میرا گاؤں ۔۔۔۔طارق احمد

مغرب کی اذان ھوتی  اور ھماری دادی لالٹین جلا کر صحن میں کھلنے والے کمرے کے دروازے کی کنڈی سے ٹانگ دیتی۔ لالٹین کی روشنی سے کمرہ بھی روشن ھو جاتا اور صحن بھی جگمگا جاتا۔ گاوں کی اندھیری راتوں میں دیے کی روشنی بھی نور بکھیر دیتی۔ ھمارے چچا باھر سے آتے اور لالٹین کی بتی اوپر کر دیتے۔ ھمارے دادا کمرے سے آواز دیتے۔ لالٹین کی بتی نیچے کر دیں ۔ کمرہ دھویں سے بھر گیا ھے۔ اور ھماری پھوپھو بناء کر کہتی۔ کمرے میں دھواں حقے کی وجہ سے ھوا ھے۔ جس کی باریاں ھمارے چچا اور دادا لے رھے ھوتے۔ یہ سن کر دادا ہمیں آواز دیتے۔ لو بھئ ذرا حقہ تازہ کرکے لانا۔ اور ھاں آگ کے اوپر گڑ کی ڈھیلی رکھنا نہ بھولنا۔ یہ سن کر دادی غصے سے بولتی۔ پوترا، لاھور سے چھٹیاں گزارنے آیا ھے۔ حقہ تازہ کرنے نہیں ۔ اتنی دیر میں ھماری پھوپھو ابلے ھوئے سفید چاول کیتلی سے ایک بڑی پرات میں انڈیل دیتی۔ اور پکے ھوئے باسمتی چاولوں کی خوشبو سارے گھر میں پھیل جاتی۔ اور ھماری اشتہا وہ آسمان تک جا پہنچتی۔ مٹی کی ھنڈیا میں پکی چنے کی دال کی مہک سونے پر سہاگے کا کام کرتی۔ گھر کا بنا آم کا اچار اور لسوڑھے ایک الگ ھی سواد دیتے۔ اور لیموں میں نچڑے پیاز مزے کو شہہ بالا کر دیتے۔ جب تک ھم کھانے سے فارغ ھوتے۔ چھت پر چارپائیاں بچھ جاتیں ۔ جن پر پڑی سفید چادروں سے رات کی سیاھی شرماتی ۔ جب تک ھم چھت پر جاتے۔ وھاں پہلے ھی گاوں کی لڑکیاں اور لڑکے اکھٹے ھو چکے ھوتے۔ اور پھر کہانیوں کا دور چلتا۔ جنوں ، بھوتوں ، چڑیلوں اور پریوں کے قصے ۔ ھم داستان گو ھوتے۔ اور ھمارے سامعین دم سادھے اندھیرے میں گم ، ایک آواز تھی۔ جو آتی رھتی اور جسے ھم بھی سنتے۔ اور لڑکیاں بالیاں اور لونڈے لپاڈے بھی حظ اٹھاتے۔
دن کا آغاز لسی رڑکنے کی آواز سے ھوتا۔ ھماری پھوپھو دھی سے مکھن بناتی۔ یہ تازہ مکھن ھم چینی ڈال کر کھاتے اور چاٹی کی لسی پیتے۔ اور آم کے اچار کے ساتھ پراٹھے کھاتے۔ اور پھر تولیا اور صابن پکڑ کر باھر نکل جاتے۔ گاوں کے لڑکے ھمارے ساتھ ھوتے۔ سب سے پہلا کام ضروریات زندگی سے فارغ ھونا ھوتا۔ جس کا پریشر اس بھاری ناشتے کے بعد خاصہ بڑھ چکا ھوتا۔ اب ھم ٹھہرے شہری بابو ، بڑی دیکھ بھال کے بعد کسی درختوں کے جھنڈ میں ایک ویران جگہ تلاش کی جاتی۔ اور جونہی ھم براجمان ھوتے۔ کوئی دیہاتی گلا کھنکھارتا پاس سے گزر جاتا۔ نہ صرف گزرتا بلکہ حال چال بھی پوچھ لیتا۔ ادھر ھمارا منہ جو پہلے ھی لال ھوتا۔ اس رنگے ھاتھوں پکڑے جانے کے بعد لال سوھا ھو جاتا۔ اور دور کھڑے ھمارے کزنز قہقہے لگا رھے ھوتے۔ ٹیوب ویل پر نہانے کا اپنا ھی مزہ ھوتا۔ جب کتنی ھی دیر پانی کی موٹی دھار کے نیچے سر دیے چوبچے میں بیٹھے رھتے۔ اور جب باھر نکلتے تو معلوم ھوتا پانی کے پریشر سے ھمارا کچھا اتر چکا ھے۔ اور دو چار نامعلوم افراد منہ لگا کر پانی پی رھے ھیں ۔ اور کن اکھیوں سے لاھوری منڈے کو دیکھ رھے ھیں ۔
گاوں کے شروع میں ایک بہت بڑا بڑ کا درخت تھا۔ اس درخت کی ٹہنیوں سے جڑیں نکل کر واپس زمین میں چلی گئ تھیں ۔ جیسے یہ تناور درخت مختلف ھاتھوں اور ٹانگوں پر کھڑا ھو۔ اور درمیان میں کھلے کمرے بن گئے ھوں ۔ بڑ کے اس شیش محل میں اس درخت سے بھی بوڑھے بابے بیٹھے رھتے۔ شطرنج کھیلتے۔ بارا ٹینی کھیلتے۔ تاش کھیلتے۔ حقے کی باریاں لگاتے۔ سیاست پر بحث کرتے۔ پرانے اخباروں کی شہہ سرخیاں سنتے۔ گاوں میں آنے جانے والوں پر نظر رکھتے۔ خواتین کو تاڑتے ۔ اور ھمیں ڈانٹتے ۔ نظریں نیچی رکھ کر چلتے ھیں ۔ یہ جب سے ماسٹر عبدلمجید کا پوترا آیا ھے۔ گاوں میں اودھم مچا رکھی ھے۔ جبکہ ماسٹر عبدلمجید وھیں بیٹھے بیٹھے حقے کی باری لیتے۔ آدھے گھنٹے کی سوچ و بچار کے بعد شطرنج کی چال چلتے۔ اور کہتے۔ چوھدری غفور میرے پوتے کے متعلق کچھ نہ کہنا۔ اس کے چاچا نے سن لیا تو تیری خیر نہیں ۔ اور ھمارا چاچا ، کبڈی کا پلیئر، ھاکی کا پلیئر، کندھے پر بندوق ، دشمن دار، ھم سے بہت پیار کرتا۔ ھمیں لے کر ڈیرے پر چلا جاتا۔ درانتی پکڑاتا اور کہتا، میرا پتر ، جا بھاگ کر کچھ پٹھے تو کاٹ لا۔ ھم پٹھے کاٹ لاتے۔ میرا پتر ، ان پٹھوں کو ذرا ٹوکے پر کتر تو لا۔ ھم ٹوکہ بھی چلا لیتے۔ پھر پٹھوں کی اس پنڈ کو ھمارے سر پر رکھتا۔ جا میرا پتر ، گاوں چھوڑ آ ، ڈنگر پکھے نے۔ ھمیں پٹھے کاٹنے ، کترنے، سر پر اٹھانے پر اعتراض نہ ھوتا۔ لیکن اعتراض تب ھوتا جب چاچا ایک آدھ کتے کو بھی ھمارے ساتھ روانہ کر دیتا۔ اس کتے کو بھی معلوم ھوتا۔ شہری باو ھے۔ ضرور گرے گا۔ اور ھم کئ بار توازن خراب ھونے پر گرتے۔ کبھی ھم نیچے ھوتے اور پٹھوں کی پنڈ ھمارے اوپر گری ھوتی۔ اور کبھی پٹھوں کی پنڈ نیچے ھوتی اور ھم اس کے اوپر گرے ھوتے۔ اور وہ بدتمیز کتا پاس کھڑے ھو کر یوں بھونک رھا ھوتا ۔ جیسے کہہ رھا ھو۔ مجھے معلوم تھا ۔ یہ شہری باو گرے گا۔ کتے کے ھاتھوں یہ تذلیل ھمیں ھر گز گوارا نہیں تھی۔
مشکل کام تب ھوتا جب کبھی کبھار شوقیہ ھم مونجھی لگانے یعنی چاول کاشت کرنے پر مچل جاتے۔ برسات کا مہینہ ، حبس اور گرمی، کھیتوں میں گوڈے گوڈے پانی۔ کیچڑ اور دلدل ، اور دھرے ھو کر چلنا ھے ۔ اور مونجھی لگاتے جانا ھے۔ کچھ دیر میں ھماری بس ھو جانی۔ سب نے ھنسنا ، ھم نے بھی ھنسنا ، اور گاوں کی راہ لینی۔ گھر کے باھر ایک نہ ایک پھوپھو تندور میں گرم گرم روٹیاں لگاتی مل جانی۔ کھڑے کھڑے ایک دو روٹیاں کھا جانی ۔ اور باقی کی چار پانچ پکی ھوئ تازی سبزی کے ساتھ نبیڑ جانی۔ گاوں کی سادہ زندگی ، سادہ خالص کھانے اور سادہ باتیں، ھمارے بچپن اور لڑکپن کا پیشتر حصہ ھمارے اسی گاوں میں گزرا۔
وہ صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں
اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

طارق احمد
طارق احمد
طارق احمد ماہر تعلیم اور سینیئر کالم نویس ہیں۔ آپ آجکل برطانیہ میں مقیم ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *