• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • لکھاریوں کے اپنے ہی انوکھے انداز اور نئے رنگ ۔۔۔نذر محمد چوہان

لکھاریوں کے اپنے ہی انوکھے انداز اور نئے رنگ ۔۔۔نذر محمد چوہان

آج یہاں شدید بارش ہو رہی ہے ۔ میں چھتری کے نیچے جب کافی شاپ کی طرف رواں دواں تھا تو اس دوکان کی ایک ملازم نے کار روکی اور کہا کہ  بیٹھ جاؤ ۔ میں نے کہا    شکریہ، میں کچھ سوچ رہا ہوں observe کر رہا ہوں ، تسلسل ٹوٹ جائے گا۔
برطانیہ کی ایک مشہور بچوں کی اور بالغوں کی لکھاری Penelope Lively نے مشہور امریکی جریدے the Paris Review کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ اس کا بہترین مشغلہ لوگوں کو observe کرنا ہے ۔ اور خاص طور پر بڑھاپے میں جب وہ لوگوں کے لیے جاذب نظر نہیں رہی تو اور زیادہ آسانی سے مشاہدہ کرپاتی ہے ۔

میں نے پچھلے سال کا غالباً  آخری بلاگ “پل دو پل کے لکھاری “ کے عنوان سے لکھا تھا۔ ہمارے استاد اقبال دیوان صاحب فرماتے ہیں کہ  بلاگ کی شیلف لائف ۲۴ گھنٹے ہوتی ہے ۔ یہی چیز مجھے بلاگ کی بہت زیادہ بھاتی ہے ۔ لکھنا میری عادت اور ٹھرک بن گیا ہے ۔ اسی انٹرویو میں لائیولی نے کہا کہ  وہ اب ۸۵ سال کی ہو گئی  ہے لیکن اگلے ہفتے  وہ نیا ناول شروع کرے گی بغیر یہ خیال لائے کہ  کیا وہ پہلے ختم ہو گی یا ناول ؟ اور وہ ایک شاعر ڈینس این رائٹ کا حوالہ دیتی ہے جو سوال کی صورت میں اسے کچھ یوں بیان کرتا ہے
“Well a writer writes, don’t they ?”

سوشل میڈیا اور ویب اخبارات نے میرے جیسے لکھاریوں کے لیے بہت آسانیاں پیدا کر دی ہیں ۔ اب ہمیں پیشہ ور لکھاری بننے کی ضرورت ہی نہیں رہی ۔ کل مجھے مکالمہ کے مدیر فرما رہے تھے کہ  وہ لوگ اپنی جیب سے یہ اخبار چلا  رہے ہیں ، میں نے کہا بالکل، میں بھی بغیر لالچ ، معاوضہ یا پیشکش کے یہ سب کچھ تحریر کر رہا ہوں ۔
اگلے دن مشہور صحافی دوست شاہد ملک کو میں نے کہا کہ  آپ جیسا آزاد منش شخص “پاکستان “اخبار میں کیسے لکھتا ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ  انہیں اپنی رائے میں مکمل آزادی ہے ۔ دراصل آزادی کے بھی اپنے اپنے معیار اور پیمانے ہیں ۔ طلعت ، حامد میر اور مطیع اللہ جان ، فوج اور عمران خان کو لتاڑنے کی آزادی مانگتے ہیں ۔ میرے جیسے سب کو جہاں وہ غلطی پر ہیں تنقید کی آزادی چاہتے ہیں ۔ کل طحہ صدیقی نے فرانس سے رائٹرز کے حوالے سے خبر دی کہ  ٹویٹر بھی اس پر پابندی لگانے لگا ہے ۔ ٹویٹر نے اگر خادم رضوی پر پابندی لگائی  تو جناب ہو سکتا ہے آپ کو بھی پاغفور کی شکایت پر گرفت میں لے آئے ۔ میرا بھی یہاں رقص کے شوقین پاکستانی سفیر نے فیس بک اکاؤنٹ ایک ہفتہ بند کروایا اور اپنی وڈیو بھی ڈیلیٹ کروائی  ۔ جولین آسانجے نے کہا تھا کہ  جب تک ہم ون ٹُو ون پلیٹ فارمز نہیں بناتے جو امریکہ سے گیٹ وے کنٹرول کرنے والے نہیں بنانے دیتے یہ ، قضیہ ختم نہیں ہو گا ۔

مولوی اگر پیشہ ور مولوی نہ ہوتا تو خادم رضوی نہ بنتا  ۔
ایک مشہور امریکی لکھاری ریبیکا سولنٹ کہتی ہیں کہ  کہانیاں ہمیں لکھواتی ہیں نہ کہ ہم کہانیاں لکھتے ہیں ۔ کیا خوبصورت بات کی ۔ واقعتاً  کہانیاں تو ہمارے چار سُو بکھری پڑی ہیں ، آواز ، بیانیہ ،لکھائی  یا اظہار کا کوئی  ذریعہ مانگ رہی ہوتی ہیں ۔ ہمارے دوست جاوید اقبال انہی  کہانیوں کو کارٹون کے ذریعے  بیان کرتے  ہیں ۔ کچھ دوست اپنے فن پاروں کے ذریعے ، کوئی  شاعری اور کوئی  نثر کی وساطت سے ۔

لیکن یاد رہے ، کوئی  بھی بیانیہ حتمی نہیں ۔ آپ نے رُک نہیں جانا ، فلُو اور موجودہ لمحہ میں رہنا ہے ۔ تاریخ کا بھی جیسے ہر ایک کا اپنا بیانیہ ، اپنی عینک ۔ یہ conflict ہی اصل حُسن ہے جسے پینلوپ لائیولی کچھ یوں بیان کرتی ہے ۔
“You and I both have completely different accounts of what happened in the morning”
میں آج صبح اپنا انوکھا بیانیہ محفوظ رکھنے کے لیے کافی شاپ کی ملازمہ کی گاڑی میں نہیں بیٹھا ۔ اس زندگی کا ہر لمحہ مقدس ہے ۔ اس کو انجوائے کریں ، ان مقدس لمحات کو کسی قسم کی غلامی اور استحصال کی نذر نہ ہونے دیں ۔

اللہ تعالی آپ کا نگہبان ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”لکھاریوں کے اپنے ہی انوکھے انداز اور نئے رنگ ۔۔۔نذر محمد چوہان

  1. امید ہے آپ بخیریت ہونگے
    جیسا آپ لکھتے ہیں ایسا کسی حکومت کو خصوصا” اور کسی پاور فل کو عموما” اچھا نہیں لگتا کیونکہ آپ جو لکھتے ہیں وہ آپ لکھتے نہیں بلکہ وہ حالات اور واقعات خود بخود قلم بند ہوتے چلے جاتے ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ کا مزاج اور بیک گراؤنڈ جتنا 24 سال میں میں سمجھا ہوں وہ کمپرومائز گ نہیں نہ لالچی ہے جو ٹھان لیا وہ کر ڈالا اسی لئے آپ کی گنجائش بطور لکھاری پاکستان میں نہیں مگر آپ چاہیں تو کسی عالمی اور آزاد جریدے کیلئے اپنی پاکٹ منی کیلئے بہت کچھ لکھ سکتے ہیں
    سر خوش رہیں ،مجھے فخر ہے کہ میرا آپ سے بہت محبت اور عقیدت واحترام والا رشتہ ہے
    اپنا ڈھیر سارا خیال رکھیے گا
    آپ کا مخلص ” احسان”

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *