نقد کی نزاکتیں

کہنے کو دسیوں باتیں کہی جاسکتی ہیں.
لتاڑنے کو پچھتر نکات ڈھونڈے نہیں بلکہ منتخب کئے جاسکتے ہیں.
جواب میں قلم کے لام سے آپ کی دستار ہی نہیں تہبند کے بھی بل کھول سکتا ہوں
بدلے میں لفظ کو گرز بناکر اور حرف کو چٹان بناکر تمہارے خود ساختہ معیارات کو پیس کر رکھ سکتا ہوں.
میرے لفظی ذخیرے کے گوداموں کے پچھلے کمروں میں وہ لفظ ابھی موجود ہیں جو اگر میں جھاڑ جھنکار کر معمولی درجے کے زہر میں بجھاکر بھی تم پر پھینکوں تو تمہارے شبستانوں کی پریاں بھی ان کا تیکھا پن کم نہیں کرپائیں گی.
ابھی میرے ترکش میں وہ تیر بھی رہتے ہیں جو تمہاری آتی نہیں گئی نسلوں کو بھی اپنی پیدائش پر شرمندہ کرسکتے ہیں
جو کچھ ایک میری ذات اور لباس کے حوالے سے مذہب کے نام پر بپا رہا اس پر سکوت بھی سسکیاں بھرا کرے گی اور کلام بھی دشنام کے بغیر مہلک ہتھیار بناکر پیش کرسکتا ہوں.
لیکن…….
مرشد نے کہا تھا.
شاد تنقید کا جواب کبھی نہیں دینا تنقید تیری خامیوں کی گپھا میں اجالے کی کرن داخل کرتا روزن ہے.. تنقید کی روشنی میں اپنے عیوب کو ڈھونڈا کرو. تضحیک اور تحقیر البتہ اپنے کرنے والے کے خون کا تعارف ہے تحقیر اور تضحیک کا واحد جواب ایک قہقہہ ہے.
رعایت اللہ فاروقی صاحب کو استاد مانتا ہوں کیوں مانتا ہوں اس کی وجہیں بہت ہیں ان کے ہاں حاضری ہوئی. زندگی میں پہلی بار ان کا غصہ دیکھا ان کی ڈانٹ سنی. تنقید کی انہوں نے. ان کی تنقید باجواز تھی ان کا نکتہ اعتراض مدلل تھا. کہنے لگے آپ کا لباس جب تک حدود اللہ کو توڑتا نہ ہو مجھ سمیت کسی کو حق حاصل نہیں کہ اس پر نکتہ چیں ہورہے. مجھے آپ کے لباس کے غیر شرعی ہونے تک اس پر تفہیم کا حق حاصل نہیں. آپ تھری پیس کیا سفاری بھی اپنے شوق سے پہنیں گے مجھے ہرگز اعتراض نہ ہوگا.
لیکن
تمہاری نسبت مدرسے سے ہے اور یہ نسبت تم پر کچھ ذمہ داریاں عائد کرتی ہے. تم درس نظامی کی فراغت رکھتے ہو. اور اہل مدرسہ کا لباس وہ نہ تھا جو تم نے آج زیب تن کیا تھا. بلکہ وہ تھا جو تم پہنتے آرہے ہو. لباس آپ کی طبقاتی شناخت کا ایک واضح نشان ہوتا ہے. #مکالمہ کا مقصد مذہبی اور غیر مذہبی افکار کے مابین گفت گو کو فروغ دینا ہے اور آپ بہرحال مدرسے سے فراغت رکھنے کے ناطے مذہبی حیثیت رکھتے ہیں. آپ کے لباس کے انتخاب سے یہ پیغام ملا ہے گویا آپ اپنا تشخص غیر مذہبی فرد کے طور پر کررہے ہیں. یہ نرم ترین لفظوں میں بھی جھکاؤ کا تاثر دے رہا ہے. جب آپ ایک مرتبہ دستبردار ہونا شروع کرتے ہیں تو آغاز تو بہت معمولی چیزوں سے ہوتا ہے لیکن یہ سلسلہ فکری سرنڈر پر جا کر رکتا ہے۔ ہم حالیہ عرصے میں فیس بک پر ہی اس سرنڈر کے کئی مظاہرے دیکھ چکے۔ اگر کوئی شخص میرے خیالات کو اس شرط کے ساتھ قبول کرنا چاہتا ہے کہ میں اپنی وضع قطع اس کے لئے تبدیل کروں تو ایسی قبولیت سے خدا کی پناہ مانگی جا سکتی ہے۔
حافظ صفوان چوہان صاحب کی موجودگی میں فاروقی صاحب نے ان کے بارے بتایا کہ سرکاری ادارے میں اعلی افسر ہیں عمر کے اڑتالیسویں سال گولڈن ہینڈ شیک لینے پر اس لئے مجبور ہیں کہ لباس پر سمجھوتا نہیں کررہے ہیں اگر حافظ صاحب آج تھری پیس کا استعمال شروع کرلیں تو ان کو کچھ عرصہ میں ترقی دے کر اگلے عہدے پر فائز کردیا جائے. لیکن ان کو اپنا تشخص عزیز ہے کہ مملکت میں اہل مذہب کا لباس یہ نہیں ہے…
میں سوچتا رہ گیا کیا واقعی یہ وہی حافظ صفوان ہیں جن پر تبرا کئے بغیر اہل مذہب کی نماز قبول نہیں ہوتی.
گرچہ میرا لباس اور میرا یہ اقدام جن وجوہات کی بناء پر تھا وہ فکری یا نظریاتی قطعا نہ تھیں. جن کا ذکر اس نان اشو کے اشو بن جانے کے موقع پر ثانوی حیثیت اختیار کرگئیں. لیکن ادب استاد مجھے اس کی اجازت نہیں دیتا کہ اب میں وضاحت در وضاحت کے طولانی اور بدمزگی پر منتج سلسلے کا حصہ بنوں. حضرت فاروقی صاحب کے لفظ لفظ سے اتفاق کرتا ہوں اور صرف ان دوستوں تک معذرت اور شکرگزاری کے احساسات پہنچانا چاہوں گا جو تنقید اور تضحیک کے فرق کو روا رکھتے ہوئے مکالمہ کے خواہاں ہیں.
رہی بات نامناسب زبان والوں کی تو یہ میرے خیر خواہ ہیں کیونکہ
١..تلخابہ حیات کے جھمیلوں میں یہ مسخرے قہقہے کا باعث بنتے ہیں ان کی ذہنی حالت اور آہ و بکا بے اختیار قہقہے پر مجبور کرتی ہے
٢..ذہنی سطح کی جانچ ہوجاتی ہے جس سے حلقہ احباب کا گند صاف ہونے میں مدد ملتی ہے
٣..اچھی تربیت والے ان کا لب و لہجہ دیکھ کر ہماری طرف آتے ہیں اور مذہب کے نرم لہجے سے واقف ہوتے ہیں
٤..وہ نیکیاں جو ہم اپنی کاہلی کی بناء پر نہیں کرپاتے یہ سادہ لوح ہمارے نامہ اعمال میں تھوک کے حساب سے درج کرجاتے ہیں..
شاد مردانوی

شاد مردانوی
شاد مردانوی
خیال کے بھرے بھرے وجود پر جامہ لفظ کی چستی سے نالاں، اضطراری شعر گو

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *