محرم اور ثقافتی تاریخ ۔۔۔ابو بکر

قضا نے تھا مجھے چاہا خرابِ بادہء الفت
فقط خراب لکھا، بس نہ چل سکا قلم آگے

مجھے آدھا شیعہ کہہ لیجیے۔ ماتم کرتا ہوں، کلمہ نہیں پڑھتا۔ آتے جاتے دنوں کی بوچھاڑ میں ایذا پسندی سے کام چلاتا آیا ہوں جو اب شخصیت کا حصہ بن گئی ہےاور یکسر طبع زاد دکھائی دیتی ہے۔ دورِ جدید کی نبض تھامے گوئٹے نے سچ کہا تھا کہ فرد اگر خود پر غور کرے تو اسے اپنا آپ بیمار محسوس ہوگا۔ تاریخ نے یہ تشخیص درست قرار دی۔ اس کے بعد کی تاریخ دراصل بیماری کی تاریخ ہے۔ ہوشیار مریض روزانہ دوا پینے لگے تاکہ مرض اور معمولات میں تصادم نہ ہو۔ کچھ لوگوں نے بیماری کو ہی معمول قرار دیا اور اسے دن رات کی مصروفیت بنا لیا۔ یہ لوگ جان چکے تھے کہ آخرکار بیماری غلبہ پاجانے والی ہے۔ انجام دیکھا تو فیصلہ کیا کہ لڑ کر مرنا چائیے۔ ان لوگوں نے مرض سے صلح نہ کی۔ دورِ جدید تاریخ کی زندہ ٹریجڈی ہے۔
میں بھی انہی بیمار لوگوں میں سے ہوں اور وارڈ کلچر کا نمائندہ ہوں۔ وارڈ کلچر بیمار معاشرے کی ثقافت ہے۔ اس معاشرہ نے ایک وارڈ کے اندر تشکیل پائی ہے۔ بیماری نہ رہے تو یہ وارڈ ختم ہوجائے۔ بیماری وارڈ معاشرے کے وجود کی اولین شرط ہے۔

مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہماری ظاہری حالت اور لاشعوری ترجیحات کے درمیان کا خلا کبھی اتنا وسیع نہ ہوا تھا۔ ہم اپنے آپ پر غور کرنے سےبچتے ہوئے جی رہے ہیں۔ معاشرہ انہی ظاہری حالتوں کی ترتیب کا نام ہے اور اس معاشرے کے خدوخال ایسے بن گئے ہیں کہ ہم اس سے اپنا حقیقی اظہار نہیں کرسکتے۔ یہ بیگانگی اس معاشرے میں وقت بسری کی قیمت ہے۔ مرض اور معمولات میں صلح۔
الغرض بیماری کی ان گنت علامات اور بھی ہیں۔ لیکن بیماری سے بڑھ کر بیمار کی بات ہے۔
محرم کی ثقافت قربانی، مصیبت، گھاٹا، پیاس، زخم، قتل، ظلم، گناہ اور ندامت کا تہواری تسلسل ہے۔ دور جدید میں چونکہ ظاہری حالت کی طرف مکمل توجہ دی جاتی ہے پس مذاہب کی ثقافت کو انسان دوستی ، صلح، امن، محبت، اجر اور درس تک محدود کردیا گیا ہے۔ لارڈ رسل نے مسیحیت پر اعتراض کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ مسیحیت کا دوزخ اور سزا کا تصور غیراخلاقی ہے اور انسانوں کو دہشت زدہ کرنے کے لیے ہے۔ جدید دنیا کے لیے ‘دہشت’ کا تصور ہی ناپسندیدہ ہے۔ اس دنیا کا آغاز ہی دہشت کے خاتمے سے ہوا تھا۔ سلاطین اور کلیسا کی دہشت۔ لیکن یہ دہشت ختم نہیں کی گئی بلکہ ریاست ، آئین اور اداروں کو سونپ دی گئی۔ عامتہ الناس ہنوز دہشت زدہ ہیں۔
دورِ جدید میں ایک اہم واقعہ اور بھی ہوا ہے۔ مذہبی عقیدے نے انسان سے شکست کھائی ہے۔ مذہبی عقیدے کے ثقافتی اظہار کے طور پر مختلف رسوم موجود تھیں۔ دورِ جدید میں یہ رسوم بھی گلوبلائزڈ ہوگئی ہیں۔ عقیدہ مرکزی نہیں رہا بلکہ یہ رتبہ اب انسان کو حاصل ہے۔اکثر مذہبی تہوار بھی عالمی انداز میں منائے جاتے ہیں۔ اس سے قبل ان تہواروں کی کاٹ تراش کی جاتی ہے تاکہ وہ ثقافتی اختصاص دور ہو سکے جس کی وجہ سے پہلے یہ تہوار صرف ایک برادری تک محدود تھے۔ مسیحی ہوئے بغیر کرسمس، آتش پرست ہوئے بغیر نوروز اور ہندو ہوئے بغیر ہولی منائی جاتی ہے۔ تمام تہوار عالمی درجہ نہیں پا سکتے۔ صرف وہی تہوار گلوبل بن پاتے ہیں جن کا ثقافتی پس منظر جدیدیت کی ثقافت سے لگا کھاتا ہو۔

جدیدیت ایک عالمی انسان کی قائل ہے۔ جدیدیت کے عالمی تہوار مضبوط ثقافتی پٹھوں سے معذور اور تجریدی ہیں۔ عالمی فادر ڈے، عالمی یوم محبت ، عالمی یوم مسکراہٹ وغیرہ وغیرہ۔ جدیدیت انفرادی ثقافتوں کی دشمن ہے۔ ان تمام کو ختم کر کے وہ صرف اپنی ثقافت لاگو کرنا چاہتی ہے۔ جبکہ زندہ تہوارصدیوں کا رشتہ چاہتے ہیں۔ جدیدیت ان تہواروں سے یہ رشتہ چھیننا چاہتی ہے۔ مجھے ان شیعاؤں پر حیرت ہوتی ہے جو زنجیر زنی کی بجائے خون کسی بلڈ بنک میں جمع کرا کے انسان دوست چہرہ اپنانا چاہتے ہیں۔ اس سے بہتر ہے کہ شیعہ اپنا خون سفید کرلیں۔ محرم کی فضا نقصان اور گلٹ سے بھری ہوتی ہے۔ اگرچہ کہا جاتا ہے کہ محرم کا اصل سبق اسلام کا دوبارہ زندہ ہونا ہے لیکن یہ محض بناوٹی رجائیت ہے۔ محرم سراسر نقصان کا موسم ہے۔ایک ایسا نقصان جو ضروری ہوتا ہے۔ محرم کی صورت مسلم ثقافت نے مسیح کے مصلو ب ہونے کا پہلو اپنے رنگ میں اجاگر کیا ہے۔عرب ثقافت بالعموم فاتحین اور جنگجوؤں کے رنگ میں رنگی ہے۔ یہی جارحانہ ثقافتی لہر اس کی رسوم اور تہواروں کی جان ہے۔ اس کے بیچوں بیچ محرم کی گلٹ اور نقصان کی اقدار عرب ثقافت کا داخلی بحران ہیں۔ہر فاتح ایک کربلا کا ذمہ دار ہے۔ عرب روح اپنی پیدا کردہ کربلا کو ایک عمومی جنگی واقعہ سمجھتی ہے۔ اسی کربلا کو عربوں کی مفتوحہ اقوام نے ایک قدر کی صورت پیش کیا۔
عرب اسلام میں عقیدہ مرکزی ہے اور انسان ثانوی۔ زبانی روایت کی وجہ سے الفاظ اور کلمے اہم ہیں۔ صحرائی سادگی ہے اور قبائلی ڈسپلن ہے۔ عرب اسلام اپنے پیروکاروں کو ایک جماعت کی شکل یونیفارمڈ دیکھنا چاہتا ہے۔عرب اسلام کے تہوار بھی اسی پس منظر میں ہیں۔ محرم اور تشیع اس عرب کلچر میں نمایاں ترین موڈی فی کیشن ہے۔ محرم کی ثقافت میں فرد اور اس کا عمل مرکزی ہے ۔اس کی فضا نقصان اور دھوکے کی یادگار ہے۔ قابل غور بات ہے کہ عرب اسلام اپنے اندر جدیدیت کی طرح عالمگیر رجحانات رکھتا ہے۔ محرم اسلام کی داخلی ریفارمیشن کا ایک راستہ ہے۔
محرم کو گلوبلآئزڈ کرنے کی کوششیں بھی بھرپور انداز میں جاری ہیں۔ جدید تناظر میں بین المذاہب امن کے پرچارک تمام مذاہب کو مجرد کر کے گلوبل لائزڈ کرنا چاہتے ہیں۔ یہی لوگ محرم کو بھی تمام انسانوں پر کھولنے کے لیے اسے جدید اقدار کا میلہ بنانا چاہتے ہیں۔ محرم کا ثقافتی تخصص بنو امیہ اور بنو ہاشم کی تاریخی کہانی سے پیدا ہوتا ہے۔ محرم منانے والے اگر نقصان کی یاد میں اپنے دشمنوں پر غیض و غضب چھوڑ کر جدید برداشت اپنا لیں تو محرم پھیل جائے گا مگر شدت نہ رہے گی۔
ثقافت تاریخ میں پیدا ہوتی ہے لیکن اس کا معقول ہونا لازمی نہیں۔ اس کا تاریخی طور پر درست ہونا بھی ضروری نہیں۔ ثقافت تاریخ اور افراد کے دو طرفہ رشتے کا نام ہے۔ ثقافت تاریخ کو اپنی نظر سے دیکھتی ہے۔ ثقافت کا نصف حصہ دراصل یکطرفہ تاریخ پر مبنی ہوتا ہے۔ ثقافتی مظاہر کی بحث میں زندہ انسان کا جائزہ تاریخ کے مجرد تجزیے سے اہم ہوجاتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *