ٹرمپ : ایران اور سعودی عرب۔۔۔۔ شہزاد سلیم عباسی

ٹرمپ نے آتے ہی جن نکات پر کام کیا ان میں

1- عیسائیت کو ملک کا سرکاری مذہب بنانا اور سرکاری سکولوں میں بائبل کی تعلیم کو لازمی کرانا

(2)ایران سے ایٹمی معاہدہ ختم کرنا

(3) یروشلم کو اسرائیل کی راجد ھانی تسلیم کرنا

(4) قدامت پسندوں اور یروشلم لاء سے فارغ ججوں کو ہی امریکی سپریم کورٹ کا جج لگانا

(5) امریکہ میں موجود مسلمانوں کے لیے علیحدہ قوانین بنائے جائیں گے جس میں انکی خصوصی نگرانی ، مساجد کی نگرانی اور مسلم تعلیمی اداروں کی نگرانی کرانا

(6) مشرق وسطی کے جو ممالک امریکی مفادات کا تحفظ نہ کریں انہیں بزور طاقت  آمادہ کرنا اور فوجی آپریشن اختیارکرنا

(7) امریکی مسلم لاء تنظیموں کوبین الاقوامی فنڈ پر خصوصی ٹیکس کا نفاذکرنا

(8) امریکی دینی اداروں و مسلم تنظیموں پر مخصوص پابندیوں کا اطلاق کرنا اور اس حوالے سے پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کو خصوصی اختیارات دینا

(9) یورپی یونین سے برطانیہ کے اخراج کی حمایت کرنا

(10) نیٹو کو فرسودہ قرار دے کر تحلیل کرنے کا اعلان کرنا

(11)اقوام متحدہ کو غیر اہم اور تفریح کلب قراردے کر آزادانہ جنگی پالیسیاں ترتیب دینے کا اعلان

(12) گریٹر اسرائیل کے قیام کے لیے معاشی ، سیاسی، فوجی اور ہر قسم کا کھلا تعاون جاری کرنا اور

(13)آزاد فلسطین کی حمایت کرنے والے ممالک کے لیے خارجہ اور معاشی پابندیاں عائد کرناشامل تھے ۔

مذکورہ بالا ٹرمپ کے نکات میں سے کچھ میں تو وہ بزور طاقت کامیاب رہا اور بعض میں اسے پسپائی اور ہر طرف سے شرمندگی کا سامنا کر نا پڑا۔ حقیقت بڑی دلچسپ اور یکسر مختلف ہے کہ ان 13میں سے صرف دو نکات حقیقت احوال کا پتہ دیتے ہیں اور باقی ماندہ الفاظ کا گھورکھ دھندہ ہیں۔ ٹرمپ کی ذہنی بدنیتی پر مبنی دوسازشی حکمت عملیاں ہیں ۔ ایک تو مسلمانوں کے لیے ہر جگہ پر زمین تنگ کر دی جائے اور دوسرا یہ کہ فلسطین میں ہمیشہ بد امنی کی موجودگی کے لیے اسرائیل کی مکمل حمایت اور اسکی فلسطین میں غیر قانونی آبادکاری کے لیے اسرائیل کا ڈنکا پوری دنیا میں بجانا ہے۔اور یہ کس قدر باعث تشویشناک اور شرمناک صورتحال ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام تر مخالفتوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کو ہوا میں اچھالتے ہوئے گولان ہائٹس پراسرائیل کا قبضہ اور اسکی حاکمیت کو تسلیم کیا جسے عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے قبضہ میں لیا تھا۔ ٹرمپ نے گولان پہاڑیوں پر اسرائیلی حاکمیت کے صدراتی دستاویز پر بھی دستخط کر دیے ۔اور مسلمانوں کے لیے نفرت کے نشان نیتن یاہو کواس غیرقانونی و فطری عمل پر تعریف اسناد بھی دیں۔

حالیہ دنوں میں بھارت اور امریکہ جارحانہ انداز میں اپنے اپنے نام نہاد عزائم کی تکمیل کے لیے سر دھڑ کی بازی لگا رہے ہیں۔ امریکہ چونکہ superiority complexکا شکار ہے اور طاقت کے استعمال سے بخوبی واقف ہے اس لیے وہ کچھ زیادہ ہی آج کل مضطرب اور سرگرداں ہے۔ بھٹو کے اسلامک بلاک بنانے کے ارادے سے لے معمر قذافی ، صدام حسین ،یاسر عرفات اور شاہ فیصل کی عبرت ناک انجام تک اور کمیونزم، سیکولزم ، کیپٹل ازم اور خلافت عثمانیہ سے کرہ ارض کے گلوبلائزیشن ہونے تک اور پھر روس افغانستان اور پاک بھارت جنگوں سے لیکر امریکہ کے عالمی ٹھیکیدار بننے تک دھندلی تاریخ کے اوراق ہر سو پھیلے ہیں۔ اور اب امریکہ ایک بار  پھر سے اپنی کم عقلیوں،خر مستیوں اور خواہ مخواہ کی دھینگا مشتیوں اور سب سے طاقت ور بننے کے زعم میں اپنی ساخت کھورہا ہے۔ اب اقوام عالم نئے سورج ،نئے زاویوں اور نئے ڈگرکی تلاش میں ہیں۔ امریکہ دنیا کے مختلف حصوں بشمول کشمیر، فلسطین ،شا م ، عراق، یمن ، چیچنیا، برما ، بنگلہ دیش اور دوسرے حصوں میں زیادتیوں ، در اندازیوں اور مسلمانوں پر کو ہ گراں مسلط کرنے پر یقین رکھتا ہے جس کی اس دقیانوسی سوچ کی بدولت اب چائنہ ،روس اور کچھ دوسری ایٹمی طاقتیں اور معیشتیں بھی اس سے اکتا چکی ہیں۔

ا مریکہ اور عالمی ٹھیکیدار اپنے گھناؤنے مفادات کے حصول کے یے(خاکم بدہن) پوری دنیا کا امن خراب کرنے کے درپے ہیں اوربالخصوص تیل والے ممالک ، مشرق وسطی ، سارک ممالک اور دوسرے غریب ممالک پر اپنا رعب و دبدبہ قائم و دائم رکھنے کے لیے آئے روز مسائلستان کا ہمالیہ کھڑا کرتے ہیں ۔

یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ امریکہ جان بوجھ کر کشمیر اور فلسطین کے معاملات کو اقوام متحدہ کے چارٹر سے دور رکھ کرپوری دنیا اور خاص کر مسلم امہ کے زخم ہر ے کرتا رہتا ہے۔ جب تک کشمیر اور فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوتا تب تک نقص امن کا خطر ہ پوری دنیا میں منڈلاتا رہے گا اور جب تک پاکستان ، ترکی، ملائیشیااور سعودیہ مل کر اسلامی فوجی اتحاد کی طر ز پر اسلامی اتحاد بنانے کی سعی نہیں کرتے تب تک سعودیہ اور ایران ایک میز پر نہیں بیٹھ سکتے اور کشمیر، فلسطین، یمن ، عراق ، شا م اور برما وغیرہ میں امن کے قیام کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *