بے چین بخشو

وسعت اللہ خان ہمارے ملک کے ایک مایہ ناز کالم نگار ہیں ۔ انہوں نے اپنے ایک مشہور کالم میں بخشو نام کے کردار کا ذکر کیا ہے ۔
بخشو گاؤں دیہات کا وہ یتیم مسکین کردار ہے جو وڈیروں، چودھریوں کے لیئے حقہ بھرنے سے لے کر ان کی رٹ گاؤں میں قائم رکھنے کو لوگوں کے گلے تک کاٹ دیتا ہے اور عمر قید یا پھانسی بھی چڑھ جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتا ۔
تو آج میں بھی بخشو کے کردار پر کچھ روشنی ڈالوں گا ۔
بخشو کیونکہ تعلیم یافتہ نہیں سو اس میں سوچنے سمجھنے تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی بس واجبی سی ہے، مجھے استنبول میں کچھ ایسے بخشو بھی ملے جو غیر قانونی طور پر ایران سے سرحد عبور کرکے آئے تھے اور یورپ جانا چاہتے تھے ۔ ان میں سے بعض چار چار کی ٹولی میں گاڑیوں کی ڈگیوں میں چھپ کر آرہے تھے لیکن ایرانی محافظوں کی فائرنگ کے بعد ایک آدھ ہی منزل پر پہنچا، بعض بخشو ایرانی ڈاکوؤں کے ہاتھ بڑی مشکل سے انڈروئیر بچا کر سرحد عبور کر پائے تھے۔
تو بعض کو انہوں نے تاوان کے لیئے مہمان بنا لیا تھا ۔ پھر بھی وقت پڑنے پر بخشو” اللہ اکبر، خامنہ ای رہبر” کا فلک شگاف نعرہ لگاتا ہے۔
دنیا میں ایسے بھی بخشو کے برادر ممالک ہیں جہاں بخشو کفیل کی مرضی کے بغیر قدم بھی نہیں اٹھا پاتا، ایک انچ زمین نہیں لے پاتا، وہاں کی لڑکی سے شادی کی صورت میں کمی کمین بخشو سزائے موت کا مستحق قرار پاتا ہے، بخشو کے بہت سے بھائی ا ن کی جیلوں میں بغیر کسی مقدمہ اور جرم کے قید ہیں، بخشو آئے دن ان کی وڈیو دیکھتا بھی ہے اور واٹس ایپ پر فارورڈ بھی کرتا ہے، لیکن ایک آواز پر بخشو سونے کا کموڈ استعمال کرنے والے نام نہاد خادم کے لیئے جوش میں اٹھتا ہے اور احتجاجاً اپنے ہی کھیت جلا ڈالتا ہے یہ بھی نہیں سوچتا کہ اب وہ صبح صبح کہاں جائے گا ۔
بخشو کی ایک اور خصوصیت یہ ہے کہ دنیا کی ہر جنگ بخشو کی اپنی جنگ ہے، بخشو دس سال رشیا سے افغانستان میں لڑتا رہا، اس نے کمیونسٹ روس کو گرم پانی تک نہیں پہنچنے دیا ، افغانی بخشو کو چاہے جتنی گالیاں دیں بخشو کو فخر ہے کے اس نے انہیں رشیا سے آزادی دلائی، بخشو کو اس بات پر بھی فخر ہے کہ بخشو کے بھائی طالبان کے دور میں وہاں کا امن و امان مثالی تھا۔ یہ الگ بات ہے کہ جب وہ مثالی امن و امان طالبان نے اس کے ملک میں دینے کی کوشش کی تو بخشو کی راتوں کی نیندیں اڑ گئیں تھیں، آج بخشو کو سی پیک پر بھی فخر ہے جس کے ذریعے وہ کمیونسٹ چین کو گرم پانیوں تک رسائی دے گا اور شاید رشیا کو بھی، پھر جب امریکہ نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کی تو بھی بخشو بولا یہ ہماری جنگ ہے اور بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق کے مصداق جنگ میں کود پڑا۔

آج جب عرب ممالک جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں، بخشو کا اضطراب قابل دید ہے، جب شام میں جنگ کا میدان گرم ہوا بخشو کی آنکھوں میں خون اتر آیا، وہ بولا یہی تو وہ آخری فیصلہ کن جنگ ہے بڑی مشکل سے اسے ٹھنڈا پانی پلا کر تسلی دی اور روکا گیا، لیکن جب یمن پر سعودی بمباری شروع ہوئی تو بخشو ایک بار پھر رسیاں تڑانا شروع ہو گیا اس بار وہ ہامی بھر بھی آیا تھا لیکن کچھ بیوقوف لوگوں نے اسے زبردستی روک لیا لیکن وہ کب تک اسے روک پاتے، آخر وہ اسلامی ٹرمپیانی اتحاد نامی فوج کا کمانڈر بن کر پہنچ گیا اور شاید کچھ ہی دن میں یہ جنگ بھی اس کی اپنی جنگ ہوگی ۔اصل میں بخشو احساس کمتری کا شکار، کنفیوژ اور وہ فکری یتیم ہے جو اپنے میزائلوں کے نام بھی افغانستان سے امپورٹ کرتا ہے، اس کی اپنی کوئی شناخت نہیں، وہ نسیم حجازی کے ناول پڑھتا ہے اور عربوں کی اسپین کی فتح اسے اپنی کہانی لگتی ہے، اس کے باپ دادا کو غلام بنانے والے اس کے ہیرو ہیں، وہ ا ن کی حمایت میں آپ کا گریبان پکڑ لے گا، جنہوں نے ہزار سال میں اسے مقبرے، محل، قلعے، باغ اور مساجد تو اپنی عظمت کی نشانی کے طور پر دےدیں لیکن ایک یونی ورسٹی، میڈیکل کالج ،کوئی بڑا ہاسپٹل ،کوئی ریسرچ سینٹر دینے سے معذور نظر آئے۔
بخشو ایک بار بھی یہ نہیں سوچ رہا کہ سعودی اتحاد کا ساتھ دینے پر وہ چار کروڑ شیعہ بخشو کیا رد عمل دیں گے جو اس کے اپنے شہری ہیں، وہ یہ نہیں سوچتا کہ انڈیا اور افغانستان کے ساتھ اب وہ ایران کی سرحد بھی غیر محفوظ بنا دے گا، بس وہ استعمال ہونا چاہتا ہے، مجھے امید نہیں کہ ایسا کبھی ہوگا لیکن میری خواہش ہے کہ بخشو بڑا ہو جائے اور یہ بے چینی و اضطراب چھوڑ کر اب سکون پکڑے۔

علی اختر
علی اختر
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خو نچکاں ہر چند اسمیں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *