اروندھتی رائے۔سچائی کی گرج ۔۔۔۔۔۔۔۔اورنگزیب وٹو

اروندھتی رائے عہد حاضر کے ان چند نابغہ روزگار دانشوروں میں سے ایک ہیں جنھوں نے سچائی اور نظریات کی جنگ دلائل دانش اور ہمت سے لڑی ہے۔ایک ایسی دنیا جہاں طاقت کا منبع رجعت پسند سرمایہ دار حکومتیں اور کمپنیاں ہوں،کارپوریٹ میڈیا کا دیو طاقت کے مراکز کا رفیق ہو،جہاں اختلاف کی سزا موت بھی ہو سکتی ہو وہاں ایسی آواز کی موجودگی امید کی ایک کرن ہے۔بھارت جیسے سماج میں جہاں انتہاپسندی نے آزادی ،جمہوریت مساوات اور عدم تشدد کے گاندھیائی آدرشوں کو بری طرح سے شکست دی ہے وہاں اروندھتی رائے ایک ایسی آواز ہیں جو امن ،سچائی، برداشت اور عدم تشدد کا علم بلند کرتی نظر آتی ہے۔

گاندھی کے دیس میں آج جب گوڈسے کی روح حکمران ہے جہاں نہرو کے سیکولر اور سوشلسٹ بھارت کا بیچ چوراہے منہ کالا کیا جا رہا ہے،اروندھتی اپنے رہبر چومسکی کی طرح اس اندھی اور وحشی طاقت کے سامنے آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں۔کیرالہ کے کثیر المزاہب اور کثیر النسل سماج میں آنکھ کھولنے والی اروندھتی رائے کو آج انسانی حقوق کا علمبردار سمجھا جاتا ہے، جو نہ صرف اپنی کہانیوں بلکہ اخباری تبصروں مضامین میں بھی رجعت پسند سرمایہ داری نظام اور اسکی طفیلی ریاستوں کے طاقتور طبقات کے سامنے آواز بلند کرتی نظر آتی ہیں۔اروندھتی رائے کی وجہ شہرت اس کا پہلا ناول “دی گاڈ آف سمال تھنگز” بنا جس کی کہانی نو آبادیاتی نظام کے خاتمے کے بعد سماج کے کمزور طبقات کو پیش آنے والی مشکلات اور جبر کے گرد گھومتی ہے۔طاقتوروں کے بنائے ہوئے قوانین جنہوں نے ہندوستان کو  ہزاروں سال  سے جکڑ رکھا ہےیہ کہانی انہی کے پس منظر میں تخلیق کی گئی ہے۔

اروندھتی رائے کا تازہ ترین ناول “دی منسٹری آف اٹموسٹ ہیپینس” میں بھی سماج کے جبر کا شکار مخصوص طبقات کے احساسات کو آواز دی گئی ہے۔اروندھتی رائے نے ادب کو سماج اور سیاست کے ساتھ جوڑتے ہوئےان طبقات کے احساسات کو آواز دی ہے جن کو نظام سے الگ کر دیا جاتا ہے اور ان کی نمائندگی بھی با اختیار طبقات خود کرنے لگتے ہیں۔رائے کا پہلا ناول ایک اچھوت اور عیسائی عورت کے پیار کی کہانی ہے جبکہ دوسرا ناول خواجہ سراؤں کی زندگی کے نشیب و فراز کا احاطہ کرتا ہے۔

رائے کی غیر ادبی تحریریں سرمایہ دارانہ نظام،ریاستی جبر،معاشرتی تنہائی اور ماحولیاتی تباہی کے موضوعات پر مبنی ہیں۔رائے نوم چومسکی کو عہد حاضر کی آخری دانشورانہ آواز سمجھتی ہیں جو حق اور سچائی کی راہ پر گامزن ہے۔اروندھتی صرف بین الاقوامی کارپوریٹ فورمز یا ڈرائنگ روم طرز کے دانشورانہ مباحثوں پر ہی اکتفا نہیں کرتیں بلکہ ماؤ  باغیوں کی آواز دنیا تک پہنچانے کے لیے خود انکے کیمپوں تک جا پہنچتی ہیں اور ان بستیوں میں بسی دنیا کا چہرہ دہلی اور بیجنگ کے سامنے لاتی ہیں اور مسائل کے پر امن تصفیے کی وکالت کرتی ہیں۔

رائے صاحبہ کی آواز کشمیر کے لیے بھی اٹھتی ہے اور اسکی پاداش میں ان پر دھاوا بھی بولا گیا۔بالی ووڈ اداکار اور بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما پاریش راول تو انہیں ٹرک کے پیچھے باندھنے کی خواہش کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔حال ہی میں سامنے آنے والے واقعات شاہد ہیں کہ کیسے اندھی طاقت کے سامنے بہت ساری آوازیں دفن کر دی گئیں یا اپنی اثر پذیری کھو بیٹھیں۔گزشتہ برس قتل ہونے والی گوری لنکیش کے قاتل کا تعلق بھی اسی قبیل سے ہے جس نے گاندھی کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دفن کر دیا۔ آج جب گاندھی اور گوڈسے کی روحیں باہم متصادم ہیں تو اروندھتی رائے اس قبيل کے لوگوں کی آنکھوں میں کانٹے کی طرح کھٹکتی  ہیں ۔سچائی اور حق گوئی کی روایت ابراہیم سے سقراط اور منصور سے گاندھی تک چلتی آئی ہے اور رائے بھی آج کی دنیا میں اسی روایت کی پیامبر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *