آنکھوں کی گستاخیاں معاف ہوں ۔۔۔۔۔۔ حسام درانی

آپریشن کے بعد آنکھیں ابھی اس قابل نہیں ہوئی تھیں کہ  مکمل طور پر روشنی برداشت کر سکیں، روشنی، گرد و ہوا تو آنکھوں کے لیے ایسی چیزیں ہیں جیسے سیف گارڈ کے اشتہار میں ڈرٹو،جرمانڈو اور پاکستانی سیاست میں نواز شریف کے لیے عمران نیازی۔

اسی دوران یوتھیستان کےقریب تک کا سفر ایک مجبوری بن گیا۔ اسی کا قصد کیا اور آرام دہ سفر کی خاطر ڈائیوو کے ٹرمینل پر پہنچا، کالے رنگ کی عینک ان کٹار نینوں پر ایک کوہلو کے بیل والے کھوپوں کی مانند چڑھائے جیسے ہی اندر داخل ہوا تو ایسا لگا کہ  جیسے ہر سو اندھیرا ہی اندھیرا ہے تو خیال آیا ،  کھوپے تو اتار لوں تو اندازہ ہوا کہ  خدا کی رنگینیاں دیکھنی ہیں تو شفاف محدث  شیشوں کی عینک کی اشد ضرورت ہے کیونکہ یہ ہی نہیں پتہ چل رہا تھا کہ  پنڈی/اسلام آباد کا ٹکٹ کاونٹر کدھر ہے۔ آخر تیسری عینک پر پتہ چلا کہ  یہ دور کی ہے آنکھوں پر جمائی اور انتہائی اکڑ کے کاونٹر پر پہنچا ٹکٹ لی (قیمت کا مت پوچھئے گا کم از کم دو ضخیم کتب کی قیمت کے برابر) اور جیسے ہی مڑا تو ایک نسوانی آواز سنائی دی ” Excuse Me, Cant you See”، فورا عینک اتار کر دیکھا تو ایک قتالہ کے انتہائی مہنگے برانڈڈ اور نازک پاپوش کے ساتھ میری انتہائی کھردری کھیڑی عین غین کر چکی تھی۔۔
شرمندگی سے معذرت کی اور تیزی سے باہر کی جانب لپکا اور شرمندگی کم کرنے کے لیے بنچ پر بیٹھ کر جیسے ہی  سلفی لینے لگا  تو خیال آیا کہ

” گورے گورے مکھڑے پر کالا کالا چشمہ ”

آخر گھر سے نکلنے سے قبل مہنگے تین دھاری بلیڈ سے داڑھی مونڈھ کر نکلے تھے ہم بھی ،فوراً  کھوپے آنکھوں پر چڑھا لیے۔
اور دبنگ کے سلمان خان کی طرح ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر دھویں کے مرغولے اڑاتے ہوے خیالات میں ہی معاذ بن محمود   کو دھواں نکالنے کے مقابلے میں ہرا کر گولڈ میڈل کے حقدار ٹھہرے ۔

اسی دوران بس کی روانگی کا وقت ہو گیا، بس میں داخل ہوتے ہی دروازے پر کھڑی باجی دیکھ کر منہ سے نکلا۔۔۔۔
” باجی اسلام و علیکم ” باجی نے میرے ہاتھ سے ٹکٹ کھینچی اور ٹکٹ اس طرح دو ٹکڑے کئے کہ  جیسے ٹکٹ نہ  ہو باجی نے مجھے ہی اپنے تئیں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کے چیر دیا ہو، میں ٹکٹ واپس لیتے ہوئے تھوک نگل کر اتنا ہی کہہ پایا شکریہ اور کان لپیٹ کر سیٹ ڈھونڈتے  کر اس پر  جا بیٹھا۔
ٹھنڈی مشین اپنا پورا زور لگا کر بس کا اندرونی ماحول ایسا بنا چکی تھی کہ  بندہ سیٹ پر بیٹھتے ہی تمام کوفت و بےعزتی بھول جاتا ہے اور ایسا میرے ساتھ بھی ہوا، بس چلی اور ہرنی کی چال سے جیسے ہی موٹر وے پر پہنچی  ،باجی اپنے پورے جاہ و جلال کے ساتھ وارد ہوئی اور پانی کا گلاس اور دوسرے چکر میں کانوں پر لگانے والے کھوپے دے گئی اور تیسرے چکر میں ایک عدد کھانے کی چند اشیاء کا ڈبہ۔
اتنی سی دیر میں آنکھیں ماحول کے ساتھ ایڈجسٹ ہو گئی تھیں اور بقول لالا عامر ککے زئی کے میں نے نظریں تیز کروائی ہیں، یہ تیز نگاہیں ایک جگہ پر آ کر جیسے پھنس ہی گئی ہوں۔۔۔۔ ایک نازنین، قتالہ مثل حور اپنے الجھے ہوے بالوں کو سلجھانے کی کوشش میں تھی، بال تھے کہ  الجھ الجھ جا رہے تھے (ساتھ میں غریب تباہ دے) اور سڈول ،گداز بازو جو کہ  نیلے رنگ کی آدھے سے بھی آدھی آستین میں ایسے دمک رہے تھے جیسے رات کو شفاف پانی میں چاند اور کلائی پر باندھا ہوا کالا ڈورا میرے جیسوں کی خبیث نظر کے لیے نظر وٹو کا کام کر رہا تھا، شاید میں صہیب جمال سے بڑا ٹھرکی بن چکا تھا۔

اسی دوران اس نازنین کی نگاہ مجھ پر پڑی میرا کھلا ہوا رالیں گراتا منہ اور خباثت سے بھری آنکھیں دیکھ کر  اسے ایسے لگا جیسے عارف خٹک اسے تاڑے جا رہا ہے۔ اس نے اپنی کاجل سے لبریز بڑی بڑی آنکھوں کو اور بڑا کیا اور انتہائی نفاست سے مینیکیور کئے ہوے بڑے بڑے ناخن دکھائے  تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے ایک بھوکی لبوہ اپنے شکار کو دیکھ کر پنجے نکالتی ہے۔
میں نے ہڑبڑا کر پہلے اپنا منہ بند کیا رالیں پونچیں اور عینک اتار کر صاف کرنے کے بہانے سر جھکا لیا، اس وقت میں اپنے آپ کو ایسا محسوس کر رہا تھا جسکے بارے میں پشتو تو ایک طرف پنجابی میں بھی انتہائی برا لفظ ہوتا ہے۔

فورا ً کھانے کی اشیاء کا ڈبہ کھولا تو پہلی چیز جو ہاتھ آئی وہ ایک عدد برگر تھا، اب کیونکہ دماغی حالت کافی غلیظ ہو چکی تھی تو نجانے  کہاں سے اپنے دوست بوٹی کی بات یاد آ گئی جب اس سے پوچھا تھا کہ  یار بوٹی تیری گرل فرینڈ کیسی ہے۔ بوٹی نے چرس والے سگریٹ کا انتہائی گہرا کش لگایا اور گہرا دھواں ریس کورس کی فضا میں چھوڑتے ہوئے  کہا تھا یار سمجھ لو میکڈونلڈ کا بگ میک برگر ہے، ہاتھ پورا پڑ جاتا ہے، فوراً  ہی سر کو جھٹکا اور برگر پر ہاتھ رکھا ہی تھا اس پر چڑھا ہوا باریک لچکدار حفاظتی لفافہ مجھے بار بار رانا اصغر والی بات یاد کر وا رہا تھا۔

اور میں بھی کتنا “وہ” تھا پشتو اور پنجابی لفظ والا جو کہ  کھانے کی چیز کو نا جانے کس کس سے ملا رہا تھا، آخر اپنے اندر کی خباثت میں ہر شخص کی چیدہ چیدہ خصوصیات کو شامل کر کے اور بڑھایا اور ایک کمینی سی مسکراہٹ کے ساتھ باریک لفافہ ہٹایا اور جیوے یا مرشد صفوان کا نعرہ لگاتے ہوئے نگاہیں اس قتالہ پر ڈالیں اور برگر کو دانتوں سے بھنبھوڑنا شروع کر دیا جیسے۔۔ میں  نے جب اندر کے شیطان کو جوتیاں ماریں تو اس نے مجھے ڈبل ماریں کہ   بیغیرت ایسی بات تو میرے بھی ذہین میں کبھی نہیں  آئی جس پر تم میرا نام لگا رہے ہو کہ  میں نے بہکا دیا۔۔۔۔

ویسے آپس کی بات ہے ایسے مواقع پر نا تو ڈاکٹر عاصم کی کوئی نصیحت یاد آتی  ہے اور نا ہی فقیر راحموں کی جلالی آنکھیں اور نا ہی احمد سلیم کا کوئی واعظ،

یاد آتا ہے تو اپنا انعام رانا  پائین ۔۔آخر کو ضمانت تو وکیل ہی کرواتے ہیں نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔

حسام دُرانی
حسام دُرانی
A Frozen Flame

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *