• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • راجھستان کے گلابی شہر جے پور میں چند دن۔کچھ تاریخی حقائق اور یادیں۔۔۔۔۔احمد سہیل

راجھستان کے گلابی شہر جے پور میں چند دن۔کچھ تاریخی حقائق اور یادیں۔۔۔۔۔احمد سہیل

بھارتی ریاست راجستھان شاہی محلوں، قلعوں اور رنگارنگ ثقافت کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے۔یہاں کے گلابی، نیلے اور سنہری شہر اپنی مثال آپ ہیں۔ راجستھان کا دارالحکومت جے پورہے جو اپنے گلابی رنگ کے درودیوار کے باعث ’’گلابی شہر‘‘ کہلاتا ہے۔1727میں بسنے والا یہ شہر ابتدا میں مکمل طور پر گلابی رنگت کی عمارتوں پر مشتمل نہیں تھا تاہم 1863میں برطانوی ولی عہد پرنس ایڈورڈ جو بعدازاں بادشاہ بنے اور ’’کنگ ایڈورڈ ہفتم‘‘ کہلائے ان کی آمد کی خوشی میں استقبال کے موقع پر پورے شہر کو گلابی رنگ دے دیا گیا، جو آج تک قائم ہے۔ اس شہر کا قیام مہاراجہ جيسه دوم نے کی تھی۔ جے پور اپنی خوشحال تعمیرات روایت، سرس – ثقافت اور تاریخی اہمیت کے لیے مشہور ہے۔
شہر میں گلابی رنگ کے پتھروں سے تخلیق کی گئی مشہور عمارتوں میں ہوا محل، قلعہ جے گڑھ، جنتر منتر رصدگاہ، جل محل، شاہی محل، مبارک محل، چندرہ محل وغیرہ اہمیت کے حامل ہیں۔ شہر کی تعمیر نہ صرف گلابی رنگت کے باعث سیاحوں کے لیے کشش کا باعث ہے،بلکہ شہر کا تعمیری انداز بھی نہایت زبردست کشش رکھتا ہے۔
جے پور جسے ‘گلابی شہر’ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، بھارت میں راجستھان ریاست کے دار الحکومت ہے۔ عامر کے طور پر یہ جے پور کے نام سے مشہور قدیم رجواڑے کی بھی دارالحکومت رہا ہے۔ اس شہر کے قیام 1728 میں ابےر کی مہاراجہ جيسه دوم نے کی تھی۔ جے پور اپنی خوشحال تعمیرات روایت، سرس – ثقافت اور تاریخی اہمیت کے لیے مشہور ہے۔ حضرت مخدوم سید علاوالدہن احمد شکر بار زندہ پیر ابن حضرت شاہ شمس الدین تبریزی ملتانی روضہ جے پور میں ہے۔
مہاراجا سوائی جے سنگھ ریاست جے پور کا ایک راجپوت حکمران تھا۔ وہ امبیر میں پیدا ہوا۔ گیارہ سال کی عمرمیں 1699ء میں اورنگزیب عالمگیر نے اسے سوائی کا خطاب دیا۔ 2 جون، 1723ء کو مغل شہنشاہ محمد شاہ نے اسے سرمد راجا ہند کے خطاب سے نوازا۔
جے پور نے 19 ویں صدی کی چھٹی دہائی میں ادب کا عروج دیکھا جس میں اشرافیہ ادیبوں، شاعروں اور عالموں کے ساتھ مل کر ادب، شاعری اور صحافت کو فروغ دینے کیلئے کوشاں تھی۔ مہاراجہ سوا رام سنگھ کی مہربانی کی بدولت اپنی نوعیت کی پہلی ادبی سوسائٹی کا قیام 26 مارچ 1869 کو عمل میں آیا۔ اس سوسائٹی کی افتتاحی تقریب میں گورنر کے نمائندے، سیاسی ایجنٹوں اور دیگر شخصیات نے شرکت کی۔ اس افتتاحی کانفرنس کی کارروائی کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا کہ ہر پندرہ دن بعد اس ادبی سوسائٹی کی ایک میٹنگ منعقد ہوا کرے گی اور ایک اخبار اور پرنٹنگ پریس کا قیام عمل میں لایا جائیگا۔{فیضان علی} اردو کے بہت سے سے نامور ادّبا اور شعرا جے پور ہیں پیںد ہوئے اور ان میں سے ایک بڑی تعداد تقسیم ہند کے بعد پاکستان چلی گئی تھی۔
ادبی سرگرمیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والی ضروریات اس امر کی متقاضی تھیں کہ ایک پرنٹنگ پریس کا جلد سے جلد افتتاح کیا جائے اور اسے عرصہ دراز تک چلاتے ہوئے اس کے معیار پر نظر رکھی جائے۔ حکیم سلیم خان خستہ (جو راجستھان سے شائع ہونے والے پہلے ہفت روزہ نیر راجستھان کے مدیر تھے) نے جے پور میں خاور راجستھان کے نام سے 1869 میں پہلا پرنٹنگ پریس قائم کیا جس کا نام بعد ازاں تبدیل کر کے سوسائٹی پریس رکھ دیا گیا۔ اس پریس نے 1924 ہجری (1877AD) تک کام کیا اور محمد علی بیگ ماہوی نے اس کے آخری منیجر کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیں۔ محمد علی بیگ ماہوی مولانا امام بخش سہبائی کے شاگرد تھے اور فارسی اور اردو کے مشہور شاعر مرزا غالب سے شاباش وصول کر چکے تھے
راجا جے سنگھ نے آنبیر سے چار کوس کے فاصلے پر ایک عظیم الشان شہر آباد کیا۔اس میں قصر ہائے عالی سنگین اور چوڑے چوپڑ کے بازار ،ہوا دار بالا خانے ان میں جا بجا کھڑکیاں،نیچے مدرسے ،کارخانے ،جابجا مندر،شرفا ،غربا سب کے واسطے ایک سے مکان ،ایک رنگ،ایک ہی طرز پر بنوائے۔
آبادی کے چاروں طرف دوہری فصیلیں تعمیر کراکر باہر خوش نما باغ لگائے۔اس شہر کو اپنے خطاب گرامی جے پور سے موسوم کرکے دارلحکومت مقرر کیا۔
جے پور کا شمار اب بھی خوش نمائی خصوصاً سڑکوں کی چوڑائی اور اپنے مشہور عجائب خانہ کے وجہ سے ہندوستان میں ایک بے نظیر حیثیت رکھتا ہے۔ جے پور کے آخری مہاراجہ بھوانی سنگھ تھے۔ ان کا انتقال 29 مارچ 2011 کوہوا۔ مہاراجہ سنگھ بھارتی فوج میں بریگیڈیئر کے عہدے پر بھی فائز رہے ہیں اور ریاست میں انہیں ایک ہیرو کا درجہ حاصل تھا۔ انہوں نے برطانیہ میں بھی تعلیم حاصل کی اور وہ پولو کے ایک مشہور کھلاڑی بھی رہے ہیں۔
جے پور کے عامر قلعے کے دروازے پر روزانہ درجنوں ہاتھی سیاحوں کو پہاڑی کے اوپر بنے ہوئے قلعے میں لے جانے لیے قطاروں میں کھڑے ہوتے ہیں۔
جے پور آنے والے سیاحوں میں ہاتھی کی سواری بہت مقبول ہے۔
شیام گپتا کے آباؤ اجداد رجواڑوں کے زمانے سے ہی ہاتھیوں کو پالنے کا کام کرتے آئے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں’ امیر میں اس وقت 112 ہاتھی ہیں۔ ان میں بیشتر سیاحت سے وابستہ ہیں۔ ان کا استعمال امیر قلعے میں سیاحوں کی سواری کے ساتھ ساتھ شادیوں اور دوسری تقریبات میں بھی ہوتا ہے۔ ان ہاتھیوں سے ہزاروں لوگوں کو روز گار ملتا ہے۔ دنیا میں میر کی جو شہرت ہے   اس میں ہاتھی کی سواری کا اہم کردار ہے۔‘
عمارات میں راج محل،ہوا محل، قلعہ جے گڑھ، جنتر منتر، جل محل، البرٹ ہال میوزیم، گووند دیو جی مندر،لکشمی نرائن مندر، باغ رام نواس وغیرہ شامل ہیں۔ جے پور سیاحوں کے لیے بے پناہ کشش رکھتا ہے 2008 میں اسے ایشیا کا ساتواں بڑا سیاحتی مرکز قرار دیا گیا تھا۔ جے پور کے ” جڑوان شہر ” کیلگری، کینیڈا، فری ماونٹ، کیلیفورنیا، امریکہ، پورٹ لویس، لاوس اور ددوڈما ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *