• صفحہ اول
  • /
  • سائنس
  • /
  • کیا ڈائنوسارز واقعی ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے شہابیہ زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے ناپید ہوئے؟/ ترجمہ۔۔ قدیر قریشی

کیا ڈائنوسارز واقعی ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے شہابیہ زمین سے ٹکرانے کی وجہ سے ناپید ہوئے؟/ ترجمہ۔۔ قدیر قریشی

جی ہاں ہمیں یقین ہے کہ ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ایک بہت بڑا شہابیہ زمین سے ٹکرایا تھا جس سے زمین کی بیشتر انواع ناپید ہو گئی تھیں- اس واقعہ کے بہت سے شواہد موجود ہیں- مثلاً

1۔ دنیا بھر میں آپ کہیں بھی کھدائی کر لیں جب آپ ایسی چٹانوں تک پہنچیں گے جن کی عمر تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال ہے تو آپ کو اچانک ہر جگہ ایک ہی قسم کی چٹانیں ملیں گی- چٹانی کی اس layer کو Cretaceous–Paleogene boundary” (K-T boundary) کہا جاتا ہے- یہ چٹانیں اس شہابیے سے اٹھنے والی دھول سے بنی ہیں جو ساری دنیا میں پھیل گئی تھی اور آہستہ آہستہ کئی سالوں میں زمین پر بیٹھ گئی- اس چٹان کے علاوہ اور کوئی چٹان ایسی نہیں ہے جو دنیا بھر میں ایک ہی جیسی پائی جائیں- یہ چٹان اس شہابیے کے گرنے کی بہت بڑی شہادت ہے-

2۔ اس چٹان میں بھاری مقدار میں ایک ایسا عنصر پایا جاتا ہے جو اس چٹان کے علاوہ زمین پر بہت ہم کی کم مقدار میں موجود ہے- اس عنصر کا نام ہے Iridium- ہم یہ جانتے ہیں کہ یہ عنصر شہابیوں میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے- چنانچہ K-T boundary میں اریڈیم اس شہابیے کی وجہ سے ہی موجود ہے-

3- یہ شہابیہ جہاں ٹکرایا تھا وہاں پر ایک عظیم کریٹر موجود ہونا چاہیے- یہ کریٹر دریافت کیا جا چکا ہے جو میکسیکو کے ساحلی شہر چیکسیلوب (Chicxulub) کے قریب بحراوقیانوس کی تہہ میں موجود ہے-

4- Chicxulub کے کریٹر کا سائز، اس کی شکل اور اس کے ارد گرد کی جغرافیائی ساخت عین ویسی ہی ہے جیسی کے سائنسی ماڈلز کی پیش گوئی کے مطابق 10 سے 15 کلومیٹر کی جسامت کے شہابیے کے ٹکرانے سے بننے والے کریٹر کی ہونا چاہیے تھی-

5- اتنے بڑے شہابیے کے ٹکرانے سے اٹھنے والے گرد و غبار کے بادل کو دنیا بھر میں پھیل کر سورج کی روشنی کو کئی سالوں کے لیے روک دینا چاہیے تھا جس سے پودوں کی بہت سی اقسام کو ناپید ہو جانا چاہیے تھا- اور ہم یہی دیکھتے ہیں کہ
K-T boundary کے نیچے بہت سے ایسے درختوں اور پودوں کے فاسلز پائے جاتے ہیں جو K-T boundary کے اوپر دیکھنے کو نہیں ملتے-

6- ریاضیاتی ماڈل اس شہابیے کے گرنے کے بعد ایک شدید سونامی کی پیش گوئی بھی کرتے ہیں جس کی بلندی اور رفتار سے اس بات کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس سونامی سے کون کون سے علاقے غرق ہوئے ہوں گے- جیولوجسٹس کے مطابق یہ ماڈل جہاں جہاں سونامی کی پیش گوئی کرتا ہے وہاں وہاں سونامی کی علامات پائی گئی ہیں جو ساڑھے چھ کروڑ سال پرانی ہیں-

7- K-T boundary کے نیچے کی تہوں میں ڈائنوسارز کے ان گنت فاسلز پائے گئے ہیں لیکن اس کے اوپرڈائنوسارز کے فاسلز کی تعداد یکدم نہ ہونے کے برابر ہو جاتی ہے-

8- K-T boundary کے اوپر کہ تہوں میں (جو اس شہابیے کے ٹکرانے کے چند لاکھ سال بعد تک کے وقت کی ہیں) صرف چھوٹے جانوروں کے فاسلز ملتے ہیں جن کا وزن تقریباً 12 کلو سے کم تھا- اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بڑی جسامت کے تقریباً تمام جانور اس حادثے میں ناپید ہو گئے تھے- بڑے جانوروں میں صرف مچھلیاں، کچھوے، اور مگر مچھ کی انواع ہی بچ پائیں-

ان تمام شواہد سے ایک نتیجہ تو یہ نکلتا ہے کہ ڈائنوسارز آہستہ آہستہ معدوم نہیں ہوئے بلکہ ان کی نسلیں یکدم ناپید ہو گئیں اور ریڈیومیٹرک ڈیٹنگ سے یہ واضح ہے کہ یہ واقعہ تقریباً ساڑھے چھ کروڑ سال پہلے ہوا- شہابیہ ٹکرانے کے وقت کا اندازہ بھی عین ساڑھے چھ کروڑ سال ہی ہے- اگر ہم یہ دعویٰ کریں کہ ان حقائق کا شہابیے کے ٹکرانے سے کوئی تعلق نہیں تو پھر ان تمام حقائق کی وضاحت کرنا ناممکن ہو جاتا ہے-

اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ شہابیے کے زمین سے ٹکرانے سے اس قدر زیادہ انواع ناپید کیوں ہوئیں- اس کی وجہ یہ ہے کہ جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، اس شہابیے کے ٹکرانے سے گرد و غبار کا ایک بادل اٹھا جو ساری دنیا پھر چھا گیا اور سورج کی روشنی کا راستہ روک دیا- زمین پر کئی سال تک گھپ اندھیرا چھایا رہا- اس وجہ سے دنیا بھر کا تقریباً تمام کا تمام سبزہ ختم ہو گیا اور جھاڑیاں، پودے اور درخت مر گئے- درختوں کے مرنے سے چرندے قحط کے ہاتھوں ہلاک ہو گئے- ان کے مرنے کی وجہ سے چند ہی سالوں میں ان جانوروں کے شکار کرنے والے جانور بھی بھوک کے ہاتھوں جان دے بیٹھے اور ان کی انواع ناپید ہو گئیں-

لیکن مرنے والے درختوں کے بیج زمین میں دبے ہوئے موجود تھے- جونہی گرد و غبار کا بادل کچھ چھٹنے لگا اور سورج کی روشنی دوبارہ زمین تک پہنچنے لگی تو واٹر سائیکل دوبارہ شروع ہو گیا یعنی سمندر سے بخارات اڑ کر بارش کی صورت میں برسنے لگے- اس سے ایک تو باقی ماندہ گرد و غبار بھی بیٹھنے لگا اور دوسرے سالوں سے دبے بیج دوبارہ پھوٹنے لگے جس سے سبزہ اور درخت دوبارہ پھیلنے لگے- اس وقت تک تمام بڑے جانور ناپید ہو چکے تھے اور صرف چھوٹے جانور ہی بچے تھے جو زمین میں سرنگیں بنا کر رہتے تھے اور کیڑے مکوڑے کھا کر گزارہ کرتے تھے (اس وجہ سے یہ شہابیے کے اثرات سے کسی حد تک محفوظ رہے تھے)- اب ان جانوروں کے لیے وافر مقدار میں سبزہ، پھل اور بیج میسر آ گئے جبکہ انہیں کھانے والا کوئی جانور نہیں تھا جس وجہ سے ان جانوروں کی تعداد تیزی سے بڑھنے لگی-

ہم جانتے ہیں کہ Iridium کی زیادتی سے انڈے دینے والے جانوروں پر یہ اثر پڑتا ہے اور وہ یہ کہ ان کے انڈوں کے چھلکے بہت پتلے ہو جاتے ہیں- K-T boundary پر اریڈیم بہت زیادہ پاتا جاتا ہے جس سے ڈائنوسارز کے انڈوں کے چھلکے بہت پتلے ہو گئے اور ان میں بچے نہیں بن پائے کیونکہ یہ انڈے اپنے بوجھ تلے ہی ٹوٹنے لگے- یہ مسئلہ بھی ڈائنوسارز کے ناپید ہونے میں معاون ثابت ہوا- چھوٹی جسامت کے ڈائنوسارز جن کے انڈے بھی بہت چھوٹے تھے انہیں بہت زیادہ مسئلہ نہیں پیش آیا اور ان کے ننھے منے انڈوں کے چھلکے پتلے ہونے کے باوجود بدستور اس قابل رہے کہ ان میں بچے نشونما پا سکیں- یہ ننھے منے ڈائنوسارز وقت کے ساتھ سات ارتقاء کرتے کرتے آج پرندوں کی صورت میں ہمارے سامنے ہیں- ان پرندوں کے علاوہ چھوٹے چھوٹے میملز بھی ان حالات میں بچے پیدا کرنے کے قابل رہے کیونکہ میملز بچوں کو جنم دیتے تھے یعنی ان کے بچے انڈوں سے پیدا نہیں ہوتے تھے بلکہ رحمِ مادر میں نشونما پاتے تھے-

اگرچہ ہمیں عموماً یہ بتلایا جاتا ہے کہ اس شہابیے سے ڈائنوسارز معدوم ہو گئے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ڈائنوسارز کے علاوہ تقریباً 75 فیصد انواع ناپید ہو گئیں جن میں بہت سی مچھلیاں، پودے، ایلجی، میمل، چھپکلیاں اور حشرات بھی شامل ہیں-

بشکریہ سائنس ان اردو

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *