پاکستان کی موزہ چور فیمینسٹس۔۔۔۔علی اختر

مضمون کے شروع ہی میں عرض کرنا تھا کہ  مضمون نگار ایک غیر جانب دار معصوم سا انسان ہے جسکا لیفٹ اور رائٹ ونگ وغیرہ سے کوئی  تعلق نہیں مگر محض تحقیقی بنیادوں پر اپنا ناقص تجزیہ قارئین کے سامنے پیش کرتا ہے۔ مضمون لکھنے کا واحد مقصد اپنا نکتہ نظر پیش کرنا ہے اور اختلاف سب کا حق ہے تو کیجئے لیکن تہذیب و ادب کے دائرے میں ۔

تو صاحبو  یہ خواتین کا عالمی دن  تھا  اور پاکستانی خواتین کی جانب سے دکھائے جانے والے کچھ پلے کارڈز کی وجہ سے راقم کو یہ مضمون لکھنے کی تحریک ملی۔

یہاں یہ بات عرض کردی جائے کہ  صاحب مضمون خواتین ہی کی کیا سبھی کی آزادی کا قائل ہے اور” جو جیسے رہنا چاہے اسے رہنے دیا جائے ۔ ہمیں کیا” کے اصول پر عمل پیرا ہے لیکن معاشرہ میں موجود منافقت اسکی برداشت سے باہر ہوتی ہے تو وہ قلم بے نیام کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ  پلے کارڈ دکھانا اور “منافقت ” ان دو باتوں میں کیا ربط ہے تو جناب اسے ایک مثال سے واضح کرتے ہیں ۔ فرض کیجئے کے آج پولیس کا عالمی دن ہے اور امریکہ و یورپی ممالک کے سمارٹ اور صاف ستھری وردیوں میں ملبوس پولیس اہلکار اپنے شہریوں میں فلیگ مارچ کر رہے ہیں ۔ہاتھوں میں پلے کارڈ ہیں ۔ “پولیس آپکی حفاظت کی ضامن” ۔ یقینا ً اس عمل کو عوامی پذیرائی حاصل ہوگی ۔ اب سوچیں کہ  اسی دوران سندھ پولیس کے اہلکار راؤ انوار کی قیادت میں شہر میں فلیگ مارچ کریں اور پلے کارڈ دکھائیں “آپکی زندگی ہماری ذمہ داری ” وغیرہ تو آپکا رد عمل کیا ہوگا ۔ یقیناً  آپ یہی کہیں گے کہ  میاں تم لوگوں کا پولیس کے عالمی دن سے کیا تعلق ؟ ۔ خود کو دیکھو اور ذرا ان پر نظر ڈالو ۔  ۔۔۔ منافق کہیں کے ۔

بس یہی میرا پوائنٹ ہے ۔ مجھے پتا ہے کہ  اب بھی بہت سے لوگ میری بات سمجھنے سے قاصر ہونگے تو چلیئے آنکھیں بند کریں اور لطیف پیرائے میں تصور کریں ۔ چھوٹی سی  نیکر اور سلیولیس شرٹ میں ملبوس گوری چٹی سمارٹ سی عورت کا جو خودکار ہتھیاروں سے زومبیز کا قتل عام کر رہی ہے ۔ ہائیکنگ، سائکلنگ، سوئمنگ کرتی خواتین ۔ جینز اور چست شرٹ میں ملبوس یونیورسٹی کی چنچل طالبات جو رات کو ڈسکو میں ڈرنک کرکے تھرکتی پھڑکتی پائی   جاتی ہیں ۔ اپنے شوہروں کے شانہ بشانہ صبح جاگنگ کرتی لمبی لمبی گوریاں ۔ صاف ستھرے کچن میں اون سے پزا نکالتی یورپین ہاؤس وائف۔

کیسا لگا ؟ یقیناً ذہن ہلکا ہلکا سا ہوا ہوگا ۔ چلیں اب آنکھیں کھول دیں اور کثیف پیرائے میں ارد گرد نظر دوڑائیں ۔ چادروں میں لپٹی پانچ پانچ فٹ کی کتھئ رنگ کی موٹی موٹی چھوٹی چھوٹی مشکل سے حرکت کرتی مخلوق جو دو قدم پر جانے کے لیئے بھی رکشہ کی محتاج ہے ۔ تیل لگا کر دو چٹیاں باندھے نیلے یونی فارم پہنے سوکھی سڑی بچیاں اسکول کے بعد جن کا معمول امی کی جھڑکیاں کھانا،  منے کو سنبھالنا ہے تاکہ  فیوچر ٹریننگ بھی ہو سکے ۔ موٹر سائیکل کی سیٹ پر پیچھے پڑی موٹی سی بوری نما شے جو آگے بیٹھے شوہر کو محض بائیک کی ٹنکی پر جگہ دیتی ہے ۔ یونیورسٹی کے سامنے اسٹاپ پر کھڑی حلقے زدہ آنکھوں اور پمپل بھرے چہرے والی طالبات جو زبردستی کیوٹ نظر آنے کے لیئے بیگ کے ساتھ بھالو والا کی چین ضرور لٹکا لیتی ہیں ۔

اب ایسی چیزوں کا عورتوں کے عالمی دن کے موقع پر پلے کارڈ دکھانا بالکل ایسا ہی ہے جیسے “ماہر فلکیات” کے عالمی دن پر کھیت میں کھڑے کسان پلے کارڈز لیئے کھڑے ہوں کہ  “ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں ” ساتھ ہی امید یہ کریں کہ  انہیں بھی ماہر فلکیات سمجھا جائے گا تو “معاف کیجئے ” انکا یہ فعل منافقت کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔

اب کچھ پلے کارڈز کے میسجز کی بات کرتے ہیں تو پہلی تصویر جس پر نظر رکتی ہے چشمہ لگائے ایک “روشن آرا” “شہر بانو” ٹائپ خاتون ہیں جن کے ہاتھ میں پلے کارڈ پر درج ہے ۔

“میں بد چلن ، میں بے حیا”
راقم پورے وثوق سے دعویٰ کرتا ہے کہ  اگر آپ ان محترمہ کو “ڈیٹ” کی آفر دیں تو جواب کچھ یوں ہوگا ۔
” جانو! ہمارے ہاں بہت سختی ہوتی ہے”
یا
” امی اکیلے نکلنے نہیں دیتیں کیا کروں ؟ ”
اب اسے نری منافقت نہیں تو اور کیا کہا جائے ۔

ایک اور پلے کارڈ پر درج تھا ۔
” شادی کے علاوہ اور بھی کئی  کام ہیں ” ۔

یقین کریں کہ  اس محترمہ سے چیٹ کے دوسرے ہی ہفتے یہ نہ کہہ دے کہ ۔۔”جانو میرے پرپوزل آرہے ہیں ،کچھ کرو ”
یا
” اپنی امی کو کب بھیجوگے میرے گھر ”
تو آپ جو سزا دینا چاہیں راقم کو قبول ہے ۔

ایک اور تصویر میں دو قبول صورت سے بھی نچلے درجے کی چشمہ لگائی  خواتین پلے کارڈ دکھا رہی ہیں۔ “دوپٹہ اتنا ہی اچھا ہے تو آنکھوں پر باندھ لو ”
محترمہ ! آپکو دیکھ کرتو ویسے بھی مرد خواہش کریں گے کہ  آنکھوں پر پٹی ہی ہوتی تو اچھا تھا ۔ آپکو یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی ۔ آپ دوپٹا پہنے یا نہ پہنیں آپ با حفاظت رہیں گی بے فکر رہیں ۔

تو بھائی  لوگ یہ مظاہرہ وغیرہ مغربی عورتوں پر ہی جچتے ہیں ۔ یہاں والیاں ایسی ہرکتیں کرتے “موزہ چور” نظر آتی ہیں تو مخلصانہ مشورہ یہ ہے کہ  آئندہ فارغ وقت میں ایسے ٹائم برباد کرنے کے بجائے ” بمبئ بریانی ” بنائیں اور فیملی کے ساتھ دعوت اڑائیں ۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *