نظریہ ارتقائے قانون فطرت۔۔۔۔محمد علی شہباز

زمان اور زمانہ جسے عرف عام میں وقت بھی کہا جاتا ہے ایک ایسا انسانی تصور ہے جسے ہم ایک غیر محسوس انداز سے مشاہدہ کرتے ہیں۔ یہ بات بہرحال ابھی نامعلوم ہے کہ کیا باقی ذی حیات اشیاء میں بھی ایسا کوئی احساس یا مشاہدہ پایا جاتا ہے؟ اور اگر ہاں تو انکے لئے زمانے کی کیفیت کیا ہوگی؟ یا یہ کہ صرف انسانی دماغ ہی اپنی پیچیدگی کی بنا پر اس قابل ہے کہ زمانے کا کوئی مشاہدہ کر سکے۔ فی الوقت یہ بات وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ انسان اس شئے جسے ہم وقت کہتے ہیں، کا مشاہد ہے۔ بلکہ نفسیاتی سطح پر انسانی افعال میں اسکا گہرا اثر ہے۔ ہم اپنے روزمرہ کاموں کی ترتیب ایک وقت کے پیمانے کو سامنے رکھ کر کرتے ہیں۔ اگر عام آدمی کی سطح سے بلند ہو کر معاشرتی سطح پر دیکھا جائے تو اقوام عالم کی تاریخ دراصل واقعات کا وقت میں بہاؤ اور پے درپے وقوع پذیر ہونا ہے۔ مختلف معاشرے اپنی ثقافت، روایت اور تہذیب کو وقت کے پیمانے میں رکھ کر نسل در نسل منتقل کرتے ہیں۔ اس سے مزید بلند تر سطح پر وقت کے بارے اہل علم کی رائے اور اسکی بنیاد پر قائم فلسفہ ہماری اور ہمارے معاشرے کی رہنمائی کررہا ہوتا ہے۔ وقت کی نوعیت و کیفیت کا اندازہ کرنا کسی بھی جہاں بین فلسفی و حکیم یا سائنسدان کی اولین ترجیح ہوتا ہے۔

زمانے کی تشریح کے بغیر کسی بھی عہد کی تاریخ اور اسکے مستقبل کے بارے میں کوئی جامع فلسفہ قائم نہیں ہوسکتا۔ یہ الگ بات ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف انداز سے اسکی تشریح ہوئی اور طریقہ کار بھی منفرد رہے ہیں۔ فلسفی اسکو کسی بنیادی اصول سے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سائنسدان اسکو تجربے سے اخذ کرنا چاہتے ہیں۔ روحانیت کے قائل مذاہب عالم اسکو انسانی روح میں تلاش کرتے ہیں۔ بہرحال جیسا بھی طریقہ کسی فرد یا معاشرے کے مزاج کو بہتر لگتا ہے اسکو اپنا لیتا ہے۔ چونکہ ہم ایک سائنسی عہد میں رہ رہے ہیں جہاں سائنس کو دیگر ذرائع علم پر برتری دی جاتی ہے اور اسکے نتائج کو تجربے سے پرکھ کر قبول یا رد کیا جاسکتا ہے لہٰذا ہم اپنے مضمون کے آغاز ہی میں واضح کردینا چاہتے ہیں کہ ہمارا مضمون سائنسی نقطہ نظر سے زمانے کی کیفیت کا جائزہ لے گا۔

پروفیسر لی سمولن فزکس کے نامور استاد اور محقق ہیں۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم ہمپشائر کالج لندن سے حاصل کی اور بعد ازاں ہارورڈ یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی فزکس میں مکمل کی۔ انکا بنیادی کام فزکس کی ایک جدید شاخ یعنی کوانٹم گریوٹی سے ہے جس میں کشش ثقل کی قوت کا مطالعہ کوانٹم فزکس کے قوانین کی مدد سے کیا جاتا ہے۔گزشتہ کچھ عرصہ سے پروفیسر لی سمولن فزکس کی دنیا کے جدید سوالات یا یوں کہیے تناقضات پر غوروفکر کر رہے ہیں۔ اکیسیویں صدی کی فزکس اپنے عہد کی دیگر علمی تحریکوں جیسے مابعد جدیدیت کی طرح ایک خاص نظام ہائے فکر کی بجائے کچھ جزوی تناقضات میں گھری ہوئی ہے۔ ان میں ڈارک میٹر، ڈارک انرجی، بلیک ہول، کوانٹم اینٹینگلمنٹ جیسے تناقضات شامل ہیں۔ یہاں تک کہ سائنسدانوں نے فزکس کے بنیادی مسائل پر ازسرنو بحث کا آغاز کر دیا ہے۔ اس بحث میں ایک اہم بحث زمان ومکاں کی ہئیت ہے۔ اس سلسلے میں پروفیسر لی سمولن کا نظریہ” ارتقائے قانون فطرت” اہمیت کا حامل ہے جس پر ہم روشنی ڈالنا چاہتے ہیں۔

سب سے بنیادی سوال یہ کہ کیا کائنات میں کوئی قانون کام کرر ہا ہے؟ اور اگر ہاں تو کیا یہ قانون ایک ریاضیاتی مقداری فارمولا میں قید ہے؟ اور کیا یہ ریاضیاتی مقداری قانون وقت کے لحاظ سے جامد ہے؟ اسطرح کہ ایک وقت کا قانون آئندہ کے مستقبل کا مکمل تعین کر سکتا ہے؟ پرانی فزکس میں ان سوالات کا جواب کچھ یوں ہوگا:
کائنات میں لازمی طور پر ایک قانون کام کررہا ہے اور اس قانون کو ہم ریاضیاتی مقداری فارمولا کے ذریعے سمجھ سکتے ہیں۔ یہ قانون ہی قانون فطرت کہلاتا ہے۔ اور یہ قانون وقت کے لحاظ مستقل و جامد ہے۔ یعنی یہ قانون ہر زمانے میں قابل عمل ہے۔ اور یہ کبھی تبدیل نہیں ہوتا۔ اور اسی قانون کے تحت ابتدائی معلومات سے مستقبل کا مکمل تعین ممکن ہے۔
مگر یہاں ایک اہم تضاد پیدا ہوتا ہے وہ یہ کہ ان جوابات کے مطابق زمانہ اپنی حقیقی قیمت کھو دیتا ہے۔ وقت کی نوعیت ایک گزرتے ہوئے لمحے کی بجائے ایک جامد آن واحد کی سی ہوجاتی ہے جس پر تبدیلی کا عمل نہیں گزرتا۔ اور اگر تبدیلی کا عمل نہ ہو تو وقت کی کوئی اصل نہیں رہتی۔ اگر وقت اصل نہیں تو کائنات محض ایک مطلق العنان اور مجرد قانون فطرت سے استخراج ہوا نتیجہ ہوگا۔ حالانکہ فزکس کا بنیادی مقصد ہی کائنات میں ہونے والے مظاہر کی وقت میں تبدیلی کا مطالعہ ہے۔

ایک تضاد جو بیسویں صدی میں سامنے آیا ہے۔ فزکس کے مطابق کائنات کا آغاز یعنی کائنات میں وقت کا آغاز ایک خاص نقطہ آغاز یعنی بگ بینگ سے ہوا۔ بگ بینگ کے بعد کائنات وقت میں تبدیل پذیر ہوتے ہوئے موجودہ شکل میں پہنچی ہے۔ اس نظریہ کی بنیاد بھی یہی ہے کہ کائنات میں ایک مطلق قانون ہے جو ایک موجود وقت سے مستقبل کا پتا بتاتا ہے جیسے بگ بینگ کا لمحہ آج کی کائنات اور مستقبل کا پتا بتا رہا ہے۔ یہاں سوال یہ ہے کہ وہ اول موجود لمحہ کہاں سے آیا؟ کیا اس موجود ‘اب’ سے پہلے بھی کوئی ماضی تھا؟ اور کیا اسکا ماضی کا ماضی بھی تھا؟ گویا فزکس اپنی بنیادوں میں جو کہ مادیت ہے، کائنات کے لئے کسی نقطہ آغاز کی منکر ہے۔ تو بگ بینگ کو نقطہ آغاز کہنا بھی غلط ہے۔ مشہور سائنسدان سٹیفن ہاکنگ کی کتاب ‘وقت کی مختصر تاریخ’ کا موضوع ہی اس تضاد کی نشاندہی کر رہا ہے۔
ایک اور تضاد جو ہمیشہ سے قائم ہے وہ یہ کہ قانون فطرت ایک خاص ہئیت ہی کیوں رکھتا ہے؟ اکیسویں صدی کی فزکس میں ایسے بہت سے ریاضیاتی مقداری فارمولے بنا لئے گئے ہیں جو ہماری کائنات کی وضاحت کرتے ہیں۔ ان میں سے کون سا قانون وہ حتمی و غیرمتبدل قانون ہے جو کائنات میں ہمیشہ سے کام کررہا ہے؟ اور اگر ہم وہ تلاش بھی کر لیں تو سوال ہوگا کہ باقی قوانین کو فطرت نے لاگو کیوں نہ کیا؟ اسکا جواب فزکس میں ‘انسانی اصول’ کے علاوہ کوئی نہیں۔ یعنی کہ چونکہ ہم انسان اس کائنات میں اسطرح پائے جاتے ہیں لہٰذا یہی قانون فطرت نے ہمارے لئے منتخب کیا ہے وگرنہ ہم نہ ہوتے تو کائنات بھی ایسی نہ ہوتی۔ یہ دلیل انتہائی مضحکہ خیز معلوم ہوتی ہے۔ گویا پرانی فزکس اپنی بنیادوں میں تضادات پر قائم ہے۔

فزکس میں ان تضادات کی وجہ اسکی بنیادوں میں کام کرنے والے غلط مفروضہ جات ہیں۔ ان میں سے ایک مفروضہ وہی ہے جسکی نشاندہی مشہور فلسفی ڈیوڈ ہیوم نے کی تھی جسے ہم مسئلہ استدراج کہہ سکتے ہیں۔ یعنی یہ کہ ہم جزوی مشاہدات کی بنا پر آفاقی نظریات تشکیل نہیں دے سکتے۔ ہم ایک گلاس کو پھینکتے ہیں اور وہ ٹوٹ جاتا ہے۔ ہم ان دو واقعات یعنی پھینکنے اور ٹوٹنے کا تعلق صرف مشاہدے سے اخذ نہیں کر سکتے ۔ اسی طرح ایک قسم کے الیکٹران کے مشاہدات کو تمام کائنات کے الیکٹران پر منطبق نہیں کیا جا سکتا۔ ان مثالوں سے یہ نتیجہ ملا کہ جو قوانین فزکس مشاہدہ کرتی ہے وہ کائنات کے جزوی قوانین ہیں۔
پرانی فزکس جسکو نیوٹن کی فزکس کہا جاتا ہے کی بنیاد جس رسمی منطق پر رکھی گئی تھی اس میں حرکت کو بنیادی نہیں بلکہ ثانوی حیثیت دی گئی۔ یونانیوں کے مزاج میں حرکت کی بجائے سکون کو بنیادی قرار دیا جاتا تھا یہی وجہ ہے کہ ان کے بنائے ریاضی میں رکے ہوئے اجسام کا مطالعہ کیا جاتا رہا۔ فزکس میں بھی اسی اصول کو پیش کیا گیا۔ نیوٹن کے فارمولے ایک جامد مکان میں اشیاء کی حرکت کا مطالعہ پیش کرتے ہیں۔ جس میں زمانے کا کوئی کردار نہیں اور مکان کی وضاحت ایک ساکن اور مجرد نظام نقاط سے کی گئی ہے۔ لیکن حقیقی کائنات ایسی نہیں ہے۔ حقیقی کائنات میں ہر لمحہ تغیر پذیر ہے۔ اور کائنات میں حرکت بنیادی ہے۔ جیسا کہ مشہور یونانی فلسفی ہیراقلیطس نے کہا تھا ‘ہم ایک دریا میں دو مرتبہ قدم نہیں رکھتے’ جس تصور کو بعد میں جرمن فلسفی ہیگل نے توسیع دی اور کارل مارکس نے اسکو باقاعدہ سیاسی و سماجی نظام کی شکل میں قابل عمل فلسفہ بنا دیا۔ فریدرک انگلز کی کتاب ‘فطرت کی جدلیات’ کا مطالعہ اس ضمن میں قابل تعریف ہے۔

ایک اور مسئلہ یہ کہ نیوٹن کی فزکس اشیاء کا مطالعہ انکی جزوی حیثیت میں کرتی ہے۔ جس میں یہ کہا جاتا ہے کہ اس ایک واقعہ کا تعلق باقی کائناتی مظاہر سے اس قدر خفیف ہے کہ ہمیں اسکی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔ لیکن جدید انتشاری نظریہ یہ ثابت کرتا ہے کہ کائنات میں ایک خفیف سا واقعہ بھی بہت بڑے مظاہر کو جنم دے سکتا ہے۔ لہٰذا جو قوانین ایک خاص نظام کو پوری کائنات سے الگ کر کے قائم کیے جاتے ہیں وہ آفاقی قوانین نہیں ہوسکتے۔ یہی وجہ ہے کہ فزکس میں قوانین جزوی نظام ہائے کار کی تو وضاحت کرتے ہیں لیکن آفاقی قوانین کی شکل اختیار نہیں کر سکتے۔ اسی طرح سائنسی طریقہ کار میں تجربے کی نوعیت ایک کنٹرول شدہ اور دہرائے جانے والے مشاہدے کی سی ہے۔ لیکن کل کائنات نہ تو ہمارے کنٹرول میں ہے اور نہ دہرائی جا سکتی ہے لہٰذا اس بارے کو ئی بھی سائنسی قانون نہیں بنایا جا سکتا۔ لہٰذا یہ کہنا کہ وقت غیر حقیقی ہے اور زمانے کا وجود نہیں ایک غلط بیان ہے جسکی کوئی سائنسی توجیہ نہیں دی جا سکتی۔

اب ہم ایک مختلف انداز فکر سے ان تضادات کا حل ڈھونڈنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس نقطہ نظر کو ہم ‘ارتقائے قانون فطرت’ کا نام دیں گے۔ اس میں وقت کو ایک بنیادی حقیقی حیثیت دی گئی ہے۔ وقت کی اصل سے مراد یہ کہ کائنات میں جو کچھ حقیقی ہے وہ “اب” ہے یعنی یہ موجودہ لمحہ حقیقی ہے اور اس موجودہ لمحہ کے لئے کائنات میں ایک قانوں ہے جو حقیقی ہے۔ لیکن زمانے کے اثر سے یہ قانون مطلق نہیں ہے لہٰذا قانون فطرت بھی مطلق نہیں ہے اور وقت کے ساتھ قانون ارتقاء پذیر ہے۔ اسی طرح ماضی اور مستقبل کا اپنا حقیقی وجود ہے اور وہ دونوں ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔ ماضی گزر چکا اور اب غیر حقیقی ہے لیکن اس کے اثرات حال میں دیکھے جا سکتے ہیں۔ مستقبل غیر متعین ہے۔
آئن سٹائن نے ایک دفعہ مشہور فلسفی روڈلف کارنپ کو لکھا کہ وہ ‘اب’ یا موجود لمحہ کی وضاحت کو لے کر انتہائی پریشان ہے کیونکہ یہ ‘اب’ کا لمحہ انسانی نفسیات میں نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ انسان ماضی اور مستقبل کے حوالے سے ایک جیسے جذبات نہیں رکھتا۔ لیکن اسے دکھ ہے کہ فزکس میں انسانی نفسیات کا دخل نہیں۔ کارنپ کے بقول آئن سٹائن کے دکھ کی وجہ یہ غلط سوچ تھی کہ انسانی مشاہدہ اور اسکا علم ایک ہی شے ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے مشہور خطبات میں آئن سٹائن پر وقت کے غیر حقیقی ہونے کا اعتراض کیا ہے اور یہ کہ اس سے مستقبل کا فلسفہ مایوسی کی طرف جاتا ہے۔ مستقبل میں جدت اور تازگی ہونی چاہیے یہی وجہ ہے کہ اقبال کے تصور زماں میں خودی کا ہر لمحہ ایک تازہ ہوا کا جھونکا بن کے آتا ہے۔

سائنس کا مسئلہ یہ ہے کہ سائنس اسی کی وضاحت کرتی ہے جو بیان کیا جا سکے۔ لیکن بہت سے انسانی مشاہدات اور جذبات ایسے ہیں جنکو بیان نہیں کیا سکتا لہٰذا سائنس ان کے بارے میں رائے نہیں دے سکتی۔ فی الحال اسے ایک نفسیاتی یا لسانی معمہ قرار دیا گیا ہے۔
بہرحال ارتقائے قانون فطرت میں کائنات کی اصل ایک ریاضیاتی غیر مرئی فارمولا نہیں بلکہ زمانہ ہے۔ ہر ایک شے زمانے کی قید میں ہے۔ ہر ایک حقیقت ایک زمانے کی حقیقت ہے۔ کیونکہ قوانین فطرت مطلق نہیں بلکہ وقت کے ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں۔ گویا زمانے کو قانون پر برتری ہے۔ پروفیسر لی سمولن نے بہرحال یہ سوال نہیں اٹھایا کہ زمانہ کیا ہے اور کیا زمانہ بھی کسی قانون کا پابند ہے؟ میرے نزدیک انہیں اسکا جواب یہی دینا ہوگا کہ زمانہ کسی قانون کا پابند نہیں بلکہ ایک آزاد وجود ہے وگرنہ انکا اپنا نتیجہ ہی تضاد کا شکار ہوجائے۔ اور یہ کہ زمانے کا آغاز نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح کائنات میں بگ بینگ سے پہلے بھی واقعات رونما ہوئے ہونگے۔ اور ان واقعات میں مختلف قوانین کام کرتے رہے ہونگے جنکا ارتقاء ہوتے ہوتے ہمیں ‘اب’ کا موجود لمحہ میسر آیا ہے۔ قوانین فطرت کے ارتقاء کا تصور پروفیسر لی سمولن سے پہلے بھی فلسفیوں اور سائنسدانوں میں زیر غور تھا۔ مثال کے طور پر یہاں کچھ کا ذکر کرنا مناسب ہوگا۔

پال ڈیراک نے کہا:
” وقت کے آغاز میں قوانین فطرت شاید موجودہ شکل سے مختلف رہے ہونگے۔ لہٰذا ہمیں قوانین فطرت کو زمان و مکاں میں مطلق کی بجائے وقت کے ساتھ مسلسل تغیر پذیر سمجھنا چاہیے”
رچرڈ فائن مین نے کہا:
“وہ واحد شعبہ جس نے ابھی تک ارتقاء کو قبول نہیں کیا فزکس ہے۔ ہم کہتے ہیں کہ ہمارے پاس قوانین ہیں۔۔۔لیکن سوال کیا جائے کہ وہ وقت میں ہم تک کیسے پہنچے؟ لہٰذا ہوسکتا ہے کہ یہ قوانین ہر زمانے میں ایک جیسے نہ رہے ہوں اور اسطرح ایک تاریخی ارتقاء کا سوال پیدا ہوتا ہے”
کیا نظریہ ارتقاء کا اطلاق فزکس میں ہو سکتا ہے؟ آئندہ کا مستقبل اور مزید تحقیق سے حاصل ہونے والے نتائج جنکو تجرباتی طور پر مشاہدہ کیا جا سکے، اس سوال کے جواب میں معاون ہونگے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *