منٹو کنہیا اور میں!۔۔۔ عمیر فاروق

  ہم کیا چاہتے آزادی-

نو فروری2016 کو دہلی کی جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں ایک تقریب کے دوران لگنے والےاس نعرے کی گونج اور اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات سے ابھر کر آنے والے سٹوڈنٹ لیڈرز میں کنہیا کمار کا نام سر فہرست ہے۔ کنہیا اس واقعے کے وقت جے این یو کی سٹوڈنٹ یونین کا منتخب صدر تھا۔ اسے اس نعرے کی پاداش میں بغاوت کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔ کنہیا کی گرفتاری کے دوران جے این یو کی سٹوڈنٹ یونین نے ہڑتال کا اعلان کردیا جس کے نتیجے میں یونیورسٹی عملی طور پر مفلوج ہو کر رہ گئ- 2مارچ 2016 کوکنہیا حتمی ثبوتوں کی غیر موجودگی کی بنیاد پر ضمانت پر بری کر دیا گیا۔ 3مارچ کو جے این یو  کی سٹوڈنٹ یونین نے  کنہیا کی رہائی کی خوشی میں ایک استقبالیے کا اہتمام کیا۔ کنہیا نے اس موقع پر ایک شاندار تقریر کی جس کا آغاز اس نے کچھ نعروں سے کیا, جن میں سرفہرست وہی نعرہ تھا۔

 

‘ہم کیا چاہتے آزادی’ 

 نعرہ تو مہذ بہانہ تھا اصل مسئلہ اس تقریب کا موضوع تھا یعنی ‘افضل گرو کی پھانسی’۔ وہی افضل گرو جسے بھارتی سپریم کورٹ نے واقعاتی شواہد کی بنیاد پر یہ کہہ کر تختہ دار کی جانب جھونک دیا کہ اس کی پھانسی بھارتی عوام کے مشترکہ شعور کی تسکین کے لیے ضروری ہے۔ اس فیصلے اور اس پر عملدرآمد میں دکھائی جانے والی غیر معمولی پھرتیوں پر بھارتی حکومت کو سول سوسائٹی کی جانب سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ موضوع بی جے پی اور اس کے بھکتوں کے لیے درد سر بن گیا۔ ایسے میں جب جے این یو والوں نے اس موضوع کو زیر بحث لانے کی کوشش کی تو بی جے پی نے وہی ردعمل دکھایا جو دنیا بھر کی بنیاد پرست طاقتوں کا مشکل سوالوں کے اٹھنے پر مشترکہ رد عمل ہے، اور وہ ہے ان سوالات کو بزور بازو دبانے کی کوشش کرنا۔ مگر ان کمبختوں کو صدیوں اور قرنوں کے سبق کبھی یاد نہیں ہوتے کہ سوال صرف اور صرف جواب کی لحد میں ہی  دفنائے جا سکتے ہیں۔ سوال اٹھانے والوں کی قبر میں سوالات کو دفنانے  کی کوشش نہ دنیا کی معلوم تاریخ میں کبھی کامیاب ہو سکی اور نہ اس بار ہوئی، بلکہ الٹا لینے کے دینے پڑ گئے۔ یعنی وہ کنہیا جس کا اس واقعہ سے قبل بطور سٹوڈنٹ یونین لیڈر سب سے بڑا مسئلہ یہ تھا کہ یونیورسٹی ہاسٹل سے کھٹملوں کا خاتمہ کیوںکر کیا جائے وہ راتوں رات میڈیا سیلیبرٹی بن گیا۔

 کنہیا کی رہائی کے بعدبھارتی میڈیا اس کے درپے ہو جاتا ہے اور کنہیا کےخلاف ایک منظم مہم شروع ہو جاتی ہے جس کا مقصد کنہیا پر غداری کے ٹھپے کو دوام دینا ہے۔ اس دوران کنہیا مختلف فورمز پر جا کر اپنا موقف عوام و خواص تک پہنچاتا رہا۔ اسی میڈیا فرینزی کے دوران کنہیا دیپک چورسیا کے شو میں جاتا ہے جہاں دیپک کنہیا سے پہلا سوال کرتا ہے کہ،

‘کس سے آزادی چاہیے آپ کو؟’

 جس پر کنہیا بڑے اطمینان سے اسے جواب دیتا ہے،

‘مجھے آزادی چاہیے ،غریبی سے ،مہنگائی سے ، بےروزگاری سے، جہالت سے، جاتی واد سےبھارت کو لوٹنے والوں سے، آر ایس ایس سے اور ہتیا چار سے۔’

کنہیا کے اس جواب پر دیپک سیخپا ہوجاتا ہے اور چنگھاڑتے ہوئے اس سے اصل سوال کر بیٹھتا ہے کہ،

‘آپ  کو لگتا ہے کشمیر غلام ہے؟’

کنہیا ایک بار پھر پرسکون انداز میں کہتا ہے،

‘مجھے لگتا ہے کہ میں غلام ہوں۔’

 کنہیا کےیہ جملے سن کر مجھے منٹو کے چند جملے یاد آگئے جو اس نے ‘مرلی کی دھن’ نامی  ایک شخصیتی خاکے میں  لکھےتھے-

‘ہندوستان آزاد ہو گیا تھا۔ پاکستان عالم وجود میں آتے ہی آزاد ہو گیا تھا  لیکن انسان ان دونوں مملکتوں میں غلام تھا۔ تعصب کا غلام—مذہبی جنون کا غلام۔ حیوانیت و بربریت کا غلام۔’

منٹو اور کنہیا کے یہ الفاظ بظاہر 70 سال پہلے آزاد ہونے والی دونوں ریاستوں کی عام عوام کے حالات کا ایک مناسب بلکہ احسن تجزیہ ہیں۔ یعنی اگر ہم غلطی  سے اپنے سمارٹ فون کی سکرین سے آنکھ اٹھا کر دیکھیں تو غربت اور مہنگائی سرحد کے اس طرف بھی معصوم بچوں کو ویسے ہی بکنے اور مرنے پر مجبور کیے ہوئے ہے جیسےسرحد کے اس پار، جہالت اور تعصب سرحد کی دونوں جانب اپنے اگلے مشال اور اخلاق کی تلاش میں سرگرداں ہیں، لوٹنے والوں کی تجوریوں کی چابیوں کاوزن ہے کہ بلاتفریق سرحد بڑھتا ہی جا رہا ہے اور دونوں اطراف کے کنہیا اور منٹو اپنے آپ کو یہ کہنے پر مجبورپاتے ہیں کہ، 

‘مجھے لگتا ہے کہ میں غلام ہوں’

 منٹو بظاہر منوں مٹی تلے دبنے سے بہت پہلے ہی اپنے معاشرے کی بے حسی کے ہاتھوں مر چکا تھا لیکن اسکی تحریریں ہیں کہ آج بھی استحصالی قوتوں کی نیندیں حرام کیے ہوئے ہیں، افضل گرو کو مارنےوالوں نے ایک گرو مار کر انگنت کنہیا پیدا کر دیے۔ اخلاق حسین اور مشال خان کو تو یہ سمجھنے کی مہلت بھی نہ مل پائی کہ ان کا جرم کیا ہے ۔ باقی بچا کنہیا تواس عقل کے اندھے کو یہ جو سوال پوچھنے کا لاعلاج عارضہ لاحق ہو گیا ہے سو اسے بھی کوئی نہ کوئی بھکت کسی دن منزل مقصود تک پہنچا ہی دے گا۔

 مگر صاحبو! ان کے اس احساس غلامی اور اس کے نتیجے میں اٹھنے والے سوالات کو مارنا کسی معاشرے، کسی حکومت، کسی ہجوم، یا کسی بھکت  کے بس کی بات نہیں کیونکہ میں نے اپنے آپ کو لاکھ توجیہات پیش کیں بہت سمجھایا لیکن پھر بھی یہ کہنے پر مجبور ہوں کہ،  

‘مجھے بھی لگتا ہے کہ میں غلام ہوں’

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *