• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • فضائل کنیزاہل بیت حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔۔۔حافظ کریم اللہ

فضائل کنیزاہل بیت حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا۔۔۔۔۔۔حافظ کریم اللہ

حضرت فضہ رضی اللہ عنہاشاہ حبشہ کی بیٹی تھیں۔سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی لخت جگربیٹی طیبہ،طاہرہ،زاہدہ،سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکی خادمہ تھیں۔جنگ خیبرکے بعد۷ھجری میں سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اپنی لخت جگربیٹی سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکوعطاکیاتھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہازندگی کے آخری سانس تک خاندان رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم سے منسلک رہیں اورایک وفادارکنیزہونے کاحق اداکردیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکامل الایمان عورت تھیں۔خاندان رسول صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم میں بحثیت ایک خادمہ کے آئیں تھیں۔لیکن اپنی نیک نفسی،حسن کرداراورمحبت والفت کی بناپرہرشخص کے دل میں جگہ پیداکرلی تھی۔ہرچھوٹابڑاآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے خاندان کے ایک فردکی مانندمحبت کرتاتھا۔
بعض روایتوں میں ہے کہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا اصل نام ”میمونہ“تھا۔سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے ”فضہ“رکھا۔اورکئی روایتوں میں قبول ِ اسلام سے قبل آپ کانام ”فضہ النوبیہ“درج ہے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحبش کی رہنے والی تھیں۔نسلی اعتبارسے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحبشی تھیں اورصنفی اعتبارسے سیاہ فام کنیزتھیں۔فضہ عربی زبان کالفظ ہے جس کے معنی چاندی کے ہیں۔قرآن مجیدفرقان حمیدمیں لفظ ”فضۃ“کا استعمال ان آیات مبارکہ میں یوں ہواہے۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔وَلَوْلَا اَنْ یَّکُوْنَ النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً لَّجَعَلْنَا لِمَنْ یَّکْفُرُ بِالرَّحْمٰنِ لِبُیُوْتِھِمْ سُقُفًا مِّنْ فِضَّۃٍ وَّمَعَارِجَ عَلَیْھَا یَظْھَرُوْنَ(سورۃ الزخرف،۳۳)اوراگریہ بات نہ ہوتی کہ سب لوگ (کافروں کی)ایک جماعت ہوجائیں گے توہم ضروررحمن کے منکروں کے لئے ان گھروں کی چھتیں اورسیڑھیاں چاندی کی بنادیتے جن پروہ چڑھتے۔ارشادباری تعالیٰ ہے۔ وَیُطَافُ عَلَیْہِمْ بِاٰنِیَۃٍ مِّنْ فِضَّۃٍ وَّاَکْوَابٍ کَانَتْ قَوَارِیْرَا۔قَوَارِیْرَا مِنْ فِضَّۃٍ قَدَّرُوْھَا تَقْدِیْرًا(سورہ الدھر،،۶۱۵۱) اوران پرچاندی کے برتنوں اورگلاسوں کے دَورہوں گے جوشیشے کی طرح ہوں گے۔چاندی کے شفاف شیشے جنہیں پلانے والوں نے پورے اندازہ سے (بھرکر)رکھاہوگا۔(ان آیات کے مفہوم کے لئے سورۃ الزخرف،سورۃ الدھر کی تفسیرکامطالعہ کریں۔اس مضمون میں بطوردلیل یہ آیات درج کی گئی ہیں)۔
قرآن مجیدفرقان حمیدکے ان مقامات پر”فضۃ“کے معنی چاندی کے ہیں۔یہ ایک مفیددھات ہے جس سے زیورات بنائے جاتے ہیں۔
جس طرح بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم میں سیدناابوبکرصدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو”صدیق اکبر،صداقت کاپیکر“سیدناعمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو”فاروق اعظم،عدل ووفاکاپیکر“سیدناعثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ آئے تو ”ذوالنورین،شرم وحیا،سخاوت کاپیکر“سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم آئے تو”شجاعت کاپیکر“بن کرنکلے۔اسی طرح سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کے عنایت کردہ نام سے ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شہرت پائی“سرکارمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم کی نظرکرم ہونے کے بعد حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سیاہ فام ہونے کے باوجودانہیں چاندی بنادیااورروشن ضمیرکردیا۔
ارشادباری تعالیٰ ہے۔”وَیُطْعِمُوْنَ الطَّعَامَ عَلیٰ حُبِّہٖ مِسْکِیْنََاوَّیَتِیْمََاوَّاَسِییرََا“اوروہ اللہ کی محبت میں مسکین اوریتیم اورقیدی کوکھاناکھلاتے ہیں۔(سورۃ الدھر7,8)
شان نزول!یہ آیت کریمہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم،سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہااوران کی کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے حق میں نازل ہوئی۔حضرت حسن وحضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمابچپن میں ایک مرتبہ بیمارہوگئے۔توحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم،سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہااورحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ان شہزادوں کی صحت کے لئے تین روزوں کی منت مانی۔اللہ تعالیٰ نے دونوں شہزادوں کوشفادی۔جب نذرکے روزوں کواداکرنے کاوقت آیاتوسب نے روزے کی نیت کرلی۔حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے ایک یہودی سے تین صاع جولائے۔ایک ایک صاع تینوں دن پکایالیکن جب افطارکاوقت آیااورتینوں روزہ داروں کے سامنے روٹیاں رکھی گئیں۔توایک دن مسکین،ایک دن یتیم اورایک دن قیدی دروازے پرآگئے اورروٹیوں کاسوال کیاتوتینوں دن سب روٹیاں سائلوں کودی گئیں اورصرف پانی سے افطارکرکے اگلاروزہ رکھ لیاگیا۔(حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکی خادمہ تھیں۔(تفسیرخزائن العرفان،پارہ 29سورۃ الدھر،آیت 7,8)
ابوموسی رحمۃ اللہ علیہ نے ذیل میں اورثعلبی رحمۃ اللہ علیہ نے سورۃ ”ھل اَتیٰ“کی تفسیرمیں عبداللہ ابن عبدالوہاب خوارزمی کے طریق سے جواخف کے چچازادہیں۔انہوں نے احمدبن حمادمروزی سے،انہوں نے محبوب بن حمیدسے اوران سے روح بن عبادہ نے سوال کیا،انہوں نے قاسم بن بہرام سے،انہوں نے لیث بن ابوسلیم سے،انہوں نے مجاہدسے،انہوں نے ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہماسے اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد”یُوْفُوْنَ بِالنَّذْرِ وَیَخَافُوْنَ یَوْمََاکَانَ شَرُّہُ مُسْتَظِیْرََا“”وہ نذروں کوپوراکرتے ہیں“روایت کیافرماتے ہیں حضرت حسن اورحسین رضی اللہ تعالیٰ عنہمابیمارہوئے توان کے دادا،آپ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اوراہل عرب نے ان کی عیادت کی،انہوں نے ان کے والدسے کہااگرآپ نذرمان لیں؟انہوں نے فرمایا”اللہ تعالیٰ جب انہیں شفادیں گے میں شکرانے کے تین روزے رکھوں گا۔سیدۃ النساء العالمین سیدہ فاطمۃ الزہرارضی اللہ تعالیٰ عنہانے بھی یہی فرمایااوران کی کنیزجنہیں فِضّہ نُوْبیہ کہاجاتاہے یہی فرمایا۔۔پھرطویل حدیث ذکرکی۔ذہبی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”یہ موضوع ہے“اورجوانہوں نے کہایہ بات بعیدنہیں۔(الاصابہ فی تمیزالصحابہ،ج۸،ص ۱۳۳)
علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اصابہ فی تمیزالصحابہ جلد۸میں لکھاہے کہ سرکارِمدینہ صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکوایک دعاسکھائی تھی جودعاوہ اکثر کرتی تھیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہابلاشبہ خانہ زہراسلام اللہ علیہامیں ایک خادمہ کی حیثیت سے داخل ہوئیں لیکن بہت جلدایک شہزادی کامقام حاصل کیا۔
علامہ حافظ ابن حجرعسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے اصابہ فی تمیزالصحابہ جلد۸میں لکھاہے کہ”کانت شاطرۃالخدمۃ“ حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا جلدکام کرتی تھیں۔پھربھی خاتون جنت نے تمام کام کابارحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاپرنہیں ڈالاتھابلکہ باری مقررکردی تھی۔ایک دن سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہااوردوسرے دن حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کام کیاکرتی تھیں۔کبھی کبھی ایسابھی ہوتاکہ اگردوکام ہوتے تھے تواس میں حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکواختیارہوتاتھاکہ جوکام دل آئے کرے۔ایک دن سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے ان سے فرمایا”کیاتم آٹاگوندھوگی یاروٹی پکاؤگی؟اس نے کہا۔اے میری مالکن!میں آٹاگوندھوں گی اورایندھن کے لئے لکڑیاں لاؤں گی۔وہ گئی اورلکڑیاں جمع کیں اس کے ہاتھوں میں لکڑیوں کاگٹھاتھااس نے اسے اُٹھاناچاہالیکن اُٹھانہ سکی۔پھراس نے ان کلمات کے ذریعہ دعاکی جوحضورنبی کریم صلی اللہ علیہ والہٖ وسلم نے اسے سکھائے تھے۔وہ یہ ہیں ”یاواحدلیس کمثلہ احدتمیت کل احدوتفنٰی وانت علیٰ عرشک واحدہ لاتاخذہ سنۃ ولانوم“۔۔۔۔۔ترجمہ”اے اکیلے اللہ!اس جیساکوئی نہیں توہرایک کوموت دے گااورہرایک کوفناکرے گا۔وہ اپنے عرش پرتنہاہے اسے اونگھ آتی ہے اورنہ نیند“ایک اعرابی آیااوراس نے لکڑیوں کاگٹھااُٹھایااورسیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکے دروازے تک پہنچادیا۔(الاصابہ فی تمیزالصحابہ،ج۸،ص۱۳۳)
حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کیمیاگری میں ماہرتھیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکے خانہ اقدس میں آئیں اوران کی ظاہری غربت وافلاس کودیکھاتواکسیرکاذخیرہ نکالااورتانبے کے ٹکڑے پراس اکسیرکواستعمال کیاجسے سے تانبابہترین سونابن گیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہااس کولیکرامیرالمومنین سیدناحضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کی خدمت میں حاضرہوئیں۔سیدناعلی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم نے اسے دیکھ کرفرمایاکہ اے فضہ!تم نے بہترین سونابنایاہے لیکن اگرتم تانبے کوپگھلادیتیں تواس سے زیادہ بہترین سونابن جاتا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے تعجب کرتے ہوئے عرض کیا۔یاامیرالمومنین علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم!کیاآپ اس فن سے واقف ہیں؟حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم نے اپنے بیٹے سیدناحضر ت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایاکہ یہ علم توہمارایہ بچہ بھی جانتاہے۔پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا،اے فضہ!ہم تمام علوم سے واقف ہیں۔اس کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ارشادفرمایااورزمین کاٹکڑابہترین سونے اورجواہرمیں تبدیل ہوگیا۔پھرآپ رضی اللہ تعالیٰ نے ارشادفرمایا”فضہ مالھذاخلقنا“اے فضہ!ہم اس کے لئے پیدانہیں کیے گئے۔ (مشارق الانوار)
ملفوظات خواجہ بندہ نوازگیسودرازرحمۃ اللہ علیہ جوکہ نفیس اکیڈمی کراچی نے جوامع الکلام کے نام سے شائع کی ہے۔اس کتاب میں سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہااورآپ کی کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی کرامت کاواقعہ اس طرح درج ہے۔حضرت مخدوم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں۔ایک مرتبہ حضرت علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم کے گھرمیں کئی روزسے فاقہ تھا۔کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکی خدمت میں عرض کیاکہ اگراجازت ہوتوجنگل میں جاکرلکڑیاں اورگھاس لاؤں تاکہ گھرکاکچھ کام چلے؟سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہا نے اجازت دے دی۔کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے باہرجاکرلکڑیاں جمع کیں اورسرپراٹھاکرگھرلے آئی۔اس کے ساتھ وہ تھوڑی سی مٹی اورگھاس بھی ساتھ لے آئی۔گھرآکراس نے مٹی میں پانی ڈال کرایک پیالی سی بنالی اورپیالی میں اپنے ہاتھ کازیورجوقلعی کاتھاڈال کرآگ پررکھا۔جب قلعی پگھل گئی تواس گھاس کارس نکال کراس میں ملایاجس سے چاندی بن گئی۔اوروہ چاندی اٹھاکرسیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکے سامنے جاکررکھ دی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے پوچھا”فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا“ یہ کیالائی ہو۔حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیامیں نے یہ عمل جاہلیت کے زمانے میں سیکھاتھاآج میں نے گھرمیں تنگدستی دیکھی توخیال آیاکہ میرایہ علم کس دن کام آئے گا جوآج کام نہ آیا۔اس لئے میں نے چاندی بناکرآپ کے سامنے رکھ دی ہے۔سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے فرمایااچھابازارجاؤاورچھوٹے چھوٹے ٹکڑے اس کے بنوالاؤ۔جب وہ چاندی کے ٹکڑے بنوالائی۔توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایاکہ دس ٹکڑے فلاں کودے دو۔بیس فلاں کودو،پانچ فلاں کودو۔حتیٰ کہ ایک ٹکڑابھی باقی نہ بچا۔یہ دیکھ کرحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحیران رہ گئیں۔دوسرے دن سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے اپنی کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے فرمایاکہ تم پھرجنگل میں جاؤاورلکڑی لے آؤلیکن اس بارفلاں مقام کی طرف جاناوہاں پرایک پہاڑہے اوراس پرگھاس ہے جواس شکل کاہے اوراس کی پتیاں اس طرح کی ہیں۔انہیں لے آؤاورجس طرح تم نے پیالی بناکراس میں قلعی اورگھاس ڈال کرچاندی بنائی تھی۔اسی طرح پھرعمل کرنا۔حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے ایساہی کیا۔جب آگ جلائی گئی توسیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہانے حضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم کے عصاسے لوہاالگ کرکے آگ میں رکھ دیا۔جب پیالی کوکھولاگیاتواس کے اندرسے خالص سونابرآمدہوا۔اس کے بعدآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے اپنی کنیزحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکوحکم دیاکہ اس کے ٹکڑے بنوالاؤ۔جب ٹکڑے بن گئے توآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے فرمایا۔دس فلاں کودو،بیس فلاں کودو،پانچ فلاں کودواوراپنے پاس کچھ بھی نہ چھوڑا۔یہ دیکھ کرحضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیاکہ اے خاتونِ جنت! جب اللہ تعالیٰ نے آپ کویہ علم عطافرمایاہے۔اتنابڑاہنرآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس ہے۔تواس تنگدستی اورفاقہ میں کیوں مبتلاہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے جواب دیاکہ اگرہم سونابناناشروع کردیں توجونعمتیں ہمیں پہلی مل رہی ہیں وہ نہ ملیں گی۔(شرح جَوامعُ الکلِم،مجموعہ ملفوظات،حضرت سیدمحمدبندہ نوازگیسودرازؒ،ص535,536)۔ (اگرچہ یہ عمل بے حدمفیدہے لیکن اس سے دل سیاہ ہوجاتاہے)۔
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکوسیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاسے والہانہ محبت تھی۔حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاجب شہزادی کونین،خاتون جنت سیدہ فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکی خدمت میں آئیں تواس وقت غیرشادی شدہ تھیں۔اورجب تک سیدۃ النساء فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہازندہ رہیں تب تک حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے شادی نہیں کی۔سیدۃ النساء العالمین فاطمۃ الزہراسلام اللہ علیہاکی وفات کے بعدحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم کے اصرارپررضامندی ظاہرکی چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی شادی ابوثعلبہ بن حبشی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے کردی گئی۔جس سے ایک لڑکاپیداہوا۔اورپھرثعلبہ کاانتقال ہوگیااس کے بعدحضرت علی المرتضیٰ شیرخداکرم اللہ وجہہ الکریم نے ان کانکاح ابوسلیک غطفانی سے کردیاتھا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکہ ایک بیٹی اورچاربیٹے تھے۔بعض ایل سیرنے لکھاہے کہ حضرت فضہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی ایک لڑکی (مسکہ)اورپانچ لڑکے تھے۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہاحضرت زینب بنت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہاکی رحلت کے چندسال بعد120سال کی عمرمیں فوت ہوئیں۔شام میں دمشق کے قریب باب الصغیرنامی قبرستان میں ایک قبر”فضہ“کے نام سے منسوب وموجودہے۔جوعبداللہ بن جعفربن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے منسوب قبرسے تھوڑاآگے کی طرف اورقبرستان کے مغربی حصہ کے آخرمیں واقع ہے۔قبرپرایک حجرہ اورچھوٹاساسبزگنبدموجودہے۔
اللہ تعالیٰ کی ان پررحمت ہواوران کے صدقے ہماری مغفرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین طٰہ ویٰسین

حافظ کریم اللہ چشتی پائ خیل
مصنف، کالم نگار، اسلامی سیاست کا طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *