اسلامی بنیاد پرستی

1990 کی بات ہے کہ ایک مغربی صحافی نے’’ فنڈامنٹلزم‘‘ یا ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ کے حوالے سے پاکستان کے مایہ ناز سپوت، جماعت اسلامی کے قد آور رہنما، سابق امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد ؒ سے استفسار کیا کہ اس کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہیں؟ اس پر قاضی مرحوم نے اُس سے جواباً پوچھا کہ اسلامی بنیادپرستی سے اُن کی مراد کیا ہے؟ چنانچہ اس پر مغربی صحافی نے کہا کہ: ’’جو لوگ قرآن کریم کے متن کے مطابق ہو بہو عمل کرنا چاہتے ہیں، ہمارے خیال میں وہ’’ بنیاد پرست‘‘ ہیں‘‘۔ اس پر قاضی حسین احمد ؒ نے کہا کہ’’ آپ کو کوئی بھی مسلمان جو چاہے نام کا مسلمان ہی کیوں نہ ہو ایسا نہیں ملے گا جو کہے کہ میں قرآن کریم کی نص(Text) کے مطابق عمل کرنے کو لازمی نہیں سمجھتا ۔‘‘ قاضی صاحب مرحوم نے اُسے چیلنج کیا کہ پاکستان کی سیاسی پارٹیوں میں اُسے جو سب سے بڑھ کر سیکولر اور لادین پارٹی نظر آتی ہے اسی کے کسی لیڈر کو کہیں کہ وہ عوام کے سامنے یہ کہنے کی جرأت کرے کہ وہ قرآن کریم کے نص (Text) کے مطابق عمل کرنا کسی مسلمان کے لئے ضروری نہیں سمجھتا۔
مذکورہ بالا الفاظ سے یہ بات مترشح ہو جاتی ہے کہ مسلمان چاہے کسی بھی جماعت، مسلک، رنگ، وطن وغیرہ سے ہو، وہ بنیاد پرست ہے۔ بلکہ اب مغربی دنیا نے بنیاد پرستی یا فنڈامنٹلزم کی اصطلاح چھوڑ کر انتہا پسندی (Extremism) عسکریت پسندی (Militancy) اور شدت پسندی (Violence) کی اصطلاحات اپنا لی ہیں اور اسلام کے خلاف جنگ کو (War against Terror ) کا نام دے دیا ہے۔مسلمان جس نے کلمہ ’’لا الٰہ الا اللہ، محمد رسول اللہ‘‘ کا کسی بھی حیثیت سے اقرار کیا ،وہ چاہے عملی طور پر مغرب کے رنگ میں ہی کیوں نہ رنگ چکا ہو، بہر حال وہ مسلمان ہے اور مسلمان ہونے کی حیثیت سے اس پر مذکورہ بالا سارے اصطلاحات لاگو ہوں گے۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھتے ہیں کہ مغربی طاقتیں خاص کر عالمی پولیس مین کا کردار ادا کرنے والے عالمی دہشت گرد امریکہ اور اسرائیل اپنا لوہا ہر مقام پر منوانے کی خاطر کشت خون کی ہولی کھیل رہے ہیں۔
جہاں کہیں بھی دیکھتے ہیں کہ مسلمان اکثریت میں ہیں وہیں کسی نہ کسی طرح بہانہ بنا کر داخل ہو جاتے ہیں۔ روس جو کبھی امریکہ کی کرسی (سپر پاور) پربراجمان تھا اس کو پچھاڑ دینے کے چکر میں جب افغانستان کے مجاہدین کی مدد کی باری آئی تو اسی عالمی پولیس مین نے وہ کردار ادا کیا کہ افغانستان اور اس کے ملحقہ چھوٹے چھوٹے حصوں سے افغان مجاہدین کی مدد کی، لیکن جب اندازہ ہو گیا کہ روس ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا تو مغربی دانشوروں نے ان ہی مجاہدین کا تعاقب شروع کر دیا جن کی اس سے قبل انہوں نے مدد کی تھی۔ کیوں کہ انہیں اس بات کا اندازہ ہو گیا تھا کہ مغربی تہذیب کا مقابلہ اگر کوئی کر سکتا ہے تو وہ اسلام ہے۔ اسی لیے انہوں نے 11ستمبر کا ایک ایسا ڈرامہ رچایا کہ آج تک واضح طور پر اس گتھی کو نہ کوئی سمجھ پایا اور نہ ہی حل کر پایا ہے،اسی سے نمٹنے کے لیے دہشت گردی کے خلاف جنگ وہاں مسلط کی گئی، اس کے بعد صدام حسین کے عراق کی باری آئی۔عراق کے بعد ایران پر بار بار دھمکیاں اسی بات کا اشارہ ہے۔ لیبیا کے کرنل قدابی کا دیکھئے کیا حال کرایا؟ آپس میں لڑا کر خود جیت کی کرسی پر براجمان ہو گئے۔
پاکستان میں کلمہ گومسلمانوں کو اس قدر آپس میں لڑایا کہ آج تک سنبھل ہی نہیں پا رہے ہیں بلکہ دن دوگنی رات چوگنی قتل وغارت گری کا بازار گرم ہوتا جا رہا ہے۔ عرب بادشاہتیں اور آمریتیں پہلے ہی اس کی جیب میں ہیں۔ آج مصر، شام، بنگلہ دیش، برما وغیرہ میں دیکھئے کیا ہو رہا ہے یہ وہ ممالک ہیں جہاں یہی کلمہ گو لوگ’’ مسلمان‘‘ رہ رہے ہیں۔ ان ممالک میں اس قدر فساد برپا کروا دیا گیا ہے کہ ہر روز خون مسلم بہہ رہا ہے۔ ان سارے ممالک میں یہ سب کچھ ایک پالیسی کے تحت کروایا جا رہا ہے۔
اس سب کچھ کا مقصد صرف یہ ہے کہ مسلمان جن کے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے عطا کردہ نظام حیات ہے وہ ہماری بدتہذیب نظام کا ایک ایسا خاموش باغی ہے جو کبھی بھی اپنی بغاوت کا کھل کر اعلان کر کے ہمارے لئے عالمی سطح پر خطرہ بن سکتا ہے۔ اس کے لیے ایک ہی علاج جو اس وقت کارگر دکھائی دے رہا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان تفرقہ ڈالو، انہیں ایک دوسرے کے ساتھ اس قدر لڑائو کہ وہ خود بخود زوال کے شکار ہوجائیں۔
مسلمانوں کی موجودہ صورت حال کا فائدہ پوری طرح سے غیر اقوام اٹھا رہے ہیں۔ ہم آپس میں تقسیم در تقسیم ہو رہے ہیں ، ہماری ہی طاقت کا استعمال ہمارے ہی اوپر کیا جا رہا ہے۔ جس کا نتیجہ یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ہم پر راج کر رہی ہیں اور ہم ان کی غلامی میں رہنے کو ترجیح دیکر اپنی زندگی گزارنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔ ناامیدی کفر ہے اور اس کفر سے بچنے کے لیے امت مسلمہ کے غیور افراد و ممالک کو سامنے آکر اپنی ذمہ داریوںکا احساس کر کے اٹھ کھڑا ہونا چاہیے تاکہ امت مسلمہ کا یہ بکھرا ہوا شیرازہ پھر مستحکم ومضبوط ہو کر باطل پرستوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال سکے۔ اس کے لیے جب تک امت مسلمہ چاہے وہ کہیں بھی ہو ایک ہو کر ایک نظام اور ایک جھنڈے تلے جمع نہیں ہوں گے تب تک یہی بنیاد پرست، عسکریت پسند، انتہا پسند، شدت پسندی جیسے القاب سے ہمیں نوازا جائے گا۔ اسی طرح ہمارے سروں پر تلواریں اٹھیں گی، اسی طرح ہمارا خون زمین کا چپہ چپہ سیراب کر کے بھی کوئی فصل بہار کا رنگ نہیں لائے گا، اسی طرح ہم کٹتے رہیں گے، مرتے رہیں گے، ظالموں کے ظلم کے شکار ہو کر تماشا بنتے رہیں گے۔
امت مسلمہ اب کی بار اگر ایک ساتھ اٹھتی ہے تو یہ اللہ ذوالجلال کی سنت ہے کہ دشمن کتنا بھی مکر کرے وہ ’’خیر الماکرین‘‘ ہے۔ اس کے آگے کسی کی چال کامیاب نہیں ہو سکتی۔ وہ جسے دے اس کوئی چھین نہیں سکتا، جس سے لے اسے کوئی عطا نہیں کر سکتا ، اس کے ہاتھ میں عزت بھی ہے اور ذلت بھی ، اب جسے چاہے عزت دے اور جسے چاہے ذلت کا شکار کر دے۔ دیکھنا یہ ہے کہ موجودہ صورت حال کا مشاہدہ کر کے حق وانصاف کابول بالا کر نے کے لئے امت مسلمہ سے وابستہ رہنماکیا چاہتے ہیں، عزت کی زندگی یا؟؟؟۔ یاد رہے جو اللہ کا ہو جائے اسے دنیا میں بھی عزت کی زندگی ملے گی اور آخرت میں بھی سرخروئی حاصل ہو گی ۔
قاضی حسین مرحوم کے وہ الفاظ بار بار یاد آتے ہیں جو انہوں مذکورہ بالا مغربی صحافی کو آخر پر کہے کہ ’’اگر آپ کہتے ہیں کہ جو لوگ قرآن کریم کے متن کے مطابق ہو بہو عمل کرنا چاہتے ہیں وہی’’ بنیاد پرست‘‘ ہیں‘‘ تو میں اس بنیاد پرستی پر فخر کرتا ہوں۔ اور چاہتا ہوں کہ ہر مسلمان اس پر فخر کرے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں صحیح سوجھ بوجھ عطا فرمائے۔

ابراہیم جمال بٹ
ابراہیم جمال بٹ
مقبوضہ جموں وکشمیر سے ایک درد بھری پکار۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *