محبت ایسا دریا ہے۔۔۔۔۔اُمِ رباب

محبت خدا کا وصف ہے، یہ وہ طاقت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰﷺ کی محبت میں یہ کائنات تخلیق کی یعنی کائنات کی تخلیق کی بنیاد محبت ہے۔محبت ایک لفظ نہیں ایک عملی جذبہ ہے۔اللہ اپنے بندوں سے محبت کرتا ہے بندے خدا سے محبت کرتے ہیں۔ہم اپنے والدین، بہن بھائیوں، دوستوں ،اولاد، اور جیون ساتھی سے محبت کرتے ہیں اور جواب میں ان سے محبت پاتے ہیں۔محبت کا جذبہ تو جانوروں میں بھی ہوتا ہے۔لوگ اپنے
پالتو جانوروں سے محبت کرتے ہیں تو جانور بھی اپنے مالک سے محبت کا اظہار کرتا ہے۔

محبت محض زبانی اظہار کا نام نہیں،محبت خیال رکھنے کا نام ہے۔ہم جن سے محبت کرتے ہیں ان کی چھوٹی چھوٹی باتوں اور ضرورتوں کا خیال رکھتے ہیں ،یہی محبت ہے۔

کوئی بھی شخص مرد ہو یا عورت ،جب عملی زندگی میں داخل ہوتا ہے تو اس پر ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں اور ان سے جڑے رشتے ان سے توقعات بھی وابستہ کر لیتے ہیں۔ان کی توقعات کی تکمیل، ذمہ داری کا احساس اور ان سب کی محبت مل کر انسان کو مسلسل مصروف کر دیتی ہیں۔

مرد ہو یا عورت جب معاشی ضرورتیں پوری کرنے میدان عمل میں آتے ہیں تو خود کو یکسر فراموش کر دیتے ہیں۔ورکنگ ویمن پر ذمہ داریوں کا بوجھ نسبتازیادہ ہوتا ہے۔یہی حال گھریلو خواتین کا ہوتا ہے وہ بھی صبح سے شام تک گھر کی ذمہ داریاں نبھاتی ہیں لیکن خود کووقت نہیں دیتیں یا سمجھ لیں ٹائم مینیج نہیں کرتیں۔یعنی خود سے جڑے تمام رشتوں کی محبت میں ہم اپنے آپ سے محبت کرنا بھول جاتے ہیں۔

جوں جوں وقت گزرتا ہے رفتہ رفتہ یہ ذمہ داریاں ہمیں بوجھ لگنے لگتی ہیں، ہم روٹین سے اکتا جاتے ہیں،ہم مشین کی طرح کام کئے چلے جاتے ہیں،نتیجہ کیا ہوتا ہے،ہم غصہ کرتے ہیں،دوسروں پر چیختے چلاتے ہیں،لڑنے کے بہانے ڈھونڈتے ہیں،اپنے پیاروں کو کوالٹی ٹائم نہیں دیتے اور یوں ان سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اپنی ہستی دوسروں کے لئے ہی نہیں ہمارے اپنے لئے بھی اتنی ہی اہم ہے۔ یقین جانئے محبت کی ابتدا خود سے محبت کرنے سے ہوتی ہے۔

انسان کو سب سے پہلے خود سے محبت کرنا سیکھنا چاہئیے۔خود سے محبت کرنے کا مطلب خود غرضی ہر گز نہیں،اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ دن کے چوبیس گھنٹوں میں سے کچھ وقت روزانہ خود کو بھی ضرور دیں۔

یہ وقت پانچ منٹ ہوں،دس یا پندرہ منٹ یا ایک گھنٹہ مگر وہ وقت مکمل طور پر صرف آپ کے اپنے لئے ہو۔یہ ایک گھنٹہ دن کے چوبیس گھنٹوں کا محض پانچ فیصد ہے۔یعنی دن بھر میں سے صرف پانچ فیصد وقت اپنی ذات کے لئے مختص کریں۔گھریلو خواتین بھی یہ ٹائم بہت آسانی سے خود کو دے سکتی ہیں۔اس ایک گھنٹے میں آپ اپنی مرضی کا کوئی بھی کام کریں،تمام پریشانیوں اور الجھنوں کو بالکل بھلا دیں،جانتی ہوں مشکل ہوتا ہے مگر یقین کیجیئے نا ممکن نہیں۔

کوئی کتاب پڑھیں، کتابیں پڑھنے والے بھی بعض اوقات ذہنی سکون کے ساتھ کتابیں نہیں پڑھا کرتے،کوئی فلم دیکھیں، موسیقی سے لطف اندوز ہوں،کوئی مشغلہ اپنائیں جیسے پینٹنگ،رائٹنگ وغیرہ ۔ یہ ایک گھنٹہ دن بھر میں سے کوئی بھی ہو سکتا ہے۔اس ایک گھنٹہ میں آپ ایکسرسائز کے لئے بھی وقت نکال سکتے ہیں۔ایکسرسائز کو ہم اپنی زندگی میں کوئی اہمیت نہیں دیتے۔مرد اسے لگژری سمجھتے ہیں اور خواتین تو یہ بات سننے کو ہی تیار نہیں ہوتیں۔ورزش محض وزن کم کرنے کے لئے نہیں ہوتی،یہ بھی ہماری اور دیگر ضرورتوں جیسی ایک ضرورت ہے۔ورزش کرنا مشکل لگتا ہے تو یوگا کریں، چاہے آدھا گھنٹہ ہی کریں،میڈی ٹیشن (Meditation)کریں۔

یہ ایک گھنٹہ خود سے محبت کے لئے نکالیں ،یقین جانیں یہ خود غرضی ہر گز نہیں۔خود سے محبت کرنے کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں۔زندگی ایک مسلسل سفر ہے کوئی ریس نہیں جس میں ہار جیت کا کوئی امکان نہیں۔

اس بات کو ایک دلچسپ مثال سے سمجھئے کہ اگر آپ کو بہت سی نارنگیاں دی جائیں کہ ان سے جوس نکالیں تو ان سے نارنگی کا جوس ہی نکلے گا سیب کا ہر گز نہیں۔یعنی یہی بات انسان پر بھی لاگو ہوتی ہے جو اس کے اندر ہوتا ہے وہی وہ دوسروں کو لوٹاتا ہے۔

یوگا،ورزش،میڈی ٹیشن یا اپنی مرضی کا کوئی بھی مشغلہ اپنانے سے آپ توانا محسوس کرتے ہیں ۔آپ کے اندر توانائی کے ساتھایک خوشی کی کیفیت طاری ہوتی ہے۔جب آپ اندر سے توانا اور خوش ہوں گے تو ہر کام ،ہر رشتے میں خوشی اور محبت خود تلاش کر لیں گے۔ہر چیز آپ کو مثبت نظر آئے گی۔تکلیفوں،پریشانیوں اور الجھنوں کے حل آسانی سے نکال پائیں گے۔دوسروں سے الجھے بغیر مسائل پر قابو پا سکیں گے۔یعنی جب خود سے محبت کریں گے ،پر سکون ہوں گے تو دوسروں کو بھی محبت بانٹیں گے۔یقین جانئے آپ کا خود سے محبت کا رشتہ آپ سے جڑے تمام رشتوں سے محبت کی بنیاد ہے۔

محبت کیجئے، محبت بانٹئے۔۔آخر میں تمام محبت کرنے والوں کو ہیپی ویلنٹائن ڈے۔

بشکریہ https://www.easterntimes.pk

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *