مذاہب اور روحانیت ۔۔۔۔نذر محمد چوہان

کل یہاں نیوجرسی کے ایک چرچ میں یہ بحث تھی کہ کیا حضرت عیسٰی روحانی شخص تھے ، پیغمبر یا خدا کے بیٹے؟ مجھے میری ایک سویڈیش امریکی دوست کی وساطت سے نہ صرف دعوت نامہ تھا بلکہ یہ ثابت کرنا تھا کہ حضرت عیسی دراصل ایک بہت پہنچی ہوئی روحانی ہستی تھے ۔ اس بحث کا ماڈریٹر ایک عیسائی  پادری تھا جو عام عیسائیوں سے بہت لبرل خیالات کا حامل ہے ۔ یہاں یہ واضح کرتا چلوں کہ پوپ فرانسز کی کتاب God is young جس کا تذکرہ میں نے کچھ مہینہ پہلے ایک بلاگ میں کیا تھا ،نے بھی دنیا میں مذاہب کو interfaith سے one page پر لانے کی بحث چھیڑ دی ہے ۔ پوپ نے اس کے بعد بھی ۲۰۱۸ میں ہی مزید دو اور کمال کی کتابیں لکھیں ؛
“Open to God, Open to the world”
اور دوسری تو انتہائی  دلکش ؛
Sharing the wisdom of time
یہ تینوں کتابیں پوپ کا روحانیت والا بیانیہ ہے ۔ بالکل وہی جسے میں بوساطت اپنے آقا حضرت محمد ص ، آگے لے کر چل رہا ہوں ہوں ۔ وہی اسلامی صوفیا کرام کا معاملہ ۔
کل کا دن میرے لیے بہت خوشی کا دن تھا ۔ کل میری روحانیت اور میرا خدا جیت گیا ۔ میں نے صرف پانچ منٹ میں اپنی سوچ بیان کی اور صرف دو نقطوں میں سارا فلسفہ سمجھایا ۔ پہلا نقطہ ہوبہو مرزا غالب کا شعر تھا جو میری روح ہے ؛
“وفاداری بہ شرط استواری اصل ایماں ہے
مرے بُت خانے میں، توکعبہ میں گاڑو برہمن کو”
اس پر میں نے ایک بلاگ بھی لکھا تھا جو گوگل پر پنجند ڈاٹ کام ،پر ابھی بھی پڑھا جا سکتا ہے ۔ اگر آپ اردو میں میرا نام گوگل کریں تو میرے بہت سارے بلاگ پڑھے جا سکتے ہیں ۔ زیادہ تر “ایم بی ننیٹ ورک”،ادراک ڈاٹ کام ” اور کچھ جب دوست احمد رضوان خوش ہوتے ہی تو ں         https://www.mukaalma.comپر بھی ڈال دیتے ہیں ۔ میری اپنی بھی ویب سائیٹ ہے http://nazarchohan.com جس پر یہ سارے بلاگز ہونے چاہیئے لیکن پاغفور سے میری شدید محبت آڑے آ جاتی ہے ۔ ویسے وفاداری والا بلاگ میری اپنی سائیٹ پر بھی موجود ہے ۔
میری پہلی ہی اسٹروک اسکرین پر flash کروائی  گئی  جو انگریزی میں کچھ یوں تھی ؛
“Loyalty on the condition of conviction alone is in fact real faith ..”
ماحول بن گیا ۔ مرزا غالب کے بارے میں پوچھا گیا ۔ کوئی نہیں جانتا تھا ۔ اتفاق کی بات ہے کہ کل ہی ایک دہلی کے دوست کے ساتھ رات کا کھانا تھا ، اس نے بتایا کہ وہ جامع مسجد دہلی کے محلہ میں رہتا ہے اور مرزا کا گھر پانچ گھر چھوڑ کر ہے ۔ میں نے اسی پر اس کا ہاتھ چوما ۔ ہندوستان کی حکومت نے اب اسے میوزیم بنا دیا ہے اور اس کو گرنے اور توڑ پھوڑ سے بچانے کے لیے ایک ہندو سیٹھ بہت بھاری رقم خرچ کر رہا ہے ۔ یاد رہے جب مرزا صاحب نے شعر لکھا تھا تو مولویوں نے مرزا کو قتل کرنے کا فتوی دیا تھا ۔ جامع مسجد دہلی سے باقاعدہ مرزا کو قتل کرنے کے اعلانات کیے گئے اور مرزا کو کٹہرے میں لایا گیا اور پوچھا گیا کہ آپ نے مرزا برہمن کو کعبہ میں دفن کرنے کا کہنے کی جرات کیسے کی؟ مرزا کے ایک قریبی دوست سرکاری مولوی نے بڑی مشکل سے بچایا ۔
جب میں نے سب کو اس بات پر متفق کیا کہ تمام مذاہب کے راستے تو مختلف ضرور ہیں لیکن منزل ایک ہی ہے جس کا نام ہے “محبت” تو پورا ہال تالیوں سے گونج اُٹھا۔ حضرت ابراہیم ، موسی ، عیسی اور محمدص نے صرف اور صرف یہی بتایا ۔ یہ تو پنڈت ، ربی ، پادری اورمولوی نے اپنی دوکانداری کی خاطر ہمیں آپس میں لڑوایا ۔
یہی سچ ہے ، یہی کائنات کا رقص ہے اور یہی خدائی  ہے ۔ اسی کی ہی مستی میں بایزیدبسطامی نے اپنے آپ کو جلال کہا تھا اور منصور نے خدا اور یہی انالحق کا نعرہ منصور کو سُولی پر چڑھا گیا اور فیض احمد فیض کی زبان سے یہ کہلوا گیا ۔
“اٹھے گا انالحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے “
مجھے لگتا ہے پوپ فرانسز اب یہ دکھا کے ہٹے گا جو دراصل مسلمان صوفیا کا نعرہ تھا جو مولوی کے تشدد اور پنکی کے فیشن کی نظر ہو گیا ۔
ماحول میرے نقطہ نظر کے  بعد بہت ہلکا ہو گیا ۔ وہاں عیسائی  ، مسلمان اور یہودی سب موجود تھے اور سب بغلگیر ہوئے اور بولے کیسی لڑائی ؟ کیسا جھگڑا ؟ سب نے ایک دوسرے سے پیار بانٹا ، محبت کی اور سب کے لیے وہ متبرک لمحہ ان زندگیوں ، جسم اور دنیا کو نور میں تبدیل کر گیا ۔
بس پھر کیا تھا ، نام بچا اللہ کا جو غائب بھی ہے  اور حاضر بھی ۔

جیتے رہیں ، بہت خوش رہیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *