ستاروں اور سیاروں کے اوقات۔۔۔محمد یاسر لاہوری

ستاروں اور سیارورج چاند اور نظام شمسی کے سیاروں کے علاوہ آسمان دنیا کا ہر ستارہ (سوائے قطب ستارہ کے) ہر رات چار منٹس جلدی طلوع ہوتا ہے۔قدیم زمانے میں جب ٹیکنالوجی بھی نہیں تھی ہزاروں ستاروں میں سے چند ایک ستاروں (یعنی نظام شمسی کے سیاروں، اس زمانے میں ستاروں و سیاروں کو ایک ہی کیٹگری میں رکھا جاتا تھا) کو ان کی بے قاعدگی کے سبب ان کو الگ شمولیت دینا یقینا اس وقت کے لوگوں کی ذہانت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ہر رات میں چار منٹس کا فرق آنے سے تیس دنوں میں دو گھنٹے کا فرق بنتا ہے، مثال کے طور پر آج رات سائریس ستارہ (Sirius star) اگر نو بج کر دو منٹس پہ طلوع ہوگا تو ایک مہینے بعد دو گھنٹے (چار ضرب تیس برابر ایک سو بیس منٹس) کے فرق کے ساتھ سات بج کر دو منٹس پر اہلِ زمین کو اپنا جلوہ حسن پیش کرتا ہوا طلوع ہو گا۔۔۔اسی طرح ہر ستارہ ان اوقات کی پیروی کرتا ہے۔

(یاد رہے ستاروں سے مراد تمام کہکشائیں، نیبیولا اور ستارے مراد ہیں)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک دن میں 1440 منٹس ہیں۔۔۔اب ان 1440 منٹس کو چار پہ تقسیم کریں جو ہر روز ستاروں کے اوقات کا فرق بنتا ہے تو جواب 365 آئے گا۔مطلب چار منٹس کا فرق پڑتے پڑتے سائریس ستارہ ٹھیک ایک سال بعد (27 نومبر 2019) آج کی رات پھر نو بج کر دو منٹس پر طلوع ہوگا۔
یہ جو ہر رات ستاروں کے طلوع و غروب کے اوقات میں چار منٹس کا فرق پڑتا ہے اس کی وجہ کیا ہے؟ یہ بات آپ کے علم میں ہوگی کے زمین اپنے مدار پر چکر لگاتے ہوئے چوبیس گھنٹوں میں چھبیس لاکھ کلومیٹر کا فاصلہ طے کرتی ہے۔دوسری بات یہ بھی آپ جانتے ہیں کہ زمین پر دن اور رات زمین کی محوری گردش کی وجہ سے آتے جاتے ہیں۔اب غور طلب بات یہ ہے کہ آج زمین کا وہ حصہ جہاں ہم ہیں، نو بج کر دو منٹس پر ستارہ سائریس کے سامنے آئے گا۔لیکن کل تک زمین اپنے مدار پر چھبیس لاکھ کلومیٹر تک آگے بڑھ چکی ہوگی تو کل زمین کا اس طرف کا رخ چار منٹس جلدی ستارہ سائریس کے سامنے آ جائے گا۔مطلب زمین کا اپنے مدار پر سفر کرنا ستاروں کے طلوع و غروب کے اوقات پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے۔کیا ہی خوبصورت اور بے مثال و لاجواب نظامِ کائنات ہے۔۔۔کہ زمین اپنے مدار کا سالانہ چورانوے کروڑ کلومیٹر کا سفر پورا کرنے کے ساتھ ساتھ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں ہمیں آسمانِ دنیا کے تمام رنگ برنگے قدرتی فانوسوں اور جممگاتی دنیاؤوں کا نظارہ بھی کرواتی ہے۔اگر زمین کا مدار پر سفر کرنے کا سلسلہ نا ہوتا تو ہم یقینا آسمان کے اتنے خوبصورت مناظر میں سے اکثر کو دیکھ نہیں پاتے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ بات علم میں رہے کہ اس ٹائم ٹیبل کی پابندی صرف ستارے کرتے ہیں، ہمارےنظام شمسی کے سیارے نہیں کرتے۔آسمان پر موجود جتنے بھی برج (Constellations) ہیں۔۔۔سب کے اپنے اپنے سیزنز ہیں اور وہ اپنے اپنے سیزن میں ہی رات کے وقت نمودار ہوتے ہیں، اس کا یہ مطلب نہیں کے اپنے سیزن کے علاوہ وہ طلوع نہیں ہوتے ایسا بالکل نہیں! بلکہ ان کے سیزن نا ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جب ان کا سیزن نہیں ہوتا تو تب وہ دن میں نمودار ہوتے ہیں اور سورج کی روشنی میں ان ستاروں کا دیدار ممکن نہیں رہتا، پھر دن کے وقت نکلنے والے ان ستاروں کے اوقات میں چار منٹس کا فرق پڑتے پڑتے ان کی ڈیوٹی دوباہ رات کے ٹائم لگ جاتی ہے۔زمین سے دیکھنے پر ستاروں کے خاندانی نظام میں کافی اتفاق نظر آتا ہے اور سب کے سب ایک دوسرے کے وقت کی پابندی بھی کرتے ہیں لیکن اس کے برعکس ہمارے نظام شمسی کے سیارے اپنے اوقات کا الگ الگ طریقہ کار رکھتے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ستاروں اور سیاروں کے اوقات میں فرق کی وجہ کیا ہے؟
ستاروں کے مقابلے میں سیاروں کا زمین کے بہت قریب ہونا اس فرق کی اہم وجہ ہے۔ یعنی دور اور نزدیک والی چیز کے ایک جیسے مشاہدہ کے لئے مشاہدہ والی جگہ کی رفتار کا مختلف ہونا لازمی ہے، (جو کہ ممکن نہیں) جبکہ یہاں بات کچھ الگ ہے کہ زمین کے چلنے کی رفتار ایک ہی ہے۔۔۔لیکن زمین سے نظر آنے والے ستاروں اور سیاروں کے فاصلے الگ الگ ہیں۔اس بات کو ایسے سمجھا جا سکتا ہے کہ۔۔۔کھربوں میل کی مسافتوں پر موجود کسی انجان سولر سسٹم سے اگر کوئی خلائی مخلوق ہمارے نظام شمسی کو دیکھتی ہو گی (یا ہم وہاں پہنچ کر اپنے سولر سسٹم کو دیکھیں) تو اس مخلوق کو انتہائی فاصلوں کی وجہ سے ہمارے سورج کے علاوہ کچھ بھی دکھائے نہیں دیتا ہو گا، (جیسا کہ ہمیں ستاروں کے ساتھ ان کے سیارے نظر نہیں آتے) اس مخلوق کو ہمارا سورج بھی کچھ ایسے ہی دکھائی دیتا ہوگا جیسا کہ آسمان کے ستاروں میں سے ایک چمکتا ہوا چھوٹا سا ستارہ! نا کوئی سیارہ نظر آتا ہو گا نا ہی کوئی نظام شمسی کا چاند، اس خلائی مخلوق کے پاس بھی ستاروں کا (بشمول ہمارے سورج کے) طلوع و غروب اسی طرح ہوتا ہوگا (جیسے زمین پر ہم ستاروں کا طلوع و غروب ہونا دیکھتے ہیں) لیکن اگر ان کے قریب ہمارے نظام شمسی کی طرح سیارے وغیرہ ہوں گے تو اُن سیاروں کے طلوع و غروب کے اوقات باقی کے آسمانی ستاروں سے بالکل الگ ہوں گے(جیسے ہمارے لئے سب ستاروں کے اوقات تو ایک ہیں لیکن سیاروں کے الگ الگ۔۔۔ مگر یہ سب کچھ ان کی محوری گردش اور گردشِ مدار پر منحصر ہے!

دوسری مثال
آپ سیارہ مشتری کا نظارہ کریں، آج دیکھیں گے تو تھوڑے سے فرق کے ساتھ کل آپ کو وہیں ملے گا۔۔لیکن ٹیلی سکوپ کے ساتھ دیکھنے سے آپ حیران رہ جائیں گے کہ اس کے چار گیلیلین چاند ہر روز اس کے گرد مختلف جگہوں پر نظر آئیں گے۔۔مطلب مشتری (Jupiter) وہیں ملے گا لیکن اس کے چاند ہر روز جگہ بدلتے دکھائی دیں گے۔بالکل ایسے ہی اگر ایلفا سینٹوری نظام شمسی سے ہمارے نظام شمسی کو ننگی آنکھ سے دیکھا جائے تو ہمارا نظام شمسی ایک ہی جگہ ملے گا لیکن اگر ایلفا سینٹوری (ہمارے ہمسایہ نظام شمسی) سے ہمارے نظام شمسی کو نہایت طاقتور دوربینوں سے دیکھا جائے تو ہر روز ہمارے نظام شمسی کا ہر سیارہ بالکل مشتری کے چاندوں کی طرح اپنی جگہ بدلتا دکھائے دے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عطارد، وینس، مریخ، مشتری اور زحل سمیت نظام شمسی کے تمام سیارے نا ہی یہ ایک دوسرے کے اوقات کی پابندی کرتے ہیں اور نا ہی ستاروں کے اوقات کے ساتھ وفاداری کرتے ہیں، یاد رہے ستارے وہ جو ہمارے سورج کی طرح اپنی روشنی خود پیدا کرتے ہین اور سیارے وہ جو ستارے کی کشش ثقل کے تابع ہو جیسے مریخ مشتری اور زحل وغیرہ۔
لیکن یہ بھی نہیں ہے کہ ہمارے نظام شمسی کے سیارے اپنے مدار پر کبھی سست اور کبھی تیز رفتار ہو جاتے ہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ہمارے سورج کی کشش ثقل کے تابع تمام سیارے اپنے اپنے مدار پر اپنی مقررہ رفتار سے چلتے ہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ ہمارے سیارے آسمانِ دنیا پر طلوع و غروب کے اوقات میں تمام ستاروں سمیت ایک دوسرے کو بھی فالو نہیں کرتے۔
آپ وینس ستارہ کو ہی لے لیجئے، سال کے کچھ مہینوں میں وینس سورج کے نزدیک ہوتا ہے تو وہ زمین سے نظر نہیں آتا۔سورج کے قریب قریب رہنے کی وجہ سے نظروں سے اوجھل رہتا ہے، سال کے کچھ مہینوں میں بہت زیادہ روشن اور بڑا دکھائی دیتا تب یہ زمین کے قریب ہوتا ہے۔پھر جب سورج وینس کے پیچھے ہو تو یہ کچھ کم روشن ہو جاتا ہے۔وینس سورج سے کم اور زیادہ ہوتے فاصلے کی وجہ سے زمین پر کبھی تو شام کو جلوہ گر ہوتا ہے تو کبھی صبح سورج کی آمد سے قبل، اسی لئے پرانے زمانے کے لوگ اسے صبح اور شام کا ستارہ بھی کہتے تھے۔ایسے ہی مریخ کا مدار ہے جس پر سفر کرتے ہوئے مریخ تقریبا ہر دو سال کے بعد زمین کے قریب آ جاتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ دور ہوتا چلا جاتا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اہل عقل و شعور کو رازوں اور انکشافات میں ڈوبی یہ کائنات ہر وقت مسلسل بے چین کئے رکھتی ہے کہ اسے کھوجا جائے، کھنگالا جائے اور اس کے محیر العقول عجائبات کے سمندروں میں غوطہ زن ہوا جائے!کائنات کے راز اور انداز بتاتے ہیں کہ یہ حیرتوں سے بھری ہوئی کائنات ہے، عجائبات سے بھری ہوئی کائنات ہے، ہم نے ان عجائبات اور حیرتوں سے پردہ اٹھانا ہے۔۔۔رات کے وقت نظر اٹھا کر آسمان پر ڈالئے اور حیرتوں میں ڈوب جائیے۔اس بات کا شعور بھی پیدا کیجئیے کہ کائنات پہچانے جانے کے لئے ہی بنی ہے، خود بھی پہچانئیے اور دوسروں کو بھی اس کائنات کی حیرتوں سے روشناس کروائیے۔۔۔۔!

محمد یاسر لاہوری
میں لاہور سے ہوں، دینی و دنیاوی علم حاصل کرنے کے بعد کافی عرصہ سے ٹیچنگ کے شعبہ سے منسلک ہوں۔اس کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر مضامین لکھتا رہتا ہوں۔جن میں سے میرا من پسند موضوع معاشرے میں موجود بگاڑ کا سبب بننے والی اہم اور اصل وجوہات پر لکھنا ہے۔اس کے ساتھ ساتھ فلکیاتی مضوعات پر بھی میرے قلم کی نظرِ خاص رہتی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *