11 ستمبر 2001 کو کیا ہوا تھا۔

11 ستمبر 2001 پیر کا دن تھا۔ امریکہ کی بدقسمتی کا سورج طلوع ہوا۔ امریکن شہری معمول کے مطابق ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے دفاتر میں موجود تھے۔ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ 7:59 منٹ پر امریکن ایئر لائن فضا میں بلند ہوئی 52 مسافروں کو لے کر بوسٹن سے لاس اینجلس کے لیے اڑان بھری۔

8:19 منٹ پر طیارے کے عملے نے اطلاع دی کہ جہاز کو ہائی جیک کرلیا گیاہے کسی کو معلوم نہ تھا آگے کیا ہونے جارہا ہے، مسافر پریشان تھے۔ ڈر اورخوف کا عالم تھا، ہر طرف پریشانی پھیلی ہوئی تھی۔

ٹھیک 21 منٹ بعد طیارہ نیویارک کی فضا میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے قریب نمودار ہوا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرا گیا۔ ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ چیخنے کی آوازیں گونجی، لوگوں نے عمارت سے چھلانگیں لگانا شروع کردیں۔ کوئی زندہ بچا اور کوئی دنیا سے کوچ کر گیا۔ ٹھیک 23 منٹ بعد 9:03 منٹ پر ایک اور طیارہ ٹکراگیا۔ ہر طرف دھواں ہی دھواں پھیل گیا سمجھ نہیں آرہا تھا آخر امریکہ  کے ساتھ کیا ہورہا ہے۔

ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے 370 کلومیٹر کی دوری پر ایک اور طیارہ ہائی جیک ہونے کی اطلاع ملی۔ طیارے میں 64 مسافر تھے۔ منزل لاس اینجلس تھی۔ شک یقین میں بدلتا گیا۔ دہشت گرد طیارے کے مسافروں کو مارنے لگے۔ بچے، جوان ،بوڑھے رونے لگے مگر دہشت گردوں نے سن کے ان سنی کردی۔

9:37 منٹ پر طیارہ شہر واشنگٹن ڈی سی پینٹاگون کی عمارت سے ٹکراگیا۔ طیارہ پاش پاش ہوگیا۔ عمارت گرگئی۔ مگر دہشت گردی کی سوئی ابھی چل رہی تھی۔

 

10:07 منٹ بعد یعنی پینٹاگون حملے کے ٹھیک آدھے گھنٹے بعد چوتھا ہائی جیک طیارہ 44 مسافروں کے ہمراہ پینسلوینا کے سمندر کی فضا میں تباہ کردیا گیا۔امریکہ  کو تاریخی دھچکا لگا۔ بعد ازاں القاعدہ نے حملوں کی ذمہ داری قبول کی۔ ان دہشت گرد حملوں کی تباہی میں 3000 سے زائد اموات ہوئیں.یہ حادثہ امریکہ  میں سولہ برس قبل دنیا کو دہلادینے والی ہولناک دہشت گردی آج 11 ستمبر کے دن پیش آیا تھا۔جب  ٹوئنز ٹاور کی تباہی ہوئی۔اس واقعے کے بعد امریکہ  نے مسلمانوں کو دہشت گردی کی نظر سے دیکھنا شروع کردیا۔ اس واقعہ کے بعد امریکہ  میں مقیم مسلمانوں کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

11 ستمبر 2001 کو نیو یارک پر ٹوٹنے والی قیامت کی مبینہ ریہرسل کئی سال پہلے شروع کردی گئی تھی۔1991 میں ریلیز ہونے والی فلم ٹرمینیٹر ٹو میں نائن الیون کے حملے کے بارے میں آگاہ کردیا تھا۔1998 کو فلم (گاڈ زلہ) میں بار بار نائن الیون کو خطرے کی علامت دکھایا گیا۔2001 کے آغاز میں آنے والا گیم (ورلڈ ٹریڈ سینٹرڈیفینڈر) میں جو کچھ دکھایا گیا، 11 ستمبر کو حملہ اسی طرح ہوا۔ لیکن کیا کہیں خیالی کہانیاں مستقبل کا واقعہ پہلے ہی بیان کرچکی تھیں۔

جنید شاہ سُوری
یہ لڑکا جامعہ وفاقی اُردو یونیورسٹی شعبہ صحافت میں ماسٹر لیول کا طالب علم ہے۔ قلم نچوڑ کر لکھنا چاہتا ہے۔انوسٹیگیٹو رپورٹنگ اور انٹرویوز لینے کا شوق رکھتاہے۔صحافت کے طالب علم ہونے کی وجہ سے سوشل میڈیا سے گہرا تعلق ہے ، جیو ٹی وی، اور دیگر ویب چینلز کے ساتھ ایک سال کام کرنے کا تجرُبہ رکھتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *