میرے مُلک کا تعلیمی نظام۔۔۔نعمان رؤف ہاشمی

ریاست پاکستان میں تعلیم نظام اتنا خراب ہے کہ آپ کسی بھی حصے کو لے لیں آپ کو خرابی ضرور ملے گی پہلے تو ہماری ریاست تعلیم کو عوام کی دسترس تک لانے میں ستر سال میں کامیاب نہیں ہو پائی پاکستان میں ہر سال میں 51 لاکھ بچےپیدا ہوتے ہیں اور اب تک 2 کروڑ بچے سکولوں سے باہر ہیں یہ 21 کروڑ آ بادی والے مُلک کیلئے یہ بہت بڑا فگر ہے اوپر سے جن بد نصیبوں کو یہ تعلیم میسر بھی آتی ہے تو سونے پر سہاگہ  ایسی تعلیم کا وہ کیا کریں گے جس کے  مکمل ہونے پر صرف تعلیمی اخرجات کی رسید سے زیادہ اُن کی جھولی میں کچھ نہیں ہوتا۔

اگر بنیاد دیکھیں تو تعلیم کا شمار ہمارے مُلک کے  سب سے فائدہ مند کاروبار میں ہوتا ہے اس لئے معیاری تعلیم مہنگی تو ہوگی ہی ،اس طرح معیاری تعلیم ایک غریب کی دسترس سے باہر ہوجاتی ہے اور معیاری تعلیم صرف سرمایہ والوں کو میسر آتی ہے یہاں مڈل کلاس بھی جیسے تیسے ایڈجسٹ ہو ہی جاتے ہیں اور غریب کیلئے سرکاری تعلیمی نظام ہی بچتا ہے وہاں نہ انفراسٹرکچر ہے نہ وہ ٹیکنیکس نہ ویسا کورس جو بچوں کو موجودہ  زمانے سے ہم آہنگ کر سکے اُن کی شخصیت کو نکھار سکے بچوں کو ایک راستہ متعین کرنے کی صلاحیت دے سکے خیر یہ تو سکینڈری تعلیم تک کا المیہ ہے باقی اصل بحران تو اس کے  بعد شروع ہوتا ہے۔

اس نظام کی خرابی میں ہمارے معاشرتی دباؤ بھی اپنا کردار ادا کرتے ہیں  معاشرتی دباؤ نے ہمارے آنے والے بچوں کیلئے آپشنز ہی بہت کم چھوڑے ہیں ،ماضی میں زیادہ تر دو شعبہ  جات کی طرف ہمارا رجحان رہا ہے ایک انجینئر اور دوسرا ڈاکٹر، تیسرا آپشن تو ہماری سوسائٹی میں برسوں سے تھا ہی نہیں ۔ابھی چند سال پہلے بزنس ایجوکیشن کا رجحان چل نکلا ہے تو ایک آپشن کا مزید اضافہ ہوا ہے۔ اس کے  علاوہ پڑھائی میں اور کسی طرف اکثریت کا رجحان ہے ہی نہیں، ایک بہت بڑی تعداد بغیر دلچسپی کے  انجینئر، ڈاکٹر اور بینکر بن جاتی ہے وہ جیسے تیسے اس نظام سے ڈگری لینے میں کامیاب ہو تو جاتے ہیں مگر وہ کبھی بھی ایک اچھے پروفیشنل نہیں بن پاتے، وہ اپنی فیلڈ میں کچھ نیاء کرنے کی صلاحیت کے  حامل نہیں ہوتے ،وہ صرف کتابی علم تک ہی محدود رہتے ہیں کیونکہ   اُن پر یہ شعبہ مسلط کیا گیا ہے اگر یہی شعبہ اُن کا شوق یا اُن میں اس شعبے کے  متعلق خدا داد صلاحیتیں ہوتیں  تو وہ اس شعبے کو دل سے اختیار کرتے اور پھر اپنے شعبے میں ترقی کرتے اور خود اس شعبے میں کچھ نیاء کر پاتے ان تینوں شعبوں کے  حوالے سے دیکھنے میں آیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں وقتا فوقتاً اصلاحات کی جاتی ہیں، جدت لائی جاتی ہے، یہ فیلڈ ز تو بہتر سے بہتر ہوتی جارہی ہیں۔

مگر یہاں مسئلہ انسٹیٹیوٹ کی تعداد کا بھی ہے انجینئرنگ یونیورسٹیز تعداد میں اتنی خاص نہیں ہیں مگر ہر سال گریجویٹ ہونے والے انجینئرز کیلئے بھی پاکستان میں نوکری کے  مواقعے  انتہائی کم ہیں اس کے  برعکس میڈیکل کی فیلڈ کو دیکھ لیجئے ۔۔اداروں کی تعداد محدود اور میرٹ کی وجہ سے ڈاکٹرز کی تعداد اتنی کم ہے کہ آبادی کے  تناسب سے دیکھا  جائے تو 2200 افراد کیلئے ایک ڈاکٹر میسر ہے

اور کتنے ہی بیچارے بچپن سے ڈاکٹر یا انجنیئر بننے کی تگ ودو میں لگے رہتے ہیں اور ناکام ہونے کی صورت میں تعلیم ہی منقطع کردیتے ہیں پر کیا صرف یہی تین شعبے ہیں اس دُنیا میں کیا کوئی اور شعبہ ہے ہی نہیں؟ باقی شعبوں  کو نہ حکومتی سطح پر کوئی پذیرائی ملتی ہے نہ ہی عوامی سطح پر اُن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، نہ ہی اُن کیلئے جاب کے  موقعے بنائے جاتے ہیں اس لئے باقی تمام فیلڈز میں پاکستان بہت پیچھے رہ گیا ہے ۔اور تو چھوڑئیے کمپیوٹر سائنس جیسی اہم فیلڈ میں  ہم اپنے پڑوسی مُلک سے کم ازکم دس سال پیچھے ہیں۔ ایک عام بات جو بچپن سے سنتا آرہا ہوں کہ “سبھی پڑھ لکھ کر بڑے لوگ بن گئے تو یہ موچی،مستری وغیرہ کا کام کون کرے گا” بھائی پہلے تو آپ کی سوچ کا یہ عالم ہے کہ آپ محنت مزدوری کو  کم تر کام سمجھ رہے ہیں ۔دوسری بات یہ ہے کہ آپ یہ بات کر کے  اپنے  معاشرے سے بھی ز یادتی کر رہے ہیں، کیا آپ نہیں چاہتے کہ آپ کے  معاشرے میں جدت آئے ،ایک موچی کا  بیٹا پڑھ لکھ کر Shoe designer بن جاتا ہے، ایک ان پڑھ مستری کی جگہ آپکو ایک پڑھ لکھا Civil engineer میسر آجائے جو یہ تمام  کام مہارت اور جدت کے  ساتھ سر انجام دے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *