مسلک یا مذہب

چنیوٹ میں تبلیغ دین کے خدمتگاروں کا دردناک اور سفاکانہ قتل مستقبل کے پاکستان کا نقشہ کھینچ رہا ہے۔ایک ایسا پاکستان جہاں بریلوی دیوبندی کا ،دیوبندی شیعہ کا ،شعیہ اہل حدیث کا اوراہل حدیث بریلوی کی زندگی موت کا فیصلہ فقط اپنے نظریات کی بنیاد پر کر رہا ہو گا۔اور اس ساری صورت حال پر اہل درد کا دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔یہ بات ماننے کے لیے دل ذہن تیار ہی نہیں ہوتا کہ دین کا پیغام لوگوں تک پہنچانے والا ایک گروپ ایک جاہل کے سامنے گستاخی رسول ﷺیا گستاخی مولا علی شیر خدا کا مرتکب ہو۔
چند دنوں پہلے ڈیرہ اسمعیل خان میں شیعہ دیوبندی مسلک کے معروف  لوگ مارے گئے اور اب تبلیغی جماعت کے معصوم ب لوگ ۔خارجی قوتیں ہمیں بیوقوف بنا کر پاکستان میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے جا رہی ہیں اور ہم قاتلوں اور ا ن کے ہمدردوں کو غازی اور جنت کے ٹکٹوں کے مالکانہ حقوق رکھنے والا سمجھ کر ان کے پیچھے بلے بلے کر رہے ہیں۔اور حق کے ساتھ کھڑے ہونے کے بجائے اپنے فرقے اور سوچ کے ساتھ کھڑے ہیں خواہ وہ باطل ہی ہو۔۔میری معمولی دانست میں کسی کی گستاخی یا کافر ہونے کا فیصلہ فرد واحد نہیں کر سکتا۔اس کا تعین اوراختیار سزا ریاست اور عدلیہ کو ہی ہونا چاہیے۔

ہم سب نے محبت قرابت کے بھی ٹھیکے الاٹ کرائے ہوئے ہیں کوئی اللہ کا محب زیادہ ہونے کا دعویدار،کسی کو غلامی رسول اور عشق محمدیﷺپر ہونے اور دوسروں کو غلط اور گستاخ جان کر فخر ،کوئی محبت اہل بیت کا اپنے آپ کو زیادہ حقدار سمجھنے والا اور کوئی صحابہ کرام   کی عاشقی کا ٹھیکیدار۔یہ سچ ہے کہ تبلیغی جماعت کو مساجد سے نکالا جاتا ہے بلکہ مساجد میں داخلے سے بھی منع کرنے کا بورڈ آویزاں کیا جاتا ہے۔کیا وہ اللہ کے گھر میں اللہ کے ذکر کے علاوہ موسیقی سناتے ہیں جو آپ انہیں نفرت سے دھتکارتے ہیں؟ہم مخالف مسلک کے بنائے اپنے پسند کے کپڑے جوتے اور دیگر ضروریات خریدتے اور استعمال کرتے  ہیں تو بالکل ٹینشن نہیں لیتے لیکن جہاں صرف اللہ کا ذکر ہو مسجد نماز اور جنازہ میں داخل اور  شامل ہونے سے پہلے ہم اپنا فریضہ سمجھتے ہیں کہ پہلے مسلک کی چھان بین کر لی جائے تا کہ بعد میں بقول ہماری اصل سوچ ،شعور اور عقل یعنی مولوی صاحب کے بقول نکاح نہ ٹوٹ جائیں۔اور دائرہ اسلام سے خارج نہ ہو جائیں۔اسلام کا دائرہ مذہب فروشوں کے دماغ کا دائرہ نہیں جو اتنا چھوٹا ہو۔

طالبان سپاہ صحابہ لشکر جھنگوی سپاہ محمد بنانے والوں نے ان سے اپنا مطلوبہ ٹارگٹ حاصل کیا اور ان کو ساتھ ساتھ “فولڈ”کرتے رہے اور ان کی آبیاری کرنے والوں کو منظر سے ہٹاتے گئے۔اب مسلکی بنیاد ہر ایک نئی تنظیم کے قدم مضبوط کیے جا رہے ہیں۔ہم عام لوگ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرتے اور حق کی پہچان رکھتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ فرقہ پرستی کے جذبات ابھارنے والوں کو بولنے سے پہلے خاموش کروا دیتے اور ان کا سوشل بائیکاٹ کرتے تو آج یہ نوبت نہ آتی ۔

علامہ احسان الہی ظہیر مولانایوسف لدھیانوی مولانا حسن جان مولانا اسلم شیخو پوری جیسے نامور اور جید علما کے قتل پر شاید ہی کسی بریلوی یا شعیہ نے آواز اٹھائی ہو۔اسی طرع بریلوی اور شیعہ مکتب فکر کے قابل علما مولانا سرفراز نعیمی علامہ عارف حسینی سید حسن ترابی سلیم قادری پیر سمیع اللہ سواتی مقتولین نشتر پارک مقتولین ہزارہ پارہ چناراور مزار عبداللہ شاہ غازی غازی،مزار غلام فرید پاکپتن،مزار بری امام سرکار اور دوسرے مزاروں عبادت گاہوں پر حملوں پر مسلکی ترجیحات کو مدنظر رکھ کر ان سے مخالف مسلک اور نظریات والے لوگ خاموش ہی رہے۔۔۔کاش ایسا ہوتا کہ یہ سب مل کر ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ایک آواز بنتے اور اقلیتوں کے خلاف بھی کسی ناحق اقدام اور آواز کی مذمت کرتے تا کہ ہمارے ملک اور ہمارے دین کا امیج عالمی لیول پر رحمت اللعالمینﷺ کے مثالی دین کے طور پر  سامنے آتا۔
علامہ اقبال   نے کیا خوب کہا تھا۔۔۔۔

جلانا ہے مجھے ہر شمع دل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا
مسلمء خوابیدہ اُٹھ ہنگامہ آراء تو بھی ہو
وہ چمک اُٹھا افق ، گرمِ تقاضہ تو بھی ہو۔۔۔۔

اور ساتھ ہی مسلمانوں کی چھوٹی سوچ پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا۔۔۔۔

قوم مذہب سے ہے ، مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
جذبِ باہم جو نہیں ، محفلِ انجم بھی نہیں

فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں
کیا زمانے میں پنپنے کی یہی باتیں ہیں

یوں تو سید بھی ہو ، مرزا بھی ہو ، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو ، بتائو تو مسلمان بھی ہو !

اللہ پاک ہم سب کو اللہ کی رسی قرآن پاک اور سیرت نبوی ﷺ پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔۔آمین

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان