کائرہ صاحب خبر لیجیے , دہن بگڑا ۔۔۔۔۔۔ عامر عثمان عادل

یہ ہیں اپنے قمر زمان کائرہ ۔ اپنے قبیلے کی شان ، کائرہ فیملی کی آن اور لالہ موسی کی پہچان !
2002 کے جنرل الیکشن میں اپنے روایتی حریفوں کو شکست دے کر قومی اسمبلی کے ایوان کی زینت بنے اپوزیشن میں ہونے کا خوب فائدہ اٹھایا دیکھتے ہی دیکھتے ایک چھوٹے سے شہر سے نو منتخب رکن اسمبلی کی مدلل پر مغز اور دبنگ تقریروں سے ایوان گونجنے لگا۔ انقلابی سوچ کا حامل یہ نوجوان ایم این اے جلد ہی مقبولیت کی منزلیں طے کرنے لگا ۔ پرویز مشرف کا دور تھا سرکاری ٹی وی کی اجارہ داری کو ختم کرتے ہوئے نجی چینلز انگڑائ لے کر بیدار ہو رہے تھے اور اس عرصے میں اپنی جماعت کا بھرپور دفاع ، مخالفین پر تابڑ توڑ حملے اس کی پہچان بن کر اٹھان کا سبب بنتے چلے گئے ۔
الیکشن 2008 میں بی بی کی شہادت کے بعد بہت کچھ بدل چکا تھا ۔ پیپلز پارٹی مرکز اور سندھ میں برسر اقتدار آئی اور کائرہ صاحب آصف علی زرداری کی خصوصی شفقت کے سزا وار ٹھہرے ،وزارت کے مسند پر فائز ہوئے اور ثقہ راوی کے مطابق انکو پہلی بار ملنے والی وزارت توقیر کائرہ کی قربانی کا ثمر تھی ۔ یاروں کا یار آصف علی زرداری تنویر اشرف کی وزارت فائنل کر چکا تھا لیکن مرحوم چودھری اکرم کائرہ کے اصرار پر مرکزی وزارت بھی انکے حصے آئی۔
چانس ملنے کی دیر تھی پھر ایک وقت میں کئی وزارتیں کائرہ پر فدا ہوتی چلی گئیں ۔ انفرمیشن ٹیکنالوجی ، پورٹس اینڈ شپنگ کیڈ، امور کشمیر ، قسمت کی دیوی ایسی مہربان ہوئی کہ گلگت بلتستان کو صوبہ کا درجہ ملتے ہی زرداری کے پاس انہیں اس صوبے کا پہلا گورنر بنانے کے سوا کوئی اور آپشن نہ تھا ا۔ ن کی گفتگو کا معترف ایک زمانہ تھا لیکن شہرت کا ایک اور افق ان کا منتظر تھا ۔ جب انہیں وزارت اطلاعات و نشریات جیسے عہدے پر فائز کر دیا گیا پھر کیا تھا ؟قادرالکلام کائرہ نے ہر خاص و عام کو اپنا اسیر بنا لیا۔ خوبصورتی اور مہارت سے ہر مشکل گھڑی اپنی جماعت کا دفاع یوں کیا کہ سب عش عش کر اٹھے ۔ یوں آپ نے اس دور میں ملک اور بیرون ملک خوب شہرت کمائی۔

میں نے پڑھے لکھے سنجیدہ حلقوں کو آپ کی تعریف میں رطب اللسان پایا ۔ جس سے سنا آپ کی تعریف سنی گجرات کا فخر بن کر ابھرے ، آپ بولنے پر آتے تو پہروں بولتے ۔ ایک سیاسی ورکر ہونے کے ناطے ہمیشہ آپ میرے لئے آئیڈیل رہے اور آپ سے اس نسبت پر مجھے ناز بھی تھا۔
کچھ مہینے قبل جب آپ کو پارٹی نے پنجاب کی صدارت کی پگ پہنائی تو لاہور کے جلسے میں دنیا نے قمر زمان کائرہ کا ایک نیا روپ دیکھا ۔ جب آپ نے میاں نواز شریف کو اوئے کہہ کر مخاطب کیا مولا جٹ سٹائل میں لہرا لہرا کر للکارا اور سوال پوچھا کیتا کی جے دسو تے سئئ ؟
آپ کا یہ انداز سنجیدہ حلقوں کو ذرا نہ بھایا لیکن شاید پارٹی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے کیلئے آپ کو یہ نسخہ کارگر لگا۔ ابھی میں نے حالیہ انتخابی جلسوں سے خطاب کرتے ہوئے آپ کی دو وڈیوز ملاحظہ کیں اور اس وقت سے سر پکڑ کر بیٹھا ہوں مجھے اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آ رہا کہ بین الاقوامی شہرت کا حامل مرکزی سطح کا لیڈر ، سابق وزیر اطلاعات ، خوبصورت کلام پہ قادر اس انداز میں بھی گفتگو کر سکتا ہے؟۔
حضور کیا ہو گیا ؟ آپ نے عمران خان اور اسکی اہلییہ پر طنز و تشنیع کے وہ نشتر برسائے اور اس سمے خود آپ کا سراپا آپ کا ساتھ نہ دے رہا تھا ۔ میرے خدا! فلسفے کا طالب علم ، جسے دنیا دانشمند سمجھتی ہے وہ عمران خان کو بندروں سے تشبیہہ دے رہا ہے؟کیا کائرہ محترم کے پاس اپنے ووٹرز سے کہنے کو کچھ نہیں بچا تھا جو وہ انتہائی عامیانہ الفاظ استعمال کرنے پر مجبور ہوئے اور اپنی تقریر میں عمران خان کی اہلیہ کو بھی نہ بخشا ۔؟پوچھنا تھا شرافت کی سیاست کے علمبردار ہونے کا دعوی رکھنے والے آپ کے بڑے آج زندہ ہوتے تو کیا سیاسی جلسوں میں مخالفین کی بہو بیٹیوں پر کیچڑ اچھالنے پر آپ کو شاباش دیتے؟
کائرہ صاحب نہیں !یہ زبان ، یہ انداز آپ کا کوئی ادنی کارکن ، کوئی ان پڑھ جیالا استعمال کرتا تو مجھ جیسے ایک سیاسی طالب علم اور آپ کے فین کو ذرا ملال نہ ہوتا ، لیکن کیا کروں آپ کا یہ روپ مجھے تو ہضم نہیں ہوا ۔
خبر لیجیے دہن بگڑا کائرہ صاحب ! کیونکہ یہ میں نہیں کہتا آپ کے چاہنے والے کہتے ہیں کہ لالہ موسی کی پہچان ہیں آپ ! قمر زمان ہیں آپ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *