بھارت کا شکتی شالی لال ٹماٹر۔۔۔سید عارف مصطفٰی

بھارتی فلموں میں ہم نے کبھی کبھی اک تہوار کے موقع پہ بلندی پہ لٹکائی گئی مٹی کی اک مٹکی پھوٹتی دیکھی ہے کہ جسکے پھوٹتے ہی سب خوشی سے نہال ہوجاتے ہیں ، لیکن بھارتی ٹی وی نیوز چینلز پہ آئے روز ایسی مٹکی پھوٹتی دیکھی جاتی ہے کہ جسکے بطن سے پاکستان پہ نت نئے الزامات یا دور کی کوڑیوں کی بارش امڈتی ہے اور سننے والے مارے نفرت کے بھونچال بن جاتے ہیں ۔۔۔ ان الزامات میں سے اکثر اشتعال انگیز ہونے کے باوجو بڑے دلچسپ بھی ہوتے ہیں شاید اسکا سبب یہ ہو کہ ریٹنگ بڑھانے کے لیئے اس چینل کی خواہش یہ ہو کہ بڑی مشقت سے بنائی گئی خبروں یا دور کی کوڑیوں کے بل پہ ایک تیر سے دوشکار کیئے جائیں اور وہ نیوز چینل کے ساتھ ساتھ اینٹیرٹینمنٹ چینل بھی باور کیا جاسکے ۔۔۔

ابھی پلوامہ حملے کے بعد بھارت کے کچھ ٹی وی چینلوں کی کٹھالی سے ایک گرما گرم خبر یہ برآمد ہوئی ہے کہ اب بھارت پاکستان کو اپنے لال ٹماٹر نہیں بھیجے گا کیونکہ وہاں کے لال ٹماٹر کھا کر ہی پاکستانی اسکے خلاف آتنگ واد پھیلاتے ہیں ۔ اس خبر کی سچائی یا جھوٹ سے قطع نظر ، اس جانکاہ تحقیق کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ وہاں کے چینلوں نے بڑی عرق ریزی سے آتنگ واد کی وہ اصل وجہ معلوم کرہی لی کہ جس کی کھوج کے لیئے بھارت کو اپنے سراغ رساں اداروں‌ پہ زرکثیر خرچ کرنا پڑتا ہے اور وہ ہے وہاں کا لال ٹماٹرجبکہ یہ کھوجی ادارے ابتک یونہی خواہ مخواہ جھک مارتے پھر رہے تھے ، اس سے یہ قیمتی ‘راز’ بھی پتا چلا کہ دنیا بھر میں لال ٹماٹر صرف بھارت میں ہی اگتا ہے ، ورنہ باقی دنیا میں تو شاید رنگ برنگے نیلے ، سفید اور کالے ٹماٹر دستیاب ہوتے ہیں ۔ اور پاکستانیوں کی ساری اکڑ فوں جس شے سے نکالی جاسکتی ہے وہ اسی لال ٹماٹر کی بندش ہے،اس  لحاظ سے دیکھا جائے تو ہم بھارت سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں اور ہمارے یہاں ابھی تک کوئی ایسی تحقیقی شے پیدا نہیں کی جاسکی کہ جسے کھاکے لڑنے مردنے پہ اتارو ہوا جاسکے-

چلیئے اس نیوز رپورٹ سے ایک بڑا کام ہوگیا ۔مدت سے چلتے آئے آتنگ واد کی روک تھام کا کام کم ازکم بھارت کی حد تو بہت آسان ہوگیا ۔ بس اب یہ کیا جائے کہ جہاں کہیں سے بھی آتنگ واد کی شکایت پیدا ہو وہاں پہ فٹافٹ لال ٹماٹر کی ترسیل روک دی جائے ۔۔۔ لیکن یہاں ایک سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہاں کے لال ٹماٹر کی تاثیر ایسی ہی تخریبی ہے تو وہ خود اس کو کیوں کھاتے ہیں کیونکہ محض گائے کا گوبر لیپنے اور گئو موتر غٹا غٹ پینے سے تو ایسے ‘شکتی شالی۔ برے اثرات تو ختم ہو ہی نہیں سکتے؟؟ – ۔۔ ویسے اس سوال کا جواب بھلے نہ بھی دیا جائے لیکن یہی جواب بنتا ہے کہ اس کے بد اثرات ان کے اپنوں پہ بھی ہوتے ہیں اور بڑی شدت سے ہوتے ہیں اسی لیئے انکے ٹی وی  ٹاک شوز اور انٹرویوز میں بڑی حدت سے جلوہ گر دکھائی دیتے ہیں اور شاید یہی وہ شے ہے یعنی بھارتی لال ٹماٹر کہ جسے کھا کھاکے انکی شیروانی والے مہاراج ہوں کہ وردی والے یمراج ، آئے دن کسی نہ کسی طرح کلبھوشن یادیو جیسے ہنر مندوں کو ہماری جانب بڑی آسانی سے یہاں بھیج پاتے ہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *