سی پیک و خدشات۔۔۔محسن علی

سی پیک بند یا روکا نہیں جاسکتا اسکی وجہ یہ ہے کہ سی پیک ساٹھ ممالک کے درمیان بیلٹ ہے جس میں سے گولڈن بیلٹ یا “قدیم سونے کی چُڑیا” ایشیاء کو دوبارہ اس جانب لے جانا ہے اور چین اگر یہ روکے گا تو چین کو اپنا نقصان ہوگا چین کو اب ملک سے باہر فیکٹریز و ورکرز کی ضرورت ہے ملک کے اندر پھیلتی آلودگی چین کو اندر سے مار رہی ہے ، دوسری جانب بھارت کا بھی ایک تیرہ ممالک پر مشتمل اس طرز کی بیلٹ بنانے کا منصوبہ تھا جو بجٹ نہ ہونے پر اور سیاسی و ریاستی معاملات کے پیش نظر رہ گیا ، اگر چین نے روکا تو بھارت اُس پر عمل کرنے کی طرف بڑھے گا ، چین کو شفافیت بجا نظر نہیں آرہی تھی لہذا فوج کی بات مانی عمران خان نے کے تین جرنیل و دو سویلین ہونگیں جس کے بعد راستہ دیا گیا عمران کا چین کی اسٹیبلشمنٹ پر لہذا یہ کچھ سلو ہوسکتا ہے مگر رک نہیں سکتا۔

اگر سال بھر کے لئے روک دیا تو چین کا نقصان زیادہ ہوگا ہاں البتہ پاکستان سی پیک سے جو جو تیرہ سے چھبیس فیصد فائدہ حاصل کرے گا جو کہ نقصان دے سکتا ہے اگر پاکستان اس دوران سوچ بچار کرکے اگلے منصوبوں پر ڈیل کرے تو پاکستان کو چالیس سے پینتالیس فیصد تک فائدہ دے سکتا ہے ورنہ “سی پیک چائنیرز ڈریگن “اژدھا” کے مانند ثابت ہوگا اور مہلک سی پیک میں چین نہیں، پیچھے روس کا پیسہ بھی لگا ہے وہ بھی اس میں چین کے ساتھ شامل ہے وہ اپنے بین الاقوامی معاملات کی وجہ سے سامنے نہیں آرہا سی پیک میں ایک سائیڈ رول اسرائیل بھی ادا کریگا جس کو وہ امریکہ سے چھپا کر اپنا مفاد دیکھ رہا ہے ،۔۔۔

خیر اسرائیل اپنے ڈیڈ سی کو کرآمد   کرنا چاہتا ہے اس لئے اور وہ بھی اب دنیا میں اپنا پوزیٹیو امیج قائم کرنے کی کوشش میں ہے لہذا ابھی اسرائیل و ترکی بھی کچھ کرینگے چند سال میں پیش رفت ۔۔ مگر اصل سرمایہ کاری چین کی ہے اب پاکستانیوں کو عمران خان کو درست اقدامات کی حمایت کرنی ہوگی تنقید کم دوسری وجہ یہ ہے ہم سب عمران ٘مخالف کی حمایت کریں وجہ یہ ہے پاک بھارت جنگ ہوئی تو اتنا نقصان نہیں ہوگا اگر چین و بھارت کو ایک دوسرے سے الگ رکھنا ہے تو اگلے پانچ سال عمران کو چھوٹا ہوتے ہوئے ممالک میں بھی جنوبی ایشیاء کا کپتان عملی نہ بنے ظاہری بننا ہوگا ورنہ ۔۔ پاکستانی قوم اندرون و بیرون ملک رہنے والوں کو شدید نقصان ہوگا لہذا تنقید برائے تنقید سے اجتناب کرنا ہوگا یہ ہماری مجبوری ہوگی مگر یہ مجبوری ملکی مفاد میں ہوگی وگرنہ مارشل لاء کی راہ ہموار کرکے آگے مارشل لاء کا اسٹاپ ہے ایک چھوٹا سیٹ اپ بنا کر اس حکومت کے بعد اگر آپ لوگوں کو یاد ہو نہ یاد ہو کہ ایک خبر آئی تھی کہ آرمی نے دو ہزار ایک و تئیس تک ملک میں مارشل لاء نہ لگانے کی امریکہ و یورپ کو یقین دہانی کروائی ہے جن دنوں میموگیٹ کا اُبال تھا ۔

اگر آپ لوگوں کو یاد ہو  کہ ایک خبر آئی تھی کہ آرمی نے دو ہزار اکتیس  تک ملک میں مارشل لاء نہ لگانے کی امریکہ و یورپ کو یقین دہانی کروائی ہے جن دنوں میموگیٹ کا اُبال تھا .اس لئے پاکستانی دانشوران اور تجزیہ نگاروں کو سوچ سمجھ کر بات کرنے کی ضرورت ہے کسی بھی بات پر طوفان اُٹھادینا چائے کی پیالی میں طوفان اٹھادینے والی روش ترک کرنی ہوگی ۔ جتنی ذمہ دارانہ صحافت و تجزیہ کی اس دور حاضر میں ضرورت ہے شائد اتنی ہی اکہتر کے دور میں اور پھر بھٹو کی پھانسی سے قبل تھی کیونکہ پاکستان کے سماج کا رُخ موڑ پر ہے ایک بار پھر نائن الیون کے بعد اب لہذا قوم و لیڈروں کی ذمہ داری ہے اس موقع پر کچھ ایسا نہ کر بیٹھیں کہ بہت دیر ہوجائے .

محسن علی
محسن علی
اخبار پڑھنا, کتاب پڑھنا , سوچنا , نئے نظریات سمجھنا , بی اے پالیٹیکل سائنس اسٹوڈنٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *