شکر ہے ٹائر تو بچ گیا ۔۔محمد جنید اسماعیل

 

ہمارے گاؤں میں گنا ٹریکٹر ٹرالی پر لوڈ کرکے شوگر مل کی طرف لے جایا جاتا ہے ،اس دوران گاؤں میں لیبر کے مواقع پیداہوجاتے ہیں ۔ایک دفعہ ایسا ہوا کہ گنا لوڈ ہوچکا اور ٹرالی کو کھیت سے باہر نکالنے کا موقع آیا تو ٹریکٹر کا کرینک شافٹ اور کلچ سسٹم بیکار ہوگیا اور ٹریکٹر کو مجبوراً وُہیں روکنا پڑا ۔ایک سادہ لوح انسان وہاں کھڑا یہ دیکھ رہا تھا تو ٹریکٹر مالکان کو تسلی دیتے ہوئے بولا “شکر ہے ٹائر تو بچ گیا “۔

آج یہاں یہ مثال دینے کی نوبت اس وجہ سے پیش آئی  کہ پاکستان کی سیاسی گہماگہمی اِس سے ملتی جلتی ہے ۔پاکستان میں پچھلے چند دنوں میں اتنے گھمبیر واقعات پیش آچکے ہیں جن کے نتائج تادیر ہمیں بھگتنے پڑیں گے۔

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

سب سے پہلے تو وزیراعظم عمران خان کے خلاف اٹھائیس مارچ کو تحریکِ عدم اعتماد کا پیش ہونا جس کی ضرورت اس وقت تو بالکل ہی نہ تھی۔یہ نہ تو متحدہ اپوزیشن کےلیے اور نہ ہی حکومت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوئی  ۔اس تحریکِ عدم اعتماد کا دلچسپ اور ساتھ ہی ساتھ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس میں عدم اعتماد کے پیدا ہونے کی کوئی  خاص وجہ مہیا نہیں کی گئی  یعنی نہ تو سابق وزیراعظم پاکستان عمران کو کرپٹ کہا گیا ،نہ انہیں نااہل کہا گیا اور نہ کوئی  اور الزامات لگائے گئے بلکہ صرف پارلیمنٹ میں نمبرز پورے ہونے کا دعویٰ کیا گیا اور تحریکِ عدم اعتماد پیش کردی گئی  جو کہ پاکستانی سیاسی تاریخ کی منفرد عدم اعتماد کی درخواست تھی ۔

اس درخواست کے پیش ہونے تک تو حالات معمول پر ہی تھے لیکن جب حکومت کی وجہ سے قرارداد منظور ہونے کے بعد بھی اُس پر ووٹنگ تاخیر کا شکارہوئی تو اپوزیشن اور حکومت کے درمیان خلاء مزید بڑھتا گیا۔اسی خلاء کو دیکھتے ہوئے مختلف اداروں نے اپنا آئینی اور غیر آئینی کردار ادا کرنا شروع کردیا ۔حکومت نے تین اپریل کو قرارداد پر ووٹنگ کرانے کی منظوری دے دی اور یہ تاریخ وہ تھی جو آئین کی رو سے سب سے زیادہ حکومت کو ووٹنگ کرانے کے لیے دی جا سکتی ہے ۔تین اپریل سے پہلے اسلام آباد جلسے میں وزیراعظم عمران خان نے ایک خط لہرایا اور اُسے غیر مُلکی مداخلت اور اندرونی سازش سے تعبیر کیا جس کے بعد عدم اعتماد کی تحریک نے نیا موڑ لے لیا۔ ۔تین اپریل کو اسمبلی کا اجلاس منعقد ہوا تو حکومت کی طرف سے ایک سرپرائز بم بن کر متحدہ اپوزیشن پر گرا ،ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری نے رولنگ سنائی کہ متحدہ اپوزیشن کی طرف سے پیش کردہ عدم اعتماد کی قرارداد غیر آئینی ہے اور غیر ملکی ایجنڈے اور اُن کی ایماء پر پیش کی گئی ہے اس وجہ سے قرارداد مسترد کی جاتی ہے۔اس پر حکومتی حلقوں میں جشن کا سماں شروع ہوگیا اور اپوزیشن میں سوگ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی ۔اُسی دن سپریم کورٹ نے اس رولنگ کے خلاف سو موٹو ایکشن بھی لے لیا اور فُل کورٹ بینچ بلا کر رولنگ کے خلاف سماعت شروع کر دی ۔اس دوران حکومتی بدقسمتی یہ رہی کہ اُن کے اپنے ہی اٹارنی جنرل نے استعفٰی دے دیا اور موقف یہ پیش کیاکہ وہ کسی غیر آئینی اقدام کی حمایت نہیں کرسکتے ۔دوسرا مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ رولنگ پر دستخط تو اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے موجود تھے لیکن رولنگ سنانے والے قاسم سوری تھے۔ تیسرا مسئلہ یہ کھڑا ہوگیا کہ جس غیر ملکی خط کو بنیاد پر اپوزیشن کی قرارداد کو مسترد کردیا گیا تھا اُس خط کو دیکھنے کے لیے اپوزیشن تیار نہ تھی اور نہ ہی وہ خط پبلک کیا جاسکتا تھا ۔

اپوزیشن نے جان بوجھ کر ایسی صورتِ حال پیدا کی مجبوراً اُس خط کو ڈسکس ہی نہ کیا جاسکے ۔سات اپریل کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے رولنگ کو غیر آئینی اور نو اپریل بروز ہفتہ کو اسمبلی میِں عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کے احکامات جاری کردیئے ، صدرِ پاکستان اور وزیراعظم کو اس فیصلے کا پابند کیا گیا اور خلاف ورزی کی صورت میں توہینِ عدالت کے تحت کاروائی کرنے کا حکم بھی جاری کردیا گیا۔افسوس ناک امر یہ ہے کہ اس فیصلے میں اُس خط کو زیرِ بحث بھی نہیں لایا گیا جس کی بنیاد پر ڈپٹی اسپیکر نے رولنگ دی ۔

نو اپریل کو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے ساڑھے دس بجے قومی اسمبلی کا اجلاس تو بلالیا گیا لیکن حکومت نے پوری کوشش کی کسی طرح تقاریر کی طوالت اور اعصاب شکن حملوں کے زور پر اجلاس کو ملتوی کرایا جائے یا اس معاملے کو ہی ٹھپ کرایا جائے ۔حکومت نے یہ سوچ رکھا تھا کہ عدالتِ عُظمی کا حکم بھی مانا جائے اور قرارداد سے بھی جان خلاصی کرائی جائے جو کہ کسی صورت ممکن نہ تھی۔سارا دن اپوزیشن اور حکومتی ارکان کے درمیان تقریری مقابلہ ہوتا رہا اور اجلاس کو افطار کے بعد پہلے ساڑھے نو اور پھربارہ بجے تک ملتوی کردیا گیا۔

جب اداروں نے دیکھا کہ حکومت ضد پر آگئی ہے تو وہ بھی حرکت میں آگئے اور گیارہ بجے سے پہلے ہی فوج اور عدالتِ عظمیٰ نے اپنی اپنی پوزیشن لے لیں۔فوج ریڈ زون میں عصر سے ہی داخل ہونا شروع ہوگئی تھی لیکن دس بجے کے بعد چیف آف آرمی اسٹاف نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بھی ملاقات کی ۔اس دوران مختلف افواہیں اور پروپیگنڈے بھی کئے گئے لیکن عمران خان نے مُلکی مفاد میں تحریکِ عدم اعتماد پر ووٹنگ کرانے کا سوچا ، ووٹنگ پہلے اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے اپنا استعفیٰ پیش کردیا ۔اگرچہ اس عمل کی میری نظر میں چنداں ضرورت نہ تھی لیکن انہوں نے عمران خان سے اپنی وفاداری کو ثابت کیا جس کو سیاسی بصیرت اور حکمتِ عملی سے بالاتر سوچ کر سراہا جاسکتا ہے ۔اسد قیصر کے استعفیٰ کے بعد ایاز صادق نے اسپیکر کی کُرسی سنبھال کر عدم اعتماد پر ووٹنگ مکمل کرائی اور اس طرح 174 اراکین کی مدد سے عدم اعتماد کامیاب ہوئی اور عمران خان کا پاکستان سے سفر اختتام پذیر ہوا ،کل بروز سوموار کو قائدِ ایوان کے لیے ووٹنگ شہباز شریف اور شاہ محمود قریشی کے درمیان ہوگی ۔دیکھیے کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے لیکن کم ازکم دو بلیوں کی لڑائی میں بندر کو فائدہ تو نہ مل سکا لیکن دو بیلوں کی لڑائی میں مینڈک ضرور مارا گیا اور وہ مینڈک ہم جیسے مڈل کلاس کے لوگ ہیں۔

Advertisements
julia rana solicitors

پھر بھی اس جمہوریت کی بقاء پر اتنا کہا جاسکتا ہے
“شُکر ہے ٹائر تو بچ گیا۔

  • julia rana solicitors
  • FaceLore Pakistan Social Media Site
    پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com
  • merkit.pk
  • julia rana solicitors london

محمد جنید اسماعیل
میں محمد جنید اسماعیل یونی ورسٹی میں انگلش لٹریچر میں ماسٹر کر رہا ہوں اور مختلف ویب سائٹس اور اخبارات میں کالم اور آرٹیکل لکھ رہا ہوں۔اس کے علاوہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے ٹیلنٹ مقابلہ جات میں افسانہ نویسی میں پہلی پوزیشن بھی حاصل کرچکا ہوں،یونیورسٹی کی سطح تک مضمون نویسی کے مقابلہ جات میں تین بار پہلی پوزیشن حاصل کرچکا ہوں۔مستقبل میں سی ایس ایس کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں ۔میرے دلچسپی کے موضوعات میں کرنٹ افیئرز ،سیاسی اور فلاسفی سے متعلق مباحث ہیں۔اس کے علاوہ سماجی معاملات پر چند افسانچے بھی لکھ چکا ہوں اور لکھنے کا ارادہ بھی رکھتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply