مرزا ابو بکر کا خط کسی کے نام۔۔

جان بکر
اڑھائی سال سے اس شہر میں مقیم ہوں مگر اس ولی کی طرح جس نے منکروں کی بستی میں ٹھکانہ کررکھا ہو۔جس محلہ میں رہتا ہوں وہ وزیر خزانہ اسد عمر کے حلقہ انتخاب کا مرکز ہے۔ ملکی خزانے کا تو ذکر ہی کیا یہاں کا زیر زمین پانی تک خشک ہوچکا ہے۔ مہینہ بھر سے زیادہ کی بات ہے کہ نل میں پانی کا ایک قطرہ بھی آیا ہو۔ کبھی بہت ہو تو بس اتنا کہ خالی ٹوٹیاں ہوا کے زور پہ پادنے لگتی ہیں، پانی پھر بھی نہیں آتا۔ سوسائٹی کے عملہ سے شکایت کی تو کہنے لگے تواتر سے بارشیں ہوں تب ہی کہیں کوئی صورت نکلے گی۔ میرے پڑوسی شیخ عبدالباری کہتے ہیں کہ یہ سب نرے بہانے ہیں۔ جب کبھی کوئی معاملہ رضائے الہی سے مشروط دیکھو تو جان لو کہ ارباب اختیار کے جی میں کچھ برائی ہے۔ اسبابِ تیمم کا خرچ تمباکو کے برابر جالگا ہے۔ شراب کی قیمت سے نصف مالیت کا پانی خرید چکا ہوں۔ اب سوچتا ہوں کہ غسل کاملاً ترک کردوں اور صرف شراب پر گزارہ کروں۔ بقول یوسفی کہیں ایک طرف سے تو یکسوئی حاصل ہو۔

طرفہ تماشا یہ ہے کہ گیس کے پائپ دبانے کے لیے ساری گلی کھود دی گئی ہے۔ جہاں سے کھدائی نہیں ہوئی وہاں مٹی کے ڈھیر لگے ہیں اور جہاں یہ دونوں نہیں ہیں وہاں گاڑیاں پارک کی گئی ہیں۔ کبھی کبھی دو قدم چلنے کی راہ بچا سکنا بھی پل صراط پر استقامت کے برابر لگتا ہے۔ میری آزمائش وہاں بھی دو گنا ہوئی کہ ایک نابالغ کتے کی ذمہ داری بھی میرے سر ہے۔ ایک مقام پر دوران کھدائی سیمنٹ کے چند پرانے پائپ برآمد ہوئے تو میں سخت حیران ہوا کہ شاید قبل از اسلام دور کی کسی مہذب بودھ بستی کے آثار دریافت ہوئے ہیں۔ وہ تو مزدور نے بتایا کہ یہ برسوں قبل اسی گلی میں پانی پہنچانے کو بچھائے گئے ہوں گے جو قلتِ استعمال سے مٹی ہوگئے۔ عبدالباری ٹھیک ہی کہتے ہیں۔

عرصہ ہوا کہ کسی عورت سے محبت نہیں ہوئی۔ امیرخسرو نے حسین عورتوں کو علاجِ زندگی کہا ہے۔ میں اس نسبت سے صرف مبتلائے مرضِ زیست ہوں ؛ جسے ہر دور کے حکما نے لاعلاج قرار دیا ہے اور نتیجہ صرف موت بتایا ہے۔ وہ مریض ہوں جو اپنے عیادت گزاروں کے مان میں بستر سے جالگا ہے ؛ اور وہ ہیں کہ میرے طنز کو بھی بیماری کا اثر سمجھتے ہیں۔ بہرکیف ان حالات کا آپس میں کچھ لینا دینا نہیں۔ پانی کا نہ آنا قدرتی و انتظامی مسئلہ ہے جبکہ محبوباؤں کی قلت سراسر انتظامی خرابی ہے۔ کیفیات کے اس الجھاؤ میں صرف غائب الدماغی کا نشان ملتا ہے اور جو دماغ والوں کے لیے یہ بھی کافی ہے۔
مرفی و دیگر احباب کے لیے مختص ا وقات کے سوا باقی دیر گمراہ فلسفیوں، جھوٹے ولیوں، کم نظر شاعروں اور نیم چڑھے کہانی نگاروں کے ساتھ گزارتا ہوں۔ وقت کی کمی کے سبب صرف اُمت اخبار ہی پڑھ پاتا ہوں۔ کچھ نہ کچھ لکھنے کا سوچتا ہوں پھر بھول جاتا ہوں۔محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ ادھر سے اُدھر ہوگیا ہے۔ جیسے بہت کچھ بھول جانا اچانک یاد آرہا ہو۔ عجیب عجیب خواب دیکھتا ہوں۔ کسی نئے سفر کے آغاز کا دھوکہ ہوتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *