سیاسی حلالہ

کافی عرصہ پہلے ایک واقعہ سنا تھا آج اچانک یاد آگیا۔ایک شخص گلفام اپنی بیوی سکینہ سے کافی بے دردی سے پیش آتا اور اسے اکثر مارتا پیٹتا رہتا۔ شب و روز ایسے ہی گزرتے رہے۔ اور ایسا کرتے کرتے دونوں کی یہ روٹین بن گئی یہاں تک کہ اگر وہ ہفتہ دس دن مار کٹائی نہ کرتا تو محلہ والے خیریت پوچھنے آجاتے کہ جناب طبعیت تو ٹھیک ہے نا۔۔۔ایک دفعہ ان کی لڑائی بہت زوروں پر چلی کیونکہ آج سے پہلے تو لڑائی کھانا اچھا نہ پکنے یا ایسی ہی چھوٹی موٹی باتو ں پر ہوتی تھی لیکن آج پہلی دفعہ ان کی لڑائی شک پر تھی۔ جی شک پر۔۔ شک وہ جو ہنستے بستے گھر کو اجاڑ دیتا ہے، محبت ختم کر دیتا ہے اور یہاں تو محبت پہلے سے ہی موجود نہ تھی جو ان کی لڑائی کو روکتی۔

آج جب اس نے سامنے والے دکاندار کے کہنے پر اپنی بیوی پر سبزی والے کے ساتھ چکر کا پوچھا تو اس کا تراہ نکل گیا۔ جی بالکل قاری حنیف ڈار صاحب والا تراہ۔ پہلے تو اس سکینہ پر سکتہ طاری ہو گیا اور نہ جانے گلفام کیا کیا کہتا رہا اور وہ ہکا بکا اس کو تکتی رہی ۔چاہے ان کے آپسی تعلقات کبھی اچھے نہ رہے تھے لیکن وہ کبھی ایسا سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ آج تک گلفام نے اسے جتنامارا گالیاں دی کبھی اس نے پلٹ کر ہاتھ نہ اٹھایا لیکن آج اسے جانے کیا ہوا اس نے پاس پڑا گلدان بے اختیار گلفام کے سر میں دے مارا جس سے گلفام کا سر پھٹ گیا۔ اتنے میں اس کی بوڑھی ماں ساتھ والے گھر سے گلفام کے چچا کو بلا لائی ۔ گلفام کو جب کچھ دیر بعد ہوش آیا تو اس نے فوراً ہی سکینہ کو طلاق دے دی۔ اگرچہ سکینہ کبھی بھی گلفام کے ساتھ خوش نہ تھی لیکن اس کا اس گھر کے سوا آسرا بھی نہ تھا ماں باپ مر چکے تھے۔ اولاد تھی نہیں ایک بھائی جو روزگار کے سلسلہ میں بہت پہلے کراچی شفٹ ہو چکا تھا اور اس کے ساتھ تعلق صرف کبھی کبھار فون تک محدود تھا اسے دیکھے سکینہ کو 4 سال گزر چکے تھے۔ گلفام کی زیادتیوں کے باوجود سکینہ اس کے ماں باپ کی دل و جان سے خدمت کرتی اور اس کے باقی رشتہ داروں سے حسن سلوک سے پیش آتی اس لیے سب کی ہمدردیاں سکینہ کے ساتھ تھیں۔

اس اچانک پیش آنے والی صورت حال نے جہاں سکینہ پر بجلی گرائی وہاں گلفام کے ماں باپ بھی سخت پریشان ہو گئے۔ گلفام کے چچا جہاں دیدہ انسان تھے انہوں نے معاملہ کو سمجھتے ہوے سکینہ کو اپنے گھر میں بھیجا اور سبزی والا جو کہ ان کاکرایہ دار تھا کو بلالیا ۔اس نے قرآن کو گواہ بنا کر قسم اٹھائی کہ ایسی کوئی بات نہیں ،یہ الزام اس دکاندارنےکچھ دن پہلے والے جھگڑے کی رنجش میں لگایا ہے۔گلفام اور اس کے چچا اس بات کوسمجھ چکے تھے ۔د کاندار پر تھوڑا دباؤ ڈالنے کی صورت میں سچ سامنے آگیا۔اس کے مطابق سبزی والا اسے پسند نہیں تھا،اور خواتین کی دکان پر جانے کیخلاف تھا ۔ لیکن اب چڑیا کھیت چگ چکی تھیں۔ ماں باپ اور اس کے لئے کھانا چچا کے گھر سے آ گیا۔ لیکن کب تک ماں باپ کی دیکھ بھال سب کیسے ہوگا۔ آہستہ آہستہ گلفام کو اپنی غلطی اور سکینہ کے ساتھ زیادتی کا احساس ہو گیا رہی سہی کسر ماں کی باتوں نے نکال دی۔

گلفام کی چچی نے اپنے شوہر کو سمجھایا کہ اس کا کوئی حل نکالو، کب تک سکینہ کو گھر میں بیٹھائیں گئے، چچا نے کافی دوڑ دھوپ کے بعد آخر ایک حل نکال لیا ۔۔۔۔۔۔ حلالہ! سکینہ نے صاف انکار کر دیا، گلفام کو بھی یہ بات ناگوار گزری۔ لیکن چچا نے سمجھایا کہ ماں باپ کو سنبھالنا اور باقی ذمہ داریاں تیری کمائی بھی اتنی نہیں کہ تو ملازم رکھ لے ،بلآخر گلفام نے ہاں کردی ۔ سکینہ ساتھ والے کمرے میں یہ باتیں سن رہی تھی اسے ایسا لگا جیسے اس کی اہمیت صرف کام والی ماسی کی سی تھی۔ بہرحال اس نے دوبارہ گلفام سے نکاح نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا لیکن اس سے کس نے پوچھنا تھا، پوچھنے والے نہ ماں باپ تھے اورنہ ہی کوئی اور۔قریبی لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد چچا نے جاننے والے کو منا لیا جس کی ابھی کچھ دنوں پہلے بیوی فوت ہوئی تھی، نکاح پڑھا گیا۔۔۔

دوسرے دن جب گلفام اور اس کے چچا گئے تو سکینہ نے طلاق لینے اور نئے شوہر نے طلاق دینے سے انکار کر دیا، کیونکہ نکاح کے بعد مولانا صاحب کو اصل صورت حال کا پتہ چلا کہ یہ تو حلالہ کے لیے نکاح کروایا گیا تو مولانا صاحب نے سکینہ اور اس کے دوسرے شوہر اشرف کو سمجھایا کہ وہ ایسا نہ کریں ۔۔ورنہ گناہ کے مرتکب ہوں گے۔سکینہ پہلے سے ہی گلفام کی حرکتوں سے تنگ تھی، اشرف بھی بیوی کی وفات کے بعد چاہتے ہوئے بھی دوسری شادی نہ کر سکا تھا اسے سکینہ کی صورت میں ایک نیا ہم سفر مل گیا۔یہ کہانی شاہد خاقان عباسی کے خود کو سیاسی حلالہ کےلیے پیش کرنے پر یاد آئی۔

Avatar
شیراز شیخ
میرانام شیراز شیخ ہے راجپوت گھرانے سے تعلق ہے ،اباؤ اجداد نے اسلام قبول کیا تو شیخ کا لقب پایا اسی کو ساتھ لے کر چل رہے ہیں کیا پتہ تھا کل شیخ ہونے پر لطیفے سننے کو ملے گے۔ پیشہ سے ڈیزاہنر ہوں پڑھنے کا شوق ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *