• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • پاکستان تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز۔۔۔۔ مجاہد خٹک

پاکستان تحریک انصاف کو درپیش چیلنجز۔۔۔۔ مجاہد خٹک

اس وقت پاکستانی سیاست کا ایک بڑا سوال یہ ہے کہ اڈیالہ جیل کے قیدی کیا سوچ رہے ہیں؟ کیا انہوں نے شکست تسلیم کر لی ہے یا وہ اپنی کرپشن اور سیاسی غلطیوں کی سزا پورے جمہوری نظام کو دینے کے لیے پر تول رہے ہیں؟ کیا وہ مولانا فضل الرحمان کے ساتھ ہاتھ ملا کر جمہوری عمل کو جڑ سے ہلا دینے کی کوشش کریں گے یا اس نظریے کا پاس رکھیں گے جو “ووٹ کو عزت دو” کے نام سے میرے رب نے ان کے ہی منہ سے نکلوایا ہے اور جسے انہوں نے انتخابی نعرہ بنایا تھا؟

جہاں تک تحریک انصاف کا تعلق ہے تو اس حوالے سے چند باتیں بہت اہم ہیں۔ پچھلے پانچ سال میں عمران خان نے خیبرپختونخوا کو بری طرح نظرانداز کیا اور یہ وہ صوبہ ہے جو ذہنی طور پر آزاد لوگوں پر مشتمل ہے۔ یہ لوگ کسی شخصیت، جماعت یا نظریے کے غلام نہیں ہیں بلکہ پرفارمنس کی بنیاد پر ووٹ دیتے ہیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ یہاں سے ایک حکومت نے نہ صرف دوسری بار الیکشن جیتا ہے بلکہ اسے پہلے سے بھی بہت زیادہ حمایت میسر آئی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تحریک انصاف نے بہرحال کچھ پرفارم کیا ہے جو سابقہ حکومتیں نہیں کر سکی تھیں۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ پچھلے پانچ سالوں میں اس صوبے میں حکومتی سطح پر ایک بھی میگا کرپشن کیس سامنے نہیں آیا۔ اس کے برعکس ماضی کی تمام حکومتیں کرپشن کے الزامات میں لتھڑی ہوئی تھیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی نے مختلف اداروں کی پرفارمنس بہتر کی اور یہ ایسے ادارے تھے جن کے ساتھ عوام کا روزوشب رابطہ رہتا تھا جس کی وجہ سے عوام اور حکومت کے درمیان اعتماد کا رشتہ بڑھا ہے۔ انگریزوں نے جو نظام بنایا تھا وہ خوف اور جبر پر مبنی تھا جس میں عوام اور حکومت کے درمیان کوئی مضبوط بندھن نہیں ہوتا تھا۔ ہمارے ملک میں جتنے بھی مارشل لا آئے اور جتنی بھی جمہوری حکومتیں آئیں انہوں نے ووٹ چرانے کے لیے اس ماڈل کر برقرار رکھا۔ پی ٹی آئی نے پہلی بار کے پی میں سٹیٹس کو کے اس نظام کو توڑا اور حکومت کو عوام کے دل کے قریب کر دیا جس کی جواب میں انہیں عوام نے والہانہ حمایت سے نوازا۔

اب اگر پی ٹی آئی پنجاب میں حکومت بنا لیتی ہے اور اسی ماڈل کو پنجاب میں بھی دہراتی ہے یعنی اداروں کو بہتر بنانے کی کوشش کرتی ہے، پولیس کو سیاسی اثرورسوخ سے آزاد کرتی ہے، صحت اور تعلیم کے نظام کو بہتر بناتی ہے اور پٹواری کے جبر سے عوام کو آزاد کرتی ہے تو نہ صرف پنجاب اور وفاق میں اگلی حکومت بھی پی ٹی آئی کی ہو گی بلکہ سندھ میں بھی ان کے حق میں ایک لہر اٹھے گی۔ اداروں کے جبرمسلسل کو سہنے والی عوام کے لیے یہ نیا نظام تازہ ہوا کا ایسا جھونکا ثابت ہو گی جسے وہ ایک مستقل باد نسیم کی طرح جاری رکھنا چاہیں گے۔ اسی طرح اس بات کا بہت امکان ہے کہ پی ٹی آئی معیشت میں بنیادی تبدیلیاں لائے گی جس سے ملک میں خوشحالی آئے گی۔ یہ بھی عوامی حمایت میں اضافے کا ایک بہت اہم عنصر ثابت ہو گا۔

پاکستان تحریک انصاف کو جو چیلنج اس عرصے میں درپیش رہیں گے ان میں سرفہرست مریم نواز کا بیانیہ اور مولانا فضل الرحمان کا انتقامی جذبہ ہو گا جو اپنی شکست کو تسلیم نہیں کریں گے اور کوشش کریں گے کہ پی ٹی آئی پرفارم نہ کر پائے۔ لیکن یہ دونوں جماعتیں اس وقت تک بہت بڑا نقصان نہیں کر سکتیں جب تک آصف زرداری ان سے ہاتھ نہ ملا لیں۔ اگر نون لیگ، پی پی پی اور جے یو آئی ایف جمہوریت کی باؤنڈری سے باہر نکل کر اپوزیشن کریں گی تو پورے پانچ سال پی ٹی آئی دباؤ میں رہے گی اور ملک کی بہتری کی بجائے اپن بقا کی جدوجہد میں لگی رہے گی۔

اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بہت ضروری ہے کہ پاکستان تحریک انصاف پانچ برس اپنی توجہ معیشت اور اداروں کو بہتر بنانے پر مرکوز رکھے اور اسٹیبلشمنٹ سے خوامخواہ کے پنگے لینے سے گریز کرے۔ اگر نون لیگ، پی پی پی، جے یو آئی ایف اور تحریک لبیک پاکستان کو اسٹیبلشمنٹ کا ساتھ مل گیا تو پھر پی ٹی آئی کی حکومت کی کامیاب پرفارمنس کے امکانات بہت کم رہ جائیں گے اور یہ ملک و قوم کی بڑی بدقسمتی ہو گی۔

پی ٹی آئی کو دوسرا چیلنج ان سیاسی شخصیات سے درپیش ہو گا جو اپنے اپنے علاقوں کی پولیس اور بیوروکریسی کوہاتھ میں رکھنے کے عادی ہیں۔ یہ لوگ اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھنے کی بھرپور مخالفت کریں گے اور مناسب وقت آنے پر اپوزیشن کے ساتھ ہاتھ ملانے گریز نہیں کریں گے۔ اگر پی ٹی آئی پانچ سال سویلین اداروں کو سیاسی مداخلت سے پاک رکھ سکتی ہے تو یہ بات یقینی ہے کہ اگلے انتخابات میں الیکٹ ایبلز کی لعنت سے ہماری سیاست بہت حد تک پاک ہو جائے گی۔ تاہم سٹیٹس کو کے یہ نمائندے آسانی سے ایسا نہیں ہونے دیں گے اور ایک مستقل چیلنج بنے رہیں گے۔

پی ٹی آئی کے لیے تیسرا چیلنج خود عمران خان ہیں جنہیں غیرضروری طور پر بولنے کی عادت ہے۔ ان میں بھی ایک ڈونلڈ ٹرمپ چھپا بیٹھا ہے جسے باہر آنے سے روکنے کے لیے پوری تحریک انصاف کو کوشش کرنا ہو گی۔ انہیں چاہیے کہ غیرضروری طور پر بولنے کی بجائے خاموشی سے پرفارمنس کی طرف توجہ رکھیں کیونکہ بولنے کے لیے ان کے پاس بہت اچھے (اور بہت برے) لوگ موجود ہیں جو اس محاذ کو سنبھالے رکھیں گے۔

اگر ان تین چیلنجز سے پی ٹی آئی دانشمندی سے گزر آتی ہے تو پھر نہ صرف پاکستان ترقی کے نئے سفر پر رواں دواں ہو جائے گا بلکہ اگلا الیکشن تحریک انصاف مزید بھاری اکثریت سے جیتے گی اور جو کچھ خیبرپختونخوا میں ہوا ہے وہی کہانی پورے پاکستان میں دہرائی جائے گی۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *