچوں اور ازواج سے نہایت محبت کرتے تھے.

مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ایک پارسی غلام ابو لؤلؤ فیروز نے آپ سے اپنے آقا کے بھاری محصول کی شکایت کی، شکایت بے جا تھی اس لیے آپ نے کوئی توجہ نہ کی. اس پر وہ آگ بگولہ ہوا اور صبح کی نماز میں خنجر لے کر اچانک حملہ کر دیا، اور مسلسل چھ وار کیے، زخم ایسا کاری تھا کہ آپ اس سے جانبر نہ ہوسکے، آخری وقت میں اہم وصیتیں کیں، تین دن اسی کشمکش میں رہ کر محرم کی پہلی تاریخ ہفتہ کے دن 24 ھ کو اسلام کا عظیم ہیرو واصل بحق ہوا اور اپنے محبوب آقا کے پہلو میں ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سوگیا.

نعیم الدین
لکھنے پڑہنے والا ایک ادنی طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *