• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • ضلع کھرمنگ میں اون بافی کی صنعت کی بحالی ناگزیر ہے۔۔غلام حیدر وائین

ضلع کھرمنگ میں اون بافی کی صنعت کی بحالی ناگزیر ہے۔۔غلام حیدر وائین

ماضی میں بلتستان کا ملک کے دوسرے علاقوں سے زمینی رابطہ نہ ہونے کے برابر تھا۔ لوگ محدود پیمانے پر کاروبار کی غرض سے دشوار گزار،سنگلاخ پہاڑی راستوں سے کشمیر،لداخ،تبت،یارقند وکاشغر جاتے تھے۔وہاں سے مال کے بدلے مال لے آتے تھے۔سفری ذرائع نہ ہونے کی وجہ سے کبھی کبھار مہینوں پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ایسے میں زیادہ سامان اٹھا کر لانا بھی مشکل ہوجاتا تھا۔انہی مشکلات اور یہاں کے موسمی نوعیت کے پیش نظربلتستان کے طول و وعرض میں یہاں کے باسیوں نے مقامی سطح پر مختلف گھریلو صنعتیں قائم کر رکھی   تھیں ۔ان صنعتوں نے نہ صرف لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کئے ہوئے تھے بلکہ اس کی وجہ سے صدیوں پرانی تہذیبوں اور اس سے جڑی ثقافتی روایات بھی محفوظ تھیں ۔ان گھریلو صنعتوں میں وہ اپنی ضروریات زندگی کے تمام سامان بغیر کسی بڑی مشین کے ہاتھوں سے بناتے تھے۔کھیتی باڑی کے اوزاروں کی صنعت ہو یا باورچی خانے کی برتنوں کی صنعت،اوڑھنے کیلے چادریں ہوں  یا بچھانے کیلئے دریاں ،یا جسم کوڈھانپنے کیلئے لباس، غرضیکہ شعبہ ہائے زندگی سے متعلق ضروری اشیاء ماہر کاریگروں کی محنت و مشقت سے مختصر اوزار کی مدد سے مقامی سطح پر تیار کرواتے تھے۔

انہی صنعتوں میں ایک اہم صنعت “اون بافی” کی صنعت تھی۔جو اب تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔کھڈیوں پر کپڑا بنانے کا کام بلتستان کے چھوٹے بڑے گاؤں میں پھیلا ہوا تھا۔ یہ صنعت صدیوں پرانی،موثر اور مقبول اور محنت طلب صنعت تھی۔ابتدا ء ہی سے اون بافی کا کام روایتی زور وشور سے کرتے تھے۔دیومالائی کہانیوں کی طرح یہ پیشہ بھی نسل در نسل چلتا آیا۔ تقریباً ہر گاؤں میں لوگوں نےکھڈی لگائے ہوئے تھے اور ان کھڈیوں تمام حصوں   کو  دیکھ کر عقل دنگ رہ جاتی ہے ،اور نئی نسل کیلئے یہ ایک عجوبے  سے کم نہیں ہے۔بڑی مہارت اور ذہانت سے ان کے تمام حصے لکڑیوں،چمڑوں کی پٹیوں اور اونی رسیوں کی مدد سے تیار کیے جاتے تھے۔ان کھڈیوں  پر کام کرنے والے کو جولاہا (مقامی زبان میں تھقسکن ) کہتے ہیں۔جولاہوں کا کام نزاکت اور نفاست کا متقاضی تھا۔ ان کھڈیوں پر دستکار اور کاریگر دن رات اونی دھاگوں سے پٹو(بل گوس) کی تیاری میں مصروف رہتے تھے۔اون حاصل کرنے کیلے بھیڑیں پالے جاتے تھے اور ان سے سال میں تین مرتبہ اون حاصل کیا جاتا تھا۔کپڑا بنانے میں کپاس کے بعد اون کی سب سے زیادہ اہمیت ہے۔اسے مختلف مراحل سے گزار کر دھاگے  کی شکل دی جاتی تھی۔عام طور پر یہ کام خواتین کے ذمہ ہوتا  تھا ۔پٹو سے قمیض،شلوار،ٹوپی،مفلر،اور چادریں (قار) و دیگر ملبوسات تیار کرتے تھے۔موسم بہار میں بکریوں اور یاک کی بالوں کی کٹائی کرتے تھے۔صفائی ستھرائی کے بعد اس سے موٹے دھاگے بناتے ہیں۔یہ کام عموماً مردوں کی ذمہ داری ہوتی تھی جوکہ خود ایک انتہائی محنت طلب کام ہے۔ اس سے بچھانے کیلئے دریاں (چھرہ یا فژہ) بناتے تھے۔

tripako tours pakistan

مردانہ اور زنانہ شالیں اور چادریں نرم وگرم نفیس، اپنی خوبصورتی اور عمدہ بنائی کے باعث اپنا ایک اہم مقام رکھتی تھیں ۔ یہ روایت بھی ہماری ثقافت کا حصہ تھی  کہ جب گھر میں باہر کوئی معزز مہمان آتا تھا تو ان کو بطور تحفہ پیش کیا جاتا تھا، شادی بیاہ میں دلہا اور دلہن کیلئے  خصوصی طور پر تیار کیا جاتا تھا، فوتگی کے موقع پرگھر کے کسی عزیز کے انتقال پر ان کے جسد ِ خاکی کے اوپر لگانا باعث زینت سمجھتے تھے۔ ان کے علاوہ یہاں کی  یخ بستگی   اور سردی کی شدت سے بچنے کیلئے مرد و زن کاندھوں پر یہی نرم وگرم چادریں زیب تن کرکے مجالس، محافل یا دیگر عوامی اجتماعات میں نظر آتے تھے۔

جوں جوں بلتستان کا ملک کے دوسرے شہروں سے زمینی رابطہ آسان ہوا ،تو آہستہ آہستہ مارکیٹ میں کھانے پینے کی اشیاء کے علاوہ نت نئے ڈیزائن کے کپڑے سستے داموں وافر مقدار میں دستیاب ہونا شروع ہوئے،تو لوگوں کی نظریں ان پر لگ گئیں ۔اور مقامی ملبوسات کو خیرباد کہہ دیا گیا ۔ اس طرح گھریلو صنعتیں روبہ زوال ہوگئی۔کافی عرصے بعد ایک بار پھر یہاں کے باشعور افراد کی کوششوں سے تیزی سے  مخدوش ہوتے ان  عظیم بلتی ثقافتی ملبوسات کو پھر سے بحال کرنے کی ٹھان  لی گئی  ۔اس مقصد کیلئے مزدوروں کے عالمی ادارے(آئی ایل او) کی مالی معاونت اور حکومتی اداروں کی سرپرستی میں سکردو، گانگچھے اور شگر کے اضلاع میں مقامی لوگوں نے انفرادی طور پر یا اجتماعی صورت میں جدید تقاضوں کے عین مطابق یہ کھڈی کی صنعت بحال کی  ،اس سے کم وقت میں زیادہ مصنوعات تیار ہوتی ہیں ۔اس کام میں مردوں کے شانہ بشانہ عورتیں بھی کام کرتی ہیں ۔اب مارکیٹ میں ان کی  تیار کردہ اشیاء دستیاب ہیں۔ لیکن بدقسمتی سے اب تک ضلع کھرمنگ ایسا کوئی پروجیکٹ متعارف کرانے میں ناکام رہا ہے۔

ملک کے دوسرے علاقوں کی طرح بلتستان بھر میں بھی مغربی لباس تو مقبول ہیں ان کے ساتھ ساتھ ہمارے مقامی لباس اور ثقافتی علامات کو بھی ایک نئی زندگی اور نیا روپ ملا ہے۔ قار کا رواج بھی لوٹ آیا ہے اور اب شہروں میں بھی مقامی چادر اوڑھنے والے پینڈو نہیں گردانے جاتے۔

ضلع کھرمنگ میں بھی اس معدوم اونی صنعت کی بحالی کیلے عوامی نمائندوں،سماجی کارکنوں،فلاحی تنظیموں اور حکومتی اداروں کی طرف سے کوئی اقدام نہیں اٹھایا گیا ہے۔اس صنعت سے وابستہ دستکاروں اور ہنرمندوں کو استعداد کار بڑھانے کیلئے کوئی منظم کام دیکھنے میں نہیں آرہا ہے۔ البتہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ڈاکٹر شجاعت مثیم صاحب نے اپنے الیکشن کے منشور میں ان چیزوں  کو شامل کیا تھا جوکہ قابل عمل تجویز تھی۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ محکمہ ثقافت اور ضلعی حکومت اس قسم کے فائدہ مند گھریلو صنعتوں کی بحالی ،ترقی اور ان ثقافتی مصنوعات کومارکیٹ تک پہنچانے کیلئے جامع پالیسی مرتب کریں۔جس سے اس صنعت سے جڑے کاریگروں اور ہنرمندوں کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ  معاشیات پر بھی اچھے  اثرات مرتب ہوں ۔

ضلع کھرمنگ کے نالہ جات میں وسیع چراگاہیں جغرافیائی لحاظ سے بھیڑ بکریوں کی افزائش نسل اور اونی صنعت کیلے نہایت موزوں اور سازگار ہے۔لہذامحکمہ حیوانات کے حکام کی  جانب توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ دیسی بکریوں اور بھیڑوں کی بجائے اعلیٰ  نسل کی بھیڑوں اور بکریوں کو متعارف کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ان کی افزائش سے نہ صرف گوشت،دودھ کی پیداوار میں خاطرخواہ اضافہ ہوگا بلکہ اعلی ٰ معیار کی اون بھی وافر مقدار میں حاصل ہوسکتے ہیں۔اور ان اونی ملبوسات کو دانشمندانہ طریقے سے ملکی سطح پر اجاگر کرنے اور کاریگروں اور ہنرمندوں کیلئے درکار سہولتوں کو ممکن بنانے کی ضرورت ہے۔اس سے گھریلو اونی صنعت کو فروغ ملے گا اور یہ شعبہ ضلع کیلئے پائیدار معاشی ترقی کا ضامن ثابت ہوگا۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *