آپ کی کائنات۔۔۔۔محمد نصیر

آپ اپنے گھر یا دفتر میں اپنی کرسی پر بیٹھے ہیں۔ بظاہر ساکن ہیں لیکن حقیقت میں آپ اتنی تیزی سے حرکت میں ہیں کہ آپ کو پتہ چل جائے تو آپ چکرا جائیں گے۔ لیکن محض چکرائیں گے، گریں گے نہیں کیونکہ یہ حرکت مستقل اور رواں ہے یہ تب تک آپ کو محسوس نہیں ہوگی جب تک یہ رک نہ جائے۔ اور رکے گی یہ ایک ہی بار۔ جب۔۔۔۔ چھٹی کی گھنٹی بجے گی۔

اِس وقت آپ زمین کے ساتھ اس کے محور کے گرد قریباً آدھا کلو میٹر فی سیکنڈ   (460 میٹر) کی رفتار سے گھوم رہے ہیں۔ جبکہ سورج کے گرد آپ کی گردش ایک سیکنڈ میں 30 کلومیٹر ہے۔ پھر آپ سورج کے سسٹم کے ساتھ جس کہکشاں میں شامل ہیں وہ بھی ایک بلیک ہول کے گرد گھوم رہی ہے اور وہاں آپ کی رفتار۔۔۔۔۔ یہ نہیں بتاؤں گا کیونکہ تب آپ کا واقعی تراہ نکل سکتا ہے۔ اور چونکہ اس مضمون کو پڑھتے ہوئے آپکو حیرت کے سمندر میں بار بار غوطے کھانے پڑیں گے اس لئے آپ کی توانائیاں بعد کے لئے بچا کر رکھتے ہیں۔

رات کے وقت آسمان پر نظر دوڑائیں۔ اگر ویلے ہیں یا عاشق ہیں تو تارے گننے شروع کریں۔ اور جب ٹائم پاس کر چکیں تو جا کر سو جائیں۔ لیکن اگر آپ متجسس ذہن بھی رکھتے ہیں تو ان چھوٹے، بڑے، ٹمٹماتے، جگمگاتے ستاروں کو غور سے دیکھیں۔ آپ کی نظر کی حد جہاں ختم ہو رہی ہے وہاں آنکھیں بند کر لیں اور میرے ساتھ سپیس شِپ پر سوار ہو جائیں میں آپ کو مزید آگے جہاں تک ممکن ہو سکا لے کر جاؤں گا۔۔۔۔۔ خوش آمدید۔۔۔۔ شکریہ۔ تو اب آپ کی اجازت سے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔

سب سے پہلے تو یہ کلیئر کر دوں کہ یہ جو تھوڑی دیر قبل آپ دیکھ رہے تھے۔ یہ اصلی ستارے نہیں بلکہ ان کی ماضی کی تصویریں ہیں۔ یہ ستارے جو اِس وقت ہیں یہ ہمیں اُس وقت نظر آئیں گے جب ان کی روشنی ہم تک پہنچے گی۔ سورج کی روشنی 8 منٹ اور 20 سیکنڈ میں زمین تک پہنچتی ہے۔ چنانچہ ہم اس کی آٹھ منٹ پرانی تصویر دیکھتے ہیں۔ سورج کے بعد زمین سے جو سب سے روشن ستارہ نظر آتا ہے اس کا سائنسی نام پولارِس ہے جسے قطبی ستارہ بھی کہتے ہیں۔ یہ زمین سے 433 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ اب یہ نوری سال کیا ہوتا ہے؟ نوری سال خلا کے فاصلے کا پیمانہ ہے۔ یہ روشنی کی رفتار سے بنتا ہے۔ یعنی روشنی ایک سال میں جتنا فاصلہ طے کرتی ہے اسے نوری سال یا لائٹ ایئر قرار دیا جاتا ہے۔ چنانچہ سورج کا زمین سے فاصلہ آٹھ نوری منٹ ہے۔ اب اگر سورج پر کوئی تبدیلی ہوتی ہے تو اس کی خبر ہمیں آٹھ منٹ بعد ہوگی۔ پولارس پر اگر ابھی موجودہ وقت میں ایک گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہو جائے تو اس کا علم زمین والوں کو 433 سال بعد ہوگا جب اچانک قطبی ستارہ غائب ہو جائے گا۔ پھر ایک گھنٹے بعد جب ستارہ دوبارہ روشن ہوگا تو فوراً کوئی پکارے گا “او بتی آ گئی”۔ لیکن اس وقت 2451ء میں انہیں کوئی بتانے والا نہیں ہوگا کہ یہ لوڈ شیڈنگ 2018ء  میں ہوئی تھی۔ بہرحال میں اس مضمون میں ستاروں کو ستارے ہی کہوں گا ستاروں کی تصویریں نہیں کہوں گا۔ کیونکہ میرے اس نئے پنگے کی وجہ سے ممکن ہے بات گمبھیر ہو جائے۔

یہ جو ستارے آپ کو نظر آ رہے ہیں، یہ اور ان سے کہیں زیادہ جو دوری یا سائز کم ہونے کی وجہ سے نظر نہیں آ رہے، آپکے سورج سمیت ایک کہکشاں کا حصہ ہیں۔ جسے “آکاش گنگا” یا “ملکی وے” کہا جاتا ہے۔ آپ کی یہ کہکشاں کتنی بڑی ہے اس کا اندازہ ایسے لگائیں کہ اگر میں اس سپیس شِپ کی رفتار روشنی کی رفتار کے برابر کر دوں، روشنی کی رفتار مطلب ایک سیکنڈ میں زمین کے سات چکر لگانا، تو ہمیں اس ملکی وے کے ایک سرے سے دوسرے تک پہنچنے میں ایک لاکھ سال لگیں گے۔ یقیناً یہ سائز چکرا دینے کے لئے کافی ہے۔ آکاش گنگا کے بطن میں آپکے سورج کے جیسے چھوٹے بڑے ستاروں کی تعداد کم و بیش 250 بلین بتائی جاتی ہے۔ جبکہ آپ کی یہ کہکشاں سائز کے اعتبار سے  ایک درمیانے درجے کی کہکشاں ہے۔ اس کے ساتھ جو کہکشاں موجود ہے اس کا نام “اینڈرو میڈا” ہے۔ وہ آپکی کہکشاں سے دو گنا بڑی ہے۔ اس کے ستاروں کی تعداد ایک ٹریلین مانی جاتی ہے۔ اس کے ساتھ ایک کہکشاں “ایم ایٹ” ہے۔ جو ساٹھ گنا بڑی ہے۔ یہ سائز بھی کچھ نہیں۔ کیوں کہ یہیں ایک کہکشاں “آئی سی ون ون زیرو ون” ہے۔ جو آپ کے والی سے چھے سو گنا بڑی ہے۔ اب اس کے بچوں کی تعداد کا اندازہ آپ خود لگائیں۔

یہ کہکشائیں مل کر کلَسٹرز بناتی ہیں۔ جس کلسٹر میں آپ موجود ہیں۔ اس کا نام “لوکل کلسٹر” ہے۔ اور اس ایک کلسٹر میں 54 کہکشائیں ہیں۔ پھر کلسٹر بھی مل کر سوپر کلسٹر بناتے ہیں۔ اور آپ والے “وِرگو سوپر کلسٹر” میں سو سے زائد کلسٹرز موجود ہیں۔ سب سے بڑا سوپر کلسٹر جو اب تک دریافت ہوا وہ “لیناکیا سوپر” کلسٹر ہے۔ جو ایک لاکھ سے زیادہ کلسٹرز پر مشتمل ہے۔

یہاں میرا اندازہ ہے کہ آپ کا دماغ یقیناً پلپلا سا ہو چکا ہو گا۔ لیکن دھیرج رکھئے کیونکہ کہانی ابھی ختم نہیں ہوئی۔ یہاں سے مزید آگے جائیں تو جو کچھ موجود ہے اس میں یہ سوپر کلسٹر بھی ایک ریت کے ذرے سے زیادہ بڑا نظر نہیں آتا۔ اور یہ بھی کائنات کا وہ حصہ جو اوبزَروایبل ہے۔ یعنی جس کو ہم انسان ٹیکنالوجی کی مدد سے دیکھ سکتے ہیں یا اب تک دریافت شدہ ٹیکنالوجی کی مدد سے اتنی دور تک ہی جا سکے ہیں۔ یہ اوبزروایبل کائنات جسے ہم انسان اب تک جان سکے ہیں۔ اس کی لمبائی ایک طرف سے تقریباً 93 بلین نوری سال ہے۔ اب میں معذرت چاہوں گا۔ اس سے آگے کیا ہے ہم انسان نہیں جانتے اور شائد کبھی جان بھی نہ سکیں۔ کیونکہ اوبزروایبل کائنات سے دور روشنی کو ہماری زمین تک پہنچنے میں ہماری زمین کی کل عمر سے زیادہ وقت درکار ہوگا۔ دوسری بات یہ ہے کہ کائنات کی ابتدا یعنی بِگ بینگ سے اب تک کائنات مسلسل پھیل رہی ہے۔ ہم ستاروں سے آگے والے جہاں کے پیچھے بھاگتے جائیں گے اور وہ آگے پھیلتا جائے گا۔

درحقیقت یہ اوبزروایبل کائنات اصل کائنات کے ایک فیصد کا ہزارواں حصہ بھی نہیں۔ اصل کائنات کا اندازہ لگانے کے لئے کئی تھیوریز موجود ہیں۔ جن میں سے ایک تھیوری آف کاسمک انفلیشن ہے۔ اس کے مطابق ہماری اصل کائنات کتنی بڑی ہو سکتی ہے اسکا اندازہ ایسے لگائیں کہ ایک لائیٹ بلب کو اوبزروایبل کائنات مان لیں تو اصل کائنات کا سائز تقریباً پلوٹو سیارہ سے بھی زیادہ ہوگا۔

سوچیں اگر یہ کائنات اتنی بڑی ہے تو اس کا بنانے والا کتنا عظیم ہو گا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *