جوہڑ کی پولیس …دستک۔۔۔روبینہ فیصل

پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم جناب لیاقت علی خان کو 16اکتوبر1951کو سرِ عام روالپنڈی کے اس باغ میں قتل کر دئے گئے تھے جس کا نام اس وقت ایسٹ انڈیا کمپنی گارڈن تھا ۔جس افغان باشندے، سید اکبر نے انہیں گولی ماری تھی ، وہ فرنٹ کی ان سیٹوں پر بیٹھا ہوا تھا جو کرائم انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ (CID) پولیس آفیسرز کے لئے ریزور تھیں۔ وہ وہاں تک کیسے پہنچا اور ان پولیس آفیسرز کے پہلو میں بیٹھ کر ملک کے وزیرِ اعظم کو پل بھر میں موت کی گھاٹ اتار دیا ۔ وہ ایک گولی پاکستان کی تاریخ کی اہم گولی تھی جس نے پاکستان کے مستقبل کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے تبدیل کر دیا ۔وزیرِ اعظم کے مرتے ہی سی آئی ڈی پولیس آفیسرز میں حرکت پیدا ہو ئی اور سید اکبر کو زندہ پکڑنے اور اس سے انکوئری کرنے کی بجائے اسے وہیں جان سے مار دیا گیا ۔ قانون کے تقاضے پو رے ہوئے ؟ اس قاتل کے بارے میں افغانی حکومت نے پہلے ہی لاتعلقی کا اظہار کرتے ہو ئے اعلان کیا کہ اسے اینٹی نیشنل ہونے کی وجہ سے پہلے سے ہی افغان شہریت لے کر دیس نکالا دیا جا چکا ہے ۔ اور وہ کے پی کے میں پناہ گزین تھا اور مزے کی بات اسے ملنے والے برطانوی ویلفئیر فنڈ،۴۵۰ روپے( ۱۵۵ امریکی ڈالر) پاکستانی حکومت اس کے پاکستان کے وزیرِ اعظم کو قتل کرنے تک اسی پابندی سے دے رہی تھی ۔
لیاقت علی خان کے قتل کی وجہ افغانی باشندے کو آن سپاٹ مار کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ڈھک لی گئی ۔ جس آفیسر نے قاتل کو مارا ،اس نے بس یہی کہا کہ ایسا میں اپنے سنئیر آفیسر کے آرڈر سے کیا ۔۔۔۔ یس سر ۔۔ سیلوٹ ۔۔ ٹھاہ ٹھاہ ۔۔ اور ملک کا اہم راز اسی زمین میں خون کے ساتھ مٹی ہو گیا ۔۔ ہاں !! اس باغ کو کمپنی باغ کی بجائے لیاقت باغ کا نام دے دیا گیا تاکہ ۵۵ سال بعد یہی باغ ایک اورعوامی لیڈر کا قتل دیکھے ۔2007 میں پھر سے وہی قانون کے گھیرے ، وہی سیکورٹی کی سختیاں ، وہی سب نظارے اور سر عام ،سرِ بازار ، ایک اور پاکستان کے وزیرِ اعظم کو گولی مار دی گئی ۔۔ دیکھتے ہی دیکھتے فائر بریگیڈ نے سڑکیں یوں دھو دیں کہ خون کے نشانات تو دور کی بات ، غریب کا پسینہ تک دھو ڈالا ۔قانون کے تقاضے پو رے ہو ئے ؟
بے نظیر جب خود قتل ہو ئیں تب وہ وزیرِ اعظم نہیں تھیں لیکن جب ان کے بھائی مرتضی بھٹو ستمبر ۱۹۹۶ میں پولیس مقابلے میں مارے گئے تو وہ وزیر اعظم تھیں،بااختیار بھی ہونگی ۔کم از کم اتنی با اختیار تو تھیں کہ ۱۸ ستمبر کو اپنے بھائی کی سالگرہ پر اسے کیک بھیجا اور ۲۰ ستمبر کو اس کی موت کی خبر سن کر ننگے پاؤں بھاگی گئیں ، اتنی بااختیار تو تھیں ۔ سنئیر صحافی اس واقعے کو کوٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ بی بی نے بتا یا کہ انہیں مرتضی کی گاڑی کے دو فوٹو گرافس کے سیٹ دکھائے گئے ، جو انٹیلیجنس کے آفیسر نے تصویریں دکھائیں ان میں میرمرتضی کی گاڑی کی چھت پر پولیس کی طرف سے چلائی جانے والی گولیوں کے لاتعداد سوراخ تھے ۔اور جو پولیس انویسٹیگیشن آفیسر نے دکھائیں ان میں کو ئی سوراخ نہیں تھا ۔۔ وزیر اعظم کو غلط اطلاعات اور رپورٹس کیوں دی گئیں ؟ بے نظیر کا کہنا تھا کہ انہوں نے خود بھی گاڑی دیکھی تو چھت پر ان گولیوں کے نشان کہیں نہیں تھے جو ایجنسی کے بندے نے انہیں دکھائے تھے ۔ مرتضی بھٹو کو روکنے اور ہتھیار رکھوانے کے علاوہ ان کے پاس پولیس مقابلہ کے کوئی احکامات نہیں تھے ۔ مگر مرتضی بھٹو ( جو کہ الذولفقار تنظیم کو دہشت گرد ی کی حد تک لے جا چکا تھا ) کی طرف سے مزاحمت کا بھر پور امکان موجود تھا ۔آئی بی چیف مسعود شریف خٹک،پولیس چیف شعیب سڈل اور بہت سے ہائی لیول کے آفیسرز چارج ہوئے ۔ قانون کے تقاضے پورے ہوئے؟ ۔یہ پاکستان کی اعلی اور بااثر شخصیات کے دن دہاڑے ہو نیوالے وہ قتل ہیں جن میں ڈائیریکٹ اور ان ڈائیریکٹ پولیس شامل تھی۔
اب کچھ بات ہوجائے عوام اور پولیس کی ۔۔۔۔۔۔ڈاکٹر مبشر حسن کا مضمون” ظالمین و مظلومین” نظر سے گذرا اور وہ اپنے قلم کی طاقت سے مجھے پچاس کے عشرے کے ابتدائی سالوں میں لے گئے جہاں ایک پولیس پارٹی جھنگ کے گاؤں موچی والا میں تشدد اور رشوت کا بازار گرم کئے کھڑی ہے ۔ کچھ دیہاتیوں نے مزاحمت کی ہے اور پولیس نے وسیع پیمانے پر قتل،آتش زنی، لوٹ مار اور آبرو ریزی شرع کر دی ہے ۔ پولیس کا ظلم غریب پر تب بھی نئی بات نہیں تھی اور اب بھی پرانی بات نہیں ہے ۔ بات وہیں کی وہیں کھڑی ہے ۔ڈاکٹر مبشر ذرا تھوڑا اور آگے لے آتے ہیں۔۔۔۔
بے نظیر بھٹو اور مرتضی بھٹو کے والد محترم جب اقتدار میں تھے تو لاہور کے شاہی قلعہ میں پنجاب پولیس نے ایک خاص تفتتیشی مرکز قائم کر رکھا تھا۔ اس بدنام ادارے میں اذیت دینے کے قدیم اور جدید آلات میسر تھے ۔اس میں جانے والوں نے موت کا مزہ بھی چکھا اورذہنی اور جسمانی معذور بن کر بھی وہاں سے نکلے ہیں ۔
سن 1975 ہی ہے اور پنجاب پولیس نے بتیس افراد کو اغوا کر لیا تھا ۔ ان میں دو سابق وزیر بھی تھے اور وہ انہیں آزاد کشمیر میں دلائی کیمپ میں پہنچا آئے تھے جہاں وہ ۳۲ مہینے دنیا سے کٹے رہے ۔۔
آگے آئیں 1976میں ڈیرہ غازی خان کے ایک گاوں میں پولیس والوں کو گاؤں کے چند لوگوں کے خلاف کاروائی کر نا تھی انہوں نے آدھی رات کو پورے گاؤں کا محاصرہ کیا ، لوگوں کو کہا اپنے جانور ذبخ کر کے ہماری ضیافت کرو ۔ مردوں اور عورتوں کو برہنہ کر کے ، مردوں کو کہا کہ دائرہ بنائیں اور عورتوں کو حکم دیا کہ وہ اس دائرے کے اندر ناچیں ۔مردوں کو کتوں کی طرح بھونکنے کا بھی حکم دیا گیا ۔دعوت ختم ہونے کے بعد اسی حالت میں لوگوں کو تھانے پیدل لے جایا گیا جو میلوں دور تھا ۔
ذولفقار علی بھٹو غریب عوام کے لئے آیا تھا اور آج بھی ان کے دلوں میں دھڑکتا ہے کیونکہ ٹی وی پر بیٹھے سستے دانشور جو مہنگی تنخواہیں لیتے ہیں ، لوگوں کو آج بھی آنکھوں میں آنسو بھر کر بلاول سے محبت کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں کہ وہ ذالفقار جیسے انسان کا نواسہ ہے ، اس لئے اس سے محبت خون میں دوڑتی ہے ۔۔ واہ ۔۔۔
ایسے ہی دونمبری وفادار ، شریف برادران نے بھی بے تحاشا پیدا کئے ہیں ۔ اپریل 1998میں سبزہ زار لاہور میں جعلی پولیس مقابلے میں مارے جانے والے دو بھائیوں رؤف اور وسیم کی والدہ آج بھی شہباز شریف کا گریبان پکڑنا چاہتی ہے ۔ انصاف کے حصول کا تقاضا کرتے کرتے ان بچوں کا باپ دنیا سے جا چکا ہے ۔۔ ماں کی آنکھیں منتظر ہیں ۔۔۔ انصاف کی ۔
عابد باکسر جو شوٹر اور اِنکاؤنٹر سپیشلسٹ مشہور تھا ،جس نے اداکارہ نرگس کے ساتھ زیادتی کر کے اسے گنجا کیا ، اور اس کے گھر کا مال اسباب لوٹا ۔ ۔۔ عابد باکسر پنجاب پولیس کا سپوت اور شہباز شریف کا رائٹ ہینڈ تھا ۔ اس کے اقبالی بیانات اور شہباز اور حمزہ شریف ان کے چہروں سے نقاب اٹھانے کی ویڈیوز سے انٹر نیٹ بھرا پڑا ہے مگر مجال ہے کسی کے کان پر جوں تک بھی رینگی ہو ۔ شائید جوئیں بھی رینگ رینگ کے اتنی ٹرینڈ ہو چکی ہیں کہ اب بس ساکت و جامد ہی پڑی عوام کا خون چوس چوس کر موٹی ہو تی جا رہی ہیں ۔
جون 2014 میں منہاج القران ماڈل ٹاون کے نہتے لوگوں پرپنجاب پولیس کی گولیوں کی بوچھاڑ اورزخمی اور مرنے والے بچے اور عورتیں ۔۔ بیان وہی تھا کہ پہلے فائرنگ اندر سے ہوئی اور پولیس نے اپنے بچاؤ کے لئے سب پر بلا امتیاز گولی چلا دی ۔۔
پاکستان کی پولیس سے جڑی رشوت ستانی ، ظلم اور جبر کی داستانیں کوئی الف لیلٰی کے دیو کی کہانی نہیں بلکہ حقیقت ہیں ۔۔لاقانونیت ، قانون کے ہاتھوں کی رکھیل ہے ۔۔ طاقت کا ڈنڈا ان کے ہاتھ میں ہے ، تنخواہ معمولی ہے ، عوام پر مکمل اختیار ہے ، خواص کے دربار میں باندی ہے ۔ پچاس کی دہائی سے آج تک کچھ نہیں بدلا ۔۔پہلے وزیر اعظم کے قتل سے لے کر ساہیوال میں مارے جانے والے کنبے تک ۔
پاکستان ایک ایسا جوہڑ ہے جس کا پانی ستر سال سے ایک جگہ ٹھہرا ہوا ہے اور اس میں اتنا کائی لگ چکی ہے کہ اسے صاف کرنے کے لئے شائد ایک سو چالیس سال درکار ہوں ۔ سال بھی وہ والے جب اس ملک میں عمران خان جیسے ایماندار اور جنونی لگن والے انسان سیاست،بیورو کریسی اور میڈیا میں آتے رہیں ۔۔ورنہ جوہڑ کی پولیس تو کائی ذدہ ہی ہو گی ۔

روبینہ فیصل
روبینہ فیصل
کالم نگار، مصنفہ،افسانہ نگار، اینکر ،پاکستان کی دبنگ آواز اٹھانے والی خاتون

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *