عورت مارچ اور جگت باز معاشرہ ۔۔۔ معاذ بن محمود

مورخہ ۸ مارچ خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا گیا۔ ویسے تو یہ عالمی دن پورے عالم میں منایا جاتا ہے تاہم اب کے برس پاکستانی عوام میں اس موقع پر خصوصی جوش و خروش دیکھا گیا۔ وہ جو خواتین کے مساوی حقوق کے حق میں ہیں، انہوں نے اس دن عورت مارچ کے ذریعے اپنے خیالات کا پرچار کیا۔ حقوق نسواں کے استحصال کو محض ایک ڈھکوسلہ سمجھنے والے اب تک اس مارچ میں استعمال کیے گئے کچھ پلے کارڈز کو لے کر خوب جگت بازی میں مصروف ہیں۔ 

یہ ایک حقیقت ہے کہ کل سوشل میڈیا کے توسط سے سامنے آنے والے قریب تمام ہی بینرز اور پلے کارڈ بظاہر نہایت ہی منفرد اور بولڈ ذہنیت کی عکاسی کرتے رہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ عوام الناس میں سے اکثر نے ان پیغامات کو عامیانہ سوچ سے ایک سو اسی درجہ زاویہ مختلف ہونے کی وجہ سے ٹھٹھہ اڑانے کے قابل ہی سمجھا۔ سنجیدہ سوال البتہ یہ ہے کہ کیا واقعی یہ پلے کارڈز مذاق میں اڑانے کے قابل ہیں؟

اس سوال کا جواب دینے کے لیے بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایک ایک بینر کا تجزیہ کیا جائے، جو ہم کریں گے مگر اس سے پہلے دونوں اطراف کو کچھ احساس دلانا اہم ہے کیونکہ فی الوقت دونوں فقط ایک دوسرے کو نیچا دکھانے پر تلے ہوئے ہیں۔ 

پہلی حقیقت جو ہمیں سمجھنی ہوگی وہ یہ ہے کہ کسی بھی نظریے سے اختلاف یا اتفاق کرنے کے لیے نظریے کو بذات خود جانچنا انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اسلام کی مثال لے لیجیے۔ کچھ عرصے پہلے میں نے ایک افسانہ لکھا جس میں ایک منفی کردار بچوں کا جنسی استحصال کرنے والی ایک مذہبی شخصیت کا تھا۔ یہ کلی طور پر ایک خیالی کہانی تھی جس کے ردعمل کے طور پر سوشل میڈیا کے سینکڑوں مذہبی رحجان رکھنے والوں نے میری اور میری سات سالہ بیٹی کی تصویر لے کر جانے کس کس طرح کی شرمناک خرافات لکھ ڈالی۔ یہ ہرگز اسلامی تعلیمات نہیں بلکہ اسلام کے خود ساختہ نمائیندگان کا انفرادی فعل تھا۔ اسی طرح دہشت گرد طالبان کے طرزعمل کو اسلام کا چہرہ بھی نہیں مانا جا سکتا۔ دنیا بھر میں ہم مسلمانوں کو کوئی دہشت گرد قرار دیتا ہے تو ہم اسے بتاتے ہیں کہ بھیا اسلام وہ نہیں جو یہ طالبان بتاتے ہیں۔ اسلام کو پرکھنا ہے تو قرآن پڑھو۔ 

پھر اپنے مخالف نظریات کے لیے یہ طرزعمل کیوں نہیں؟ لبرلزم کے اچھا یا برا ہونے کے لیے ہم مبشر علی زیدی کے رویے کو کیوں حجت مانتے ہیں؟ فیمنزم سے نفرت کے لیے عورت مارچ کے پلے کارڈز کیوں تلاش کرتے ہیں؟ 

ایک اور بات سمجھنے کی ضرورت ہے۔ جنوبی ایشیاء کی تقریباً تمام اقوام ہی انتہا پسند سوچ رکھتی ہیں۔ انتہا پسند سے مراد اگر زید کے مؤقف کی تائید کریں گے تو اس حد تک کہ محض اختلاف کی بنیاد پر ایک دوسرے کو واجب القتل قرار دینا شروع کر دیں گے۔ بکر کی ہاں میں ہاں ملانے والے زید کے مؤقف کے حامیوں کا نکاح باطل قرار دے دیں گے۔ یہ غیر فطری اور غیر ضروری سوچ ہے۔ آپ دیکھتے ہیں کہ اس ملک میں محض سیاسی اختلافات کی بنیاد پر “میں تحریک انصاف سے نفرت کرتا ہوں” اور “میں مسلم لیگ سے نفرت کرتا ہوں” نامی سوشل میڈیا پیجز چلائے جاتے ہیں۔ ان پیجز کے لائک کی تعداد لاکھوں ہوتی ہیں۔ ایسے ماحول میں کسی معاملے پر سنجیدہ گفتگو اور مثبت بحث کی بجائے جگتیں لگنا ایک عام سی بات ہے۔ 

ان بینرز پر تجزیے سے پہلے میں اپنے اس معاشرے کے تضادات کی جانب بھی توجہ دلانا چاہوں گا۔ نوٹ کیجیے گا کہ ہماری محفل کے مطابق ہماری گفتگو الگ ہوا کرتی ہے۔ والدین کے ساتھ بیٹھے ہوں تو اخلاقیات کا درجہ اور ہوگا، عزیز و اقارب کے ساتھ کچھ جبکہ دوستوں کی محفل میں کچھ اور۔ اسی طرح مخاطب خاتون کے ساتھ رشتے کی نوعیت بھی ہماری سوچ اور بات کرنے کے انداز پر اثرانداز ہوتی ہے۔ ہم سب اپنی والدہ سے نہایت ادب سے بات کرتے ہیں۔ بہن سے الگ طریقے سے، بیوی سے الگ اور دفتر میں کولیگ یا یونیورسٹی میں کلاس فیلو لڑکی سے الگ طریقے سے۔ پھر ہمارے معاشرے میں ٹیبوز Taboos ہوتے ہیں۔ یہ وہ حقائق ہیں جو واضح وجود تو رکھتے ہیں مگر روایات کے تحت ان پر کھل کر بات کرنا برا سمجھا جاتا ہے۔ ملک بھر میں موجود قحبہ خانے اس کی ایک مثال ہیں۔ خواتین کے پیریڈز کے بارے میں بات کرنا ایک اور ٹیبو ہے۔ خواتین کا موٹر سائیکل چلانا یا اس پر مردوں کی طرح بیٹھنا بھی برا سمجھا جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ 

اب ہوتا یہ ہے کہ چونکہ ہم ان معاملات پر کھل کر بات کرنے سے گریزاں رہتے ہیں، اور پھر جن کے بارے میں یہ بات ہورہی ہو اس کے سامنے اظہار خیال سے تو بالکل ہی یرکتے ہیں لہذا یہ معاملات واضح نہیں ہو پاتے۔ کیا کریں کہ ایسے خیالات چھپتے بھی نہیں۔ کبھی طنز تو کبھی مذاق اور کبھی اڑتی افواہ کی شکل میں سامنے آجاتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ جیسا مرد سوچتے ہوں خواتین  تک بھی بات ویسے ہی پہنچے۔ مثال سے واضح کرتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میں خواتین کا غیر مردوں سے ہنس کر یا مسکرا کر زیادہ بات کرنا نامناسب سمجھا جاتا ہے۔ اب آپ کے دفتر میں ایک کولیگ خاتون ہیں جن کا کام ہی کسٹمر ہینڈلنگ کا ہے۔ یہ کام ہی مسکراتے ہوئے بات کرنے کا ہے۔ یعنی یہ خاتون سارا دن نت نئے کسٹمرز سے پیشہ ورانہ امور پر گفتگو کرنے پر مامور ہیں۔ انہیں دیکھ کر دفتر میں موجود کئی لوگوں خاص کر جنہیں ان کے کام کے بارے میں اندازہ نہیں، یہ تاثر پیدا ہوجاتا ہے کہ یہ خاتون اس قدر باتونی ہیں کہ ہر وقت دوسروں سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔ یہ تاثر رکھنے والوں میں بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جو خاتون کے منہ پر یہی بات کہنے کی ہمت رکھتے ہوں۔ اب پہلے ایک عمومی سوچ پیدا ہوتی ہے اور پھر وہ سوچ کسی نہ کسی طرح ان خاتون تک پہنچ جاتی ہے۔ کسی وضاحت کی غیر موجودگی میں یہ خاتون ان تک پہنچنے والے اس تاثر کو کیسے سمجھتی ہیں یہ ان کی قسمت۔ ہو سکتا ہے عمومی سوچ یہ ہو کہ میڈم کس قدر بولتی ہیں مگر میڈم تک یوں پہنچے کہ میڈم کا کردار تو دیکھو کہ سب سے ہنس ہنس کر بات کرتی ہیں۔ 

ایک اور مثال پر غور کیجیے۔ آپ کے معاشرے میں یقیناً کئی لوگ ایسے ہوں گے جو ڈائیوو بس سروس میں ہوسٹس سے کبھی رشتہ نہیں کرنا چاہیں گے۔ وجہ جو بھی ہو، لیکن وہ لڑکی جو یہ محنت کر کے حلال کمانے کو تیار ہو، اس کے دل پر اپنے بارے میں رائے سن کر کیا گزرتی ہوگی؟  

ان سب باتوں کو ذہن میں رکھ کے ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان تمام منفرد معلوم ہوتے پلے کارڈز پیغامات کو پرکھا جائے اور اندازہ لگایا جائے کہ پرسوں سے زیر عتاب یہ خواتین واقعی ملامت کے قابل ہیں یا پھر جو وہ کہنا چاہ رہی ہیں اس کے پیچھے کچھ کہانیاں کچھ افکار یا کچھ واقعات ہیں۔ 

۱۔ شادی کے علاوہ اور بہت کام ہیں

ہمارے معاشرے میں لڑکی کو جس طرح بچپن سے شادی کے لیے تیار کیا جاتا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ عورت کی زندگی کا کل مقصد شادی ہی رہ گیا ہے۔ عورت چاہے جتنی تعلیم یافتہ ہی کیوں نہ ہو، سسرال نے شادی کے بعد ملازمت کروانے سے انکار کر دیا تو بات ختم۔ ایسے حالات سے دوچار ہونے والی ان خواتین کے لیے جنہوں نے خوب محنت سے اعلی تعلیم حاصل کی مگر پھر شادی کے بعد شوہر یا سسرال کی ایک ناں کی وجہ سے اسے استعمال نہ کر سکیں، یہ نعرہ اہمیت رکھتا ہے۔ 

۲۔ آج واقعی ماں بہن ایک ہورہی ہے

پہلے تو ہمیں خود سے سوال کرنا بنتا ہے کہ ہمارے مردوں کی تذلیل بھی ان کی عورتوں کی تضحیک سے منسلک کیوں ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ ایک مرد کو دوسرے مرد کو ذلیل کرنے کے لیے اس کی ماں یا بہن کے بارے میں بکواس بکنی پڑتی ہے؟ ایسے میں اگر خواتین کی جانب سے ایک منفی خرافات کو مثبت رنگ دینی کی کوشش کا جارہی ہے تو اس میں اس قدر سیخ پا ہونے والی کیا بات؟ 

۳۔ اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پر باندھ لو

حیا صرف عورت کو کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ مرد کی نظر پر پردہ کیسے ڈالا جائے؟ آپ سب کو اوریا مقبول جان کی ایکس رے پر مبنی نظریں یاد ہوں گی۔ جب ایک کرکٹ میچ کے منظر میں دیے جانے والا پیغام، گراؤنڈ، کھلاڑی، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر عورت کے سینے پر نظر ٹک کر رہ جائے تو دوستوں، کچھ نظرثانی اپنی نظر پر بھی ہوجائے؟ 

۴۔ ارینج مارچز، ناٹ میریجز

ہم جانتے ہیں پاکستان میں ارینج میرج کے نام پر کئی بار زیادتیاں بھی ہوجاتی ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پسند کی شادی ایک بہترین مستقبل کی گارنٹی نہیں لیکن ولی کی جانب سے عورت کے نکاح پر کم سے کم بھی مذہبی احکامات اور معاشرتی اقدار کا خیال کیا جانا لازم ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ارینج میرج کو یکسر رد کر دینے کی خواہش بھی نامناسب ہے تاہم اس خواہش کا پس منظر وہی زیادتیاں ہیں جن کا شکار ناپسندیدہ شخص کے ساتھ زندگی گزارنے والی کئی خواتین رہتی ہیں۔ 

۵۔ مجھے کیا معلوم تمہارا موزہ کہاں ہے؟

جرابوں کے احتساب کا آغاز کس سے کیا جائے؟ جس نے موزے اتارے ہیں بھلا اس سے بہتر کس کو معلوم ہونا چاہئے کہ کہاں اتارے ہیں۔ کیا آپ معاشرے میں ایسے مردوں کے وجود سے انکار کر سکتے ہیں؟

۶۔ دیکھ مگر کانسینٹ سے

پہلی نظر تو ویسے بھی جائز ہے لیکن پہلی نظر گاڑ دینا ذرا ناجائز۔ دیکھیے مگر اسی کو جسے آپ کی “گھوریوں” کی حدت بری نہ محسوس ہو۔ مضحکہ خیز؟ جیسی آپ کی مرضی۔ 

۷۔ ڈک پکس اپنے پاس رکھو 

اختلاف؟ مضحکہ خیز؟ واقعی؟ کیا اخلاقیات کا کوئی بھی درجہ اجازت دیتا ہے کہ آلہ تناسل کی ٹنٹناتی تصویر کسی خاتون کو بھیجیں؟ اور خاتون اگر خصوصی مردودوں کی اس عمومی حرکت پر سرعام شور مچا دیں تو پھبتیاں؟ جیسے آپ کی مرضی۔ 

۸۔ لو بیٹھ گئی ٹھیک سے

اس پیغام کے ساتھ بنائی گئی تصویر بظاہر کافی عجیب و بیہودہ سی ہے۔ میں لاکھ کوشش کے باوجود اس بینر کو سمجھنے سے قاصر ہوں۔ فیمنسٹ خواتین و حضرات سے معذرت کہ اس پیغام کی کوئی سنجیدہ توجیہ میری سمجھ سے باہر رہی۔ 

۹۔ کھانا گرم کر دوں گی، بستر خود گرم کر لو

شادی سے پہلے یقیناً آپ بھی اس بات پر متفق ہوں گے کہ کھانا ہی گرم کروانا چاہیے ناکہ بستر۔ شادی کے بعد اگر آپ ہمبستری سے انکار پر ستر ہزار فرشتوں کی لعنت پر یقین رکھتے ہیں تو جانے دیجئے، فرشتے جانیں بیوی جانے۔ میرا ذاتی اندازہ ہے کہ اگر بستر گرم نہ کرنے پر ستر ہزار فرشتے ساتھ رات لعنت میں مصروف رہ سکتے ہیں تو کھانا گرم کرنے سے انکار پر غالباً ایک لاکھ چودہ ہزار فرشتے دو رات ضرور یہ ذکر بد کرتے ہوں گے۔ بہتر نہیں کہ کھانا گرم کرنے پر اگلی رضامند ہے؟

۱۰۔ میں آوارہ میں بدچلن 

پس منظر فقط اتنا کہ کوئی مسکرا کر بات کر لے تو آوارہ بدچلن، دوپہر سے شام ہوجائے تو آوارہ بدچلن، راہ چلتے کسی چھیڑنے والے کو جواب دے دے تو عورت آوارہ بدچلن، مخالف سیاسی جماعت کے جلسے میں شرکت کر لے تو آوارہ بدچلن۔ تو صاحب، اگلی آپ ہی کے متعین کردہ اصول پر طنزاً خود اعتراف کر لے تو کیا برا؟ 

معاذ بن محمود
معاذ بن محمود
انفارمیشن ٹیکنالوجی، سیاست اور سیاحت کا انوکھا امتزاج۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *