مفہومِ ایاک نعبد وایاک نستعین۔۔۔صاحبزادہ ضیا /قسط 1

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند

بہار ہو کہ خزاں، لا الٰه الا الله

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں

مجھے ہے حکم اذاں، لا الٰه الا الله

سورة فاتحه وہ پہلی سورة ہے، جو نبی اکرم صلی الله علیه وسلم پہ بعثت کے بعد ابتدائی ایام ہی میں مکمل نازل ہوئی تھی ، اس سے پہلے کوئی سورة بھی مکمل نازل نہیں ہوئی تھی، ہاں سورة علق ، سورة مزمل اور سورة مدثر کی تھوڑی تھوڑی آیات ہی نازل ہوئی تھیں۔
اس سورة کی چوتھی آیت “ ایاک نعبد وایاک نستعین “ ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں ، کے متعلق کچھ قرآن و سُنت ہی کی روشنی میں مختصر تشریح حاضر خدمت ہے۔

قرآن مجید کی ابتداء  میں پہلی سورة مقدسہ سورۂ فاتحة ہے۔ اس سورۂ مقدسه کی کل سات آیات ہیں۔ جن میں سے چوتھے نمبر پہ آنے والی آیة مقدسه “ ایاک نعبد وایاک نستعین “ ہے، یعنی تین آیات اس آيت سے قبل اور تین آیات اس آیة کے بعد۔
اسے اگر میں سادہ الفاظ میں بیان کروں تو یوں سمجھ لیجئے، کہ پورے قرآن مجید کا خلاصہ سورۂ فاتحہ اور سورۂ فاتحہ کا خلاصه ایاک نعبد وایاک نستعین میں ہے۔

برصغیر میں قرآنی انقلاب کے سب سے بڑے داعی شیخ التفسیر حضرت مولانا حسین علی الوانی رح فرمایا کرتے تھے، امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی رح نے سیدنا علی رضی الله عنه کا قول نقل فرمایا ہے، کہ سارے آسمانی علوم اور قرآن مجید کا خلاصہ سورة فاتحہ  میں ہے، کیوں کہ مضامین کے اعتبار سے قرآن مجید کے چار حصے ہیں۔ ( یہ قول تفسیر مواہب الرحمٰن جلد نمبر 1 صفحہ نمبر 3 پہ بھی مذکور ہے)

قرآن مجید کا پہلا حصہ سورة فاتحہ سے سورة مائدہ کے آخر تک ہے۔

قرآن مجید کا دوسرا حصہ سورة انعام سے شروع ہوکے سورة بنی اسرائیل کے آخر تک ہے۔

قرآن مجید کا تیسرا حصہ سورة كہف سے شروع ہوکے سورة احزاب کے آخر تک ہے۔
قرآن مجید کا چوتھا حصہ سورة سبا سے قرآن مجید کے آخر تک ہے۔

قرآن مجید کے  پہلے حصہ میں الله رب العزت کی خالقیت کا بیان ہے، یعنی ساری کائنات کو پیدا کرنے والا اسے عدم سے وجود میں لانے والا صرف الله ہی ہے اس کے علاوہ کوئی نہیں۔

قرآن مجید کے دوسرے حصہ کا مرکزی مضمون ربوبیت ہے، یعنی ہر چیز کو پیدا کرکے اسے حدِ کمال تک پہنچانے والا اور اس کی دیکھ بھال کرنے والا الله ہی ہے اسکے علاوہ کوئی نہیں۔

قرآن مجید کے تیسرے حصہ میں اس کی شہنشاہیت کا ذکر ہے، کہ تخت بادشاہی پہ وہی متمکن ہے، وہی ساری کائنات کا مالک ، کائنات کے نظام کو چلانے والا، ساری کائنات کا متصرف و مختار اور ساری کائنات کا برکات دہندہ ہے، نہ تو وہ کسی کو اپنی بادشاہت میں شریک بناتا ہے، اور نہ کوئی اس کی بادشاہی میں شریک ہوسکتا ہے۔

قرآن مجید کے چوتھے حصہ میں قیامت کو بنیادی موضوع بنایا گیا ہے۔ کہ قیامت کے دن بھی حقیقی مالک و مختار وہی ہوگا، اس کے حکم کے آگے کسی کی مجال نہیں ہوگی ، کہ کوئی جبراً کسی کی شفاعت یعنی سفارش کرسکے۔

یہ چاروں بنیادی مضامین جو پورے قرآن مجید میں تفصیل سے مذکور ہیں، ان کا خلاصہ اور اجمالی خاکہ سورۂ فاتحه میں موجود ہے۔

یہاں یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں ، کہ ان چاروں سورتوں کی ابتدا “ الحمدلله ” کے جملے سے ہوتی ہے، ہاں ایک لطیف فریق یہ بھی ہے کہ چوتھے حصے کی سورة سبا کی ابتداء بھی الحمدلله سے ہوتی ہے اور اس سے اگلی سورة فاطر کی ابتداء بھی الحمدلله سے ہوتی ہے، اس کی وجہ یہ ہے، کہ چوتھے حصہ میں بنیادی طور پہ دو مضامین بیان کئے گئے ہیں۔

نمبر ایک ، قیامت کے روز کوئی شفیعِ قہری ( زبردستی سفارش کرنے والا ) نہیں ہوگا، کسی کی بھی شفاعت صرف وہی کرسکے گا جس کو الله اجازت دیں گے، اپنی مرضی سے کوئی کسی کی شفاعت نہیں کرسکے گا۔

نمبر دو،جب الله کے سامنے کوئی شفیعِ قہری نہیں تو عبادت اور پکار بھی اسی کا حق ہے اس کے علاوہ کسی کی بھی عبادت اور پکار نہیں ہونی چاہیے ۔

سورة سبا میں شفاعتِ قہری کی نفی کی گئی ، اور پھر اسی مضمون کو سورة یٰسین ، سورة الصافات ، اور سورة صٓ میں مزید تفصیل سے بیان کیا گیا۔
سورة یٰسین میں فرمایا گیا ہم نے بدکردار قوموں کو پکڑا لیکن کسی نے ان کو نہیں چھڑوایا۔
سورة الصافات میں بیان کیا گیا، کہ بد کرداروں کو چھڑوانا تو دور کی بات ہے، جن کے بارے  میں یہ زعم کیا جاتا ہے، کہ وہ الله کے پیارے ہیں اور چھڑواسکتے ہیں ، یعنی انبیاء کرام علیھم السلام وہ تو خود الله کے سامنے اپنی عاجزی اور انکساری کا ہمہ وقت اظہار کررہے ہوتے ہیں۔

اور سورة الصافات میں فرمایا گیا وہ شخصیات ( یعنی انبیاء کرام علیھم السلام ) الله کے سامنے صرف اپنی عاجزی و زاری کا اظہار ہی نہیں کررہے ہوتے بلکہ بطور امتحان جب الله نے انہیں کسی جسمانی مصیبت میں ڈالا تو ان میں تو یہ قوت بھی نہیں تھی، کہ وہ خود اس آزمائش سے نکل سکتے۔

اسی چوتھے حصہ کی الحمد لله سے شروع ہونے والی دوسری سورة، سورة فاطر میں عبادت اور پکار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے، اور اس کی مزید تشریح سورة زمر  اور حوامیم سبعہ ( وہ سات سورتیں جن کی ابتداء میں لفظ “ حٰمٓ “ ہے) میں بیان کی گئی ہے، اور شبہات کا جواب دیا گیا ہے۔

اُمت مُحمدیه علٰی صاحبھاالصلٰوة والسلام کے سب سے بڑے مفسر اور رسول الله صلی الله علیه وسلم کے سگے چچا زاد بھائی سیدنا عبدالله بن عباس رضی الله عنھما فرماتے ہیں “ لکل شی لباب ولباب القرآن الحوامیم “ ہر چیز کا ایک خلاصہ ہوتا ہے ، اور قرآن مجید کا خلاصہ حوامیم ہیں ( وہ سورتیں جو حٰمٓ سے شروع ہوتی ہیں ) ان حوامیم کا مبدا سورة زمر ہے۔ اور سورة زمر کا دعوٰی ہی یہ ہے، کہ عبادت صرف الله ہی کی کرو، اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو۔ فااعبدالله مخلصاً له الدین۔ الا لله الدین الخالص۔
ترجمہ،سو آپ خالص عقیدہ رکھ کے الله کی بندگی کرتے رہیے “خبردار” عبادت جو کہ ( شرک سے ) خالص ہو وہ الله ہی کے لئے ہونی چاہیے۔
اور حوامیم سبعہ کا دعوٰی بھی یہ ہے، کہ حاجات اور مشکلات میں غائبانہ صرف الله ہی کو پکارو، اور صرف اسی سے امداد و استعانت پکڑو۔ گویا سورة زمر کا خلاصہ “ ایاک نعبد “ میں آگیا اور حوامیم سبعہ کا خلاصہ “ ایاک نستعین “ میں آگیا۔

امام ابن کثیر رح فرماتے ہیں “ الفاتحة سر القرآن و سرھا ھٰذه الکلمة “ ( ایاک نعبد وایاک نستعین ) یعنی سورة فاتحہ  قرآن مجید کا مغز ہے ، اور سورة فاتحه کا مغز آیت “ ایاک نعبد وایاک نستعین “ ہے۔
دینی علوم سے ناواقف دوست آسان الفاظ میں یوں سمجھ لیں ، کہ قرآنِ مجید کی مرکزی آیت ہی “ ایاک نعبد وایاک نستعین “  ہے، جس کی تشریح سارا قرآن مجید ہے۔
اس آیت کے پہلے جملہ “ ایاک نعبد “ کا مفہوم یہ ہے، ہم صرف تیری ہی عبادت کرتے ہیں، اور دوسرے حصہ “ و ایاک نستعین “ کا مفہوم یہ ہے، اور صرف تجھ ہی سے مدد چاہتے ہیں۔

عبادت کا لفظ عربی زبان میں تین معانی میں استعمال ہوتا ہے۔
( 1 ) پوجا و پرستش
( 2 ) اطاعت و فرماں برداری
( 3 ) بندگی اور غلامی
اس مقام پہ یہ تینوں معانی مراد ہیں۔ یعنی ہم تیرے پرستار بھی ہیں، مطیع و فرماں بردار بھی اور بندے و غلام بھی۔ اور بات صرف اتنی ہی نہیں ہے، کہ ہم تیرے ساتھ یہ تعلق رکھتے ہیں، بلکہ فی الواقع حقیقت ہی یہ ہے، کہ ہمارا تعلق صرف تیرے ہی ساتھ ہے، ان تینوں معنوں میں سے کسی بھی معنٰی میں ہمارا دوسرا کوئی بھی معبود نہیں۔ تیرے ساتھ ہمارا تعلق محض عبادت کا ہی نہیں بلکہ استعانت ( مدد مانگنا ) کا بھی ہے، ہمیں معلوم ہے، کہ ساری کائنات کا رب تو ہی ہے، ساری طاقتیں تیرے ہی ہاتھ میں ہیں ، اور سارے جہانوں کی حقیقی بادشاہی وملکیت تیری ہی ہے، اس لئے ہم اپنی حاجات کی طلب میں تیری ہی طرف رجوع کرتے ہیں ، تیرے ہی آگے ہمارا ہاتھ پھیلتا ہے، اور تیری ہی مدد پہ ہمارا یقین و اعتماد ہے۔

عبادت کا مفہوم۔
عبادت کے مفہوم میں دو چیزیں داخل ہیں، ایک غایت تذلل یعنی انتہائی عاجزی اور ذلت اور دوسری غایت تعظیم یعنی کسی ذات کی انتہاء درجہ کی عظمت کا دل و دماغ میں راسخ ہونا اس اعتقاد اور شعور کے ساتھ کہ معبود کو غائبانہ تصرف اور قدرت حاصل ہے، جس کی وجہ سے وہ نفع و نقصان پہ قادر ہے۔
جاری ہے۔

صاحبزادہ ضیا
تحقیق و جستجو میں ہمہ وقت سرگرداں تلخ ترین حقائق منظر عام پہ لانا جن کے اظہار سے بڑے بڑوں کے پر جلتے ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *