ایکٹ فور امریکہ (Act for America)

ایکٹ فور امریکہ، امریکہ کی زمیں پر ایک ایسی ابھرتی ہوئی جماعت ہے، جس نے امریکہ کے تقریبا ًتیس شہروں میں اسلامی قانونِ شریعت اور مسلمانوں کے خلاف نفرت آمیز مظاہرے کیئے۔
امریکہ کے شہر، کنیکٹیکٹ میں، ایکٹ فور امریکہ کے تحت ہونے والے مظاہرے سے ایک رات پہلے کنیکٹیکٹ کے گورنر ڈینیل ملووئے نے مسلمانوں سے برلن کی مسجد میں ملاقات کی۔ گورنر ڈینیل ملووئے نے مسلمانوں کو اپنے ساتھ اور تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
ایکٹ فور امریکہ کے حوالے سے گورنر ملووئے کا کہنا تھا کہ، ” یہ وہ افراد ہیں، جو اپنے مذہب کے نام پر ایک اور مذہب پر تنقید کر رہے ہیں۔”
۲۰۰۷ میں بننے والی یہ جماعت” ایکٹ فور امریکہ” کو تشکیل دینے والی خاتون، بریگیٹ گابرییل ہیں۔ فروری ۲۰۱۷ میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برگیٹ گابرییل نے وائٹ ہاؤس میں ملاقات کی اور دونوں کے مابین نیشنل سیکیورٹی کے حوالے سے بات چیت بھی کی گئی۔
ایکٹ فور امریکہ کے تحت، امریکہ کے تیس شہروں میں ہونے والے ان مظاہروں نے اسلام سے عداوت رکھنے والے لوگوں کو کھل کر سامنے آنے کا موقع دیا۔ امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ کے انتخاب کے بعد سے لے کر اب تک امریکہ میں بسنے والے مسلمانوں کو مختلف موقعوں پر نفرت آمیز رویہ دیکھنے کو ملا۔ اور ایکٹ فور امریکہ جیسی جماعتوں کو ابھرتے دیکھا گیا۔
ایکٹ فور امریکہ ایک چھوٹی جماعت ہے۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد سے اس جماعت کے کام میں بہت تیزی دیکھنے کو ملی ہے۔ بریگیٹ گابرییل لبنان سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی، رائیٹر، سیاسی مقرر اور اسلامی قانون شریعت کے خلاف کام کرنے والی کارکن ہیں۔ بریگیٹ گابرییٹ کے دو عدد کتابی مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔
Because they hate: A Survivor of Islamic Terror Warns America
They Must be Stopped
ایکٹ فور امریکہ، ایسی جماعت اور ایک ایسا نام ہے جس نے کئی لوگوں کی توجہ اپنی جانب کرائی۔ یہ جماعت اسلامی شریعت کے حوالے سے غلط معلومات فراہم کر کے اسلام کا غلط چہرہ لوگوں کو دکھا رہی ہے۔
دوسری جانب مسلمانوں کے ساتھ ساتھ ایک بڑی غیر مسلم، امریکی عوام کھڑی ہے، جو نفرت کی بجائے محبت اور امن کے پیغام کو عام کرنا جاہتی ہے ۔

حمیرا گل
حمیرا گل
طالب علم

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *