• صفحہ اول
  • /
  • اداریہ
  • /
  • افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکسن کی ہرزہ سرائی اور حقائق۔۔۔طاہر یاسین طاہر

افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکسن کی ہرزہ سرائی اور حقائق۔۔۔طاہر یاسین طاہر

افغانستان کے اندر امریکہ مختلف عسکری مسائل کا شکار ہے، 17 برس سے جاری اس جنگ میں امریکہ بوجہ وہ کامیابیاں حاصل نہ کر سکا جس کی اسے امید تھی۔ہم ان ہی سطور میں متعدد بار کہہ چکے ہیں کہ امریکہ کا اولین مقصد یہ کبھی نہیں رہا کہ وہ چند ماہ میں ہی افغانستان کو فتح کر کے یہاں نئی حکومت بنائے اور چلتا بنے۔ بلکہ اس کا اصل مقصد افغانستان کے اندر جنگ کی چنگاری سلگائے رکھنے ہے اور اس کی آڑ میں اپنے جنگی اڈے کابل اور خطے میں بنانا ہے۔امریکہ اس جنگ کے حوالے سے امریکی عوام کو اپنی ناکامیوں کا جواب دینے کے بجائے اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان کو قرار دے کر اپنی خفت مٹانا چاہتا ہے،جبکہ حقائق اس کے بالکل بر عکس ہیں۔
یاد رہے کہ گذشتہ روز افغانستان میں موجود امریکی افواج کے کمانڈر، جنرل جان نکلسن نے ایک مرتبہ پھر پاکستان پر طالبان کی حمایت کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے باہر موجود دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں سنجیدہ صورت حال اختیار کرچکی ہیں اور اس مسئلے کو فوری طور پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔افغان کے غیر سرکاری نشریاتی ادارے طلوع نیوز کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو میں جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ امریکا جانتا ہے کہ طالبان کی قیادت کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہے۔جنرل نکسن نے مزید کہا کہ ملک سے باہر موجود پناہ گاہوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے اور اس حوالے سے پاکستان اور امریکی حکومت کے درمیان نجی طور پر بات چیت کی گئی تھی لیکن ان کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔امریکی کمانڈر کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کی حمایت میں کمی آئی ہے تاہم اسے ختم ہونا چاہیے۔
ایک سوال کے جواب میں جنرل جان نکلسن کا کہنا تھا کہ افغانستان کے مسئلے کا سفارتی حل ممکن ہے لیکن ملک میں جاری فوجی کوششیں جاری رہیں گی اور امریکا افغان حکومت کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے فوجی صلاحیتوں میں اضافہ کرے گا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میری توجہ افغانستان میں جاری سرگرمیوں پر مرکوز ہیں، لیکن دیگر حکام پاکستان میں موجود ان دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کے معاملات کو دیکھ رہے ہیں۔امریکی کمانڈر کا دعویٰ تھا کہ کوئٹہ شوریٰ اور پشاور شوریٰ پاکستان کے شہروں کی نشاندہی کرتی ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ طالبان رہنما ان علاقوں میں موجود ہیں۔
خیال رہے کہ دو روز قبل امریکی کمانڈر نے کابل میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا تھا کہ طالبان کو زمینی جنگ میں کامیابی حاصل نہیں ہورہی اور ان کے پاس یہ وقت ہے کہ وہ امن عمل میں شمولیت اختیار کریں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم افغانستان میں ناکام نہیں ہوں گے، جیسا کہ اس پر ہماری قومی سلامتی کا انحصار ہے۔یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ افغانستان میں مزید ہزاروں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کی راہ ہموار کرتے ہوئے امریکا کی طویل ترین جنگ کے خاتمے کے وعدے سے مکر گئے تھے جبکہ پاکستان پر دہشت گردوں کو محفوظ ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام دہرادیا تھا۔
ہمیں اس امر میں کلام نہیں کہ خطے میں نئے عسکری و معاشی اتحاد منظم ہو چکے ہیں اور آئندہ کی علاقائی سیاسیات کا انحصار ان ہی نئے بلاکس کی معاشی و سفارتی حرکیات پہ ہو گا۔امریکہ البتہ اس نئی صورتحال سے آگاہ ہے اور وہ پاکستان پر دبائو ضرور بڑھائے گا۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ افغان طالبان کی کوئٹہ شوریٰ اور پشاور شوریٰ کا تذکرہ خبروں کی زینت بنتا رہتا تھا مگر اس لمحے یہ کہنا کہ افغان طالبان کی کوئی شوریٰ پاکستان کے کسی شہر سے آپریٹ ہو رہی ہے بالکل غلط اور لغو بات ہے۔پاکستان اس موقف کو کئی مرتبہ دہرا چکا ہے کہ افغانستان میں امن پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے اور یہ کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔امریکہ مگر بد گمانیوں کا پالتا ہے اور سازشوں کی پرورش کرتا ہے،۔اس کی تاریخ یہی ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم میں اس بات کا تکرار کیا تھا کہ وہ افغانستان سے امریکی فوجیوں کو واپس بلوائے گا مگر ٹرمپ اپنے وعدے سے مکر گئے ہیں اور مزید فوجی بھیجنے کی راہ ہموار کر تے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغانستان میں امریکی ناکامیوں کا ذمہ دار پاکستان ہے۔

ٹرمپ کے نقش قدم پہ چلتے ہوئے افغانستان میں امریکی فوج کے کمانڈر جنرل نکسن نے کہہ دیا کہ طالبان کے کئی رہنما کوئٹہ اور پشاور میں موجود ہیں، جہاں سے وہ اپنے جنگجوئوں کو ہدایات دیتے ہیں۔یہ بالکل ایک لغو بات ہے۔کسی بھی نوع کے افغانی یا پاکستانی طالبان کی کوئی شوریٰ یا گروہ پاکستان کے کسی بھی شہر میں موجود نہیں ہے۔ پاکستانی طالبان کے خلاف تو پاک فوج نے زبردست آپریشن کر کے انھیں ختم کیا ہے،جبکہ افغانی طالبان ،پاکستان کے بجائے اپنے ہی ملک میں موجود ہیں، کیونکہ افغانی طالبان کے لیے پاکستان میں کہیں بھی کوئی نرم گوشہ نہیں ہے۔ امریکہ اپنی جنگی پالیسیوں پر غور کرے کہ اس سےکہاں غلطی ہوئی ہے۔ وہ اپنی ناکامیوں کا ملبہ پاکستان پر نہ ڈالے اور نہ کسی حیلے بہانے سے اس جنگ کو پاکستان کے اندر داخل کرنے کی کوشش کرے۔

اداریہ
اداریہ
مکالمہ ایڈیٹوریل بورڈ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *