• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • علامتی بین العمل/ تعملیت کا نظریہ ۔۔ کچھ بیان و تشریح اور چند پرانی یادیں/احمد سہیل

علامتی بین العمل/ تعملیت کا نظریہ ۔۔ کچھ بیان و تشریح اور چند پرانی یادیں/احمد سہیل

” علامتی بین العمل “{ Symbolic interactionism }کے نظرئیے سے میرا تعارف 80 کی دہائی میں اس وقت ہوا جب میں امریکہ میں اپنی تعلیم مکمل کررہا تھا۔ اتفاق سے پوسٹ  گریجویٹ کی سطح پر شعبہ عمرانیات میں ” علامتی بین  العمل ” کا ایک خصوصی سیمینار شروع کیا ۔ میرے لیے یہ نظریہ قدرے نیا تھا،مگر میں نے اس کے متعلق سر سری طور پر سن رکھا تھا۔ کھوج لگائی  کہ یہ سیمینار کون پڑھائے گا،اور کس نے اس کو ترتیب دیا ہے۔؟ تو معلوم ہوا کہ اس مکتبہ فکر کے بانی ہربرٹ جارج بلومر {Herbert George Blumer ، 1900-1997} کے شاگرد “ڈاکٹر ہوربار” یہ کورس پڑھائیں گے۔ اس سیمینار میں صرف تین طلبا شریک ہوئے ۔میرے ساتھ ایک ہندوستانی اور ایک بنگلہ دیشی طالب علم شریک ہوئے۔ یہ مشکل کورس تھا۔ مگر ہم تینوں کویہ نصاب ہمارے استاد نے اسے دو سال تک بڑی محنت اور جانفشانی سے پڑھایا اور اپنے تینوں  طالبعلموں سے کوئی ایک درجن کے قریب تحقیقی مقالات بھی لکھوائے۔ اس زمانے میں ادبی تنقید اور علامتی بین العمل پر میں نے ایک مقالہ لکھا اور اس موضوع پر  سیمینار بھی دیا تھا۔
” علامتی بین العمل ” کی فکریات اور ادبی حوالے سے امریکہ میں زیادہ کام نہیں ہوا۔ طالب علمی کے زمانے میں راقم السطور  نے  اپنے کچے پکے ذہن سے تھورا بہت کام کیا تھا۔ مگر اس میں نہ میرے استاد نے زیادہ دلچسپ لی اور نہ ہی میرے شریک نصاب اس میں سنجیدہ تھے۔ لہذا بات آئی گئی ہوگئی ۔اور یوں میں بھی اس نظریے اور فکری روّیے سے دور ہوتا چلا گیا۔

” علامتی بین العمل “علامتی بات چیت کا ایک معاشرتی نظریہ ہے جو عملی نظریات سے تشکیل پاتا ہے اور دوسروں کے ساتھ من وتوکے علامتی ، اشارتی ،اور رموزیاتی شبہیات کو فرد  ذہن ، ذات اور معاشرت کے حوالے سے پرکھتا ہے۔ جس میں زبان کا عنصر اہم ہوتا ہے . دوسرے الفاظ میں انسان ایک دوسرے کو سمجھنے کے لیے علامتی دینا تخلیق کرتا ہے۔ جو انفرادی سطح پر ایک مخصوص طرز عمل بھی ا ختیار کرلیتا ہے۔

علامتی بین العمل کے نظرئیے میں تکلّم کا ارتکاب ایک معاشرتی نظریاتی نقطہ نظر سے ہوتا ہے اس نظرئیے کے تانے بانے بیسوی بین  صدی کے وسط کے ارد گرد بُنے گئے اور اب بھی معاشرتی اور بشریاتی علوم پر ہی نہیں جدید ساختیاتی نظرئیے پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

. یہ خاص طور پر مائیکرو عمرانیات اور معاشرتی نفسیات پر اثر انداز ہوئے ہیں۔ جو امریکی فلسفہ اور خاص طور پر جارج ہاربرٹ میڈ کی فکریات سے حاصل کیا جاتا ہے جو معاشرتی تعاملیت کی تشریح کے لئے ایک عملی طریقہ کار تصور کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں اس سیمینار میں ہم نے ہربرٹ میڈ کی کتاب ” ذہن، ذات اور معاشرے” کا خصوصی طور پر مطالعہ اور تجزیہ کیا۔

علامتی تعاملیت یا بین  عمل کا نظریہ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ علامتی بات چیت معاشرتی علوم میں کئی نظریات میں سے ایک منفرد نظریہ ہے . اس نظریہ کے مطابق، لوگ فطری اورعلامتی ماحول میں رہتے ہیں. علامتی بات چیت ایک ایسا عمل ہے جس نے دماغ میں علامات کی مدد سے باہمی معنی اور اقدار کو نجات دلوائی . معنی افراد کے درمیان باہمی تعامل کا حامل ہوتےہیں. معروض کے اپنے معنی نہیں ہوتے ہیں۔ . لیکن ان کے معنی سماجی کردار سے متعیّن اور ادا ہوتے ہیں. ، علامتی بات چیت ایک “عمل کی تشریح” ہوتی ہے.جس میں ہربرٹ میڈ، چارلس کولے، جان ڈیوی اور ہربرٹ بلومر{Dewey، Cooley، Mead، Blumer} نے اس نظریئے کو فکری بنیادیں فراہم کیں ۔ ان میں فلاسفہ کے فکری رویوّں میں اپنے طور پر انسانی رویے اور مزاجوں کے بعض پہلوؤں کی وضاحت بھی کی گئی ہے، وہ سب ایک دوسرے کے ساتھ بات چیت کےعمل پر متفق نظر آتے ہیں۔ کیونکہ گروھی سرگرمیاں اور سائیکی بین  العمل کو جنم دیتی ہیں ۔ جو ایک طرح کا ” شعور اجتماعی “ہوتا ہے اور یہ سب اس پر متفق بھی ہیں.

علامتی بین   العمل کےخیالات فرد کے بنیادی کردار کے نظریاتی پہلووں کی خودہی معاشرتی عکاسی تشریح   کرکے رویوں کو منظم بھی کرتا ہے اور معاشرے کی فطرت اور انسانی عمل اور بات چیت کی نوعیت سے خطاب کرتا ہے کہ متعلقہ منظر کشی کو کس طرح پیش کیا جائے جہاں معاشرے کے درمیان فرد اپنے تعلقات کو ایک ” جال” { ویب} اور ابلاغی رابطے  کے طور پر پیش کرتا ہے۔ جس میں افراد کے اعمال اور باہمی اثر ورسوخ اور مواصلات کے حوالے سے ماحول کے سیاق و سباق میں ایک ” علامتی آفاق تخلیق کرتے ہیں۔ اور یہ تخلیق کئی بار تخلیق کی جاتی ہیں۔ جہاں معاشرہ ایک لیبل کی شکل میں مجموعی طور پر بات چیت کا خلاصہ خلق کرتے ہیں . سوسائٹی موجود نہیں ہے۔ یہ تخلیق اور مسلسل دوبارہ تخلیق کیا جاتا ہے جیسے افراد بات چیت کرتے ہیں.

سماجی حقیقت یہ ہے کہ دو یا اس سے زیادہ افراد اس میں شامل ہونے والے واقعات کا اور بین العمل کا ایک بہاؤ ہے.جو صرف سماجی عمل سے عبارت ہے ۔ یہ زیادہ تر معاشرے اور فرد کے  رویے کے عمل سے اخذ کیا جاتا ہے۔ ان معنی میں یہ سماجی تعلقات کے ذریعے ابھر کر سامنے آتے ہیں اور ان کو معنی دئیے جاتے ہیں   جدید لسانی ساختیات کا عنوان بھی رہا ہے۔ جو لسان اور ابلاغ کی مائیکرو اور میکرو ساخت بھی ہے۔” علامتی بین  العمل یا تعملیت “کے نظرِئیے کی تین  معروضی اقسام ہیں:

1۔ طبعی {کرسی، پیٹر، راکٹ، برتن }
2۔ معاشرتی { استاد، ماں باپ، دوست،}
3۔ تجریدی { تصورات، اخلاقی اصول، رسم ورواج }

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *