• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نگران حکومت کی مبہم ترجیحات اور درپیش مشکلات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

نگران حکومت کی مبہم ترجیحات اور درپیش مشکلات۔۔۔طاہر یاسین طاہر

موضوعات کا موسم اپنے جوبن پر ہے۔ جنرل الیکشن سے لے کر سیاسی جماعتوں کے منشور اور امیدواروں کے انتخابات سے لے کر امیدواروں کی قلت تک سارے موضوعات بکھرے پڑے ہیں۔ الیکٹیبلز کی پی ٹی آئی کی طرف اڑان کو کیا معنی دیئے جا رہے، اپنی جگہ یہ ایک اور دلچسپ موضوع ہے۔ ہم ان شاء اللہ آئندہ دنوں میں ان موضوعات میں سے بیشتر کو اپنے آرٹیکلز کا موضوع بنائیں گے۔ بالخصوص  پارٹیوں کے منشور اور ان کی ترجیحات کو ہم ضرور ایک نظر دیکھیں گے۔ برا ہو اس خرابی کا جو میرے  انٹرنیٹ میں در آئی تھی، ورنہ ایک دو موضوعات تو نمٹا ہی دیئے جاتے۔ نگران حکومت اپنی نگرانی شروع کرچکی ہے اور اس نگرانی کے اثرات بھی ظاہر کرنا شروع ہوچکے ہیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے نگران حکومت نے اپنی موجودگی کا خوب احساس دلایا ہے۔ گذشتہ حکومت نے اپنی رخصتی سے قبل پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی شفارشات کو تسلیم نہیں کیا تھا اور 7 جون تک قیمتیں برقرار رکھی تھیں۔ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں برقرار رکھنے میں منطق یہی تھی کہ اگر جانے والی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کیا تو عوامی غضب بڑھے گا۔ کیونکہ عمومی طور پر مدت پوری کرکے جانے والی حکومت سے عوامی توقع یہی ہوتی ہے کہ وہ عوامی فلاح کو مدنظر رکھی گی اور کوئی ایسا فیصلہ جاتے جاتے نہیں کرے گی، جسے عوام ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھیں۔ نگران حکومت نے آتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں جون کے لئے برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا تھا۔ پھر گذشتہ روز اچانک نگران حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرکے  عید سے قبل عوام کے چہروں پر پژمردگی طاری کر دی۔

اپنے اس فیصلے کے حق میں نگران حکومت نے وہی پرانی دلیل دی کہ قیمتیں عالمی مارکیٹ کے حساب سے بڑھائی ہیں اور یہ حکومت کی مجبوری ہے۔ اگر قیمتیں نہ بڑھائی جائیں تو اس سے حکومت کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا گیا کہ پڑوسی ملک بھارت کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہیں۔ مجھے یاد ہے قاف لیگ کی حکومت جب ختم ہوئی تھی اور نگران حکومت آئی تھی تو اس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ نہیں کیا تھا، بلکہ دانستہ یہ کام آنے والی حکومت پر چھوڑ دیا گیا تھا۔ یہ طے تھا کہ آنے والی حکومت کو ہر حال میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھانا پڑیں گی۔ پیپلز پارٹی کی بننے والی حکومت نے اقتدار سنبھالتے ہی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا دی تھیں۔ یہ حکومت کی مجبوری تھی، لیکن اس مجبوری میں نگران حکومت کی چالاکی بھی شامل تھی۔ بالکل اسی طرح موجودہ نگران حکومت کے لئے جانے والی حکومت نے ایک چالاکی کی اور اس امتحان میں ڈال دیا کہ حکومت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرے یا نہ کرے۔ آخرکار نگران حکومت نے وہی کیا جو جانے والی حکومت چاہتے ہوئے بھی نہ کرسکی تھی۔ دلیل کچھ بھی ہو، لیکن حقائق یہی ہیں کہ اس وقت معیشت مر رہی ہے۔ کوئی ماہر معاشیات اس حوالے سے اعداد و شمار لکھ سکتا ہے۔ مجھ ایسا سماجی حرکیات پہ نظر رکھنے والا اخبار نویس البتہ اتنا تو جانتا ہی ہے کہ ڈالر کی اڑان ہماری معیشت کی تباہی کی دلیل ہے۔ جانے والی حکومت، اس سے قبل پیپلز پارٹی کی حکومت، دونوں کے دس سال ملک پہ بڑے بھاری ثابت ہوئے ہیں۔ دونوں جماعتوں کے “بڑے دماغوں” کے پاس دلائل کے انبار ہیں، لیکن حقائق یہی ہیں کہ دس سالوں میں ڈالر اوپر گیا اور پاکستانی روپیہ نیچے گرا۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ ان دس سالوں میں توانائی بحران کو مستقل بنیادوں پہ حل نہ کیا جا سکا۔ پیپلز پارٹی نے تو خیر رینٹل طریقے سے اس کا کوئی حل نکالنے کی کوشش کی تھی۔ اس منصوبے پہ تنقید ہوئی تو کچھ نئے پروجیکٹ بنائے گئے۔ نون لیگ کی حکومت نے 2013ء کا الیکشن ہی توانائی بحران پہ لڑا۔ یہ سچ ہے کہ نون لیگ کے پانچ سالہ دور حکومت میں لوڈ شیڈنگ پیپلز پارٹی کے دور حکومت سے کم ہوئی، مگر نون لیگ کا یہ دعویٰ کہ انھوں نے لوڈشیڈنگ کا مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا، باطل ثابت ہوا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ نون لیگ کی حکومت گردشی قرضوں کے سہارے مصنوعی حل تلاش کرتی رہی۔ اگرچہ نئے منصوبے بھی بنائے گئے اور نون لیگ کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے سسٹم میں گیارہ ہزار میگا واٹ بجلی داخل کی۔ لیکن لوڈشیڈنگ کا دورانیہ نون لیگ کے اس دعوے کو رد کرتا ہے۔ نواز شریف کا یہ کہنا کہ لوڈشیڈنگ کی ذمہ دار نگران حکومت ہے، حیرت انگیز بات ہے۔ شہباز شریف نے آخری دن خطاب میں یہ کہا تھا کہ کل سے اگر لوڈشیڈنگ ہوگی تو ہم ذمہ دار نہیں۔ یہ سیاسی چالاکیاں ظاہر کرتی ہیں کہ گذشتہ حکومت نے توانائی بحران کے حل کے لئے عملی کام کم کیا اور دعوے زیادہ کئے۔

اب جبکہ نگران حکومت ڈرائیونگ سیٹ سنبھال چکی ہے تو اس حکومت کو درپیش مسائل میں سے سب سے بڑا مسئلہ، بجلی کی لوڈشیڈنگ، مہنگائی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو کنٹرول کرنا اہم ہے۔ شفاف الیکشن کا انعقاد بھی نگران حکومت کی ذمہ داریوں میں سے اہم ذمہ داری ہے، لیکن ابھی تک نگران حکومت نے جو ترجیحات طے کی ہیں، وہ مبہم ہیں۔ یہ طے ہی نہیں ہوسکا کہ بجلی بحران کو کیسے حل کرنا ہے؟ کیا روڈ میپ تشکیل دینا ہے، جو آئندہ حکومت کے بھی کام آسکے۔ یہ طے نہیں ہوسکا کہ نگران حکومت بجلی کی طلب و رسد اور پیداواری صلاحیت کے حوالے سے قوم کو آگاہ کرے گی یا مبہم بیانات کے ذریعے اپنا وقت پورا کرکے چلتی بنے گی۔ میرا خیال ہے کہ قوم نگران حکومت سے بجلی بحران کے حوالے سے گذشتہ حکومت کے دعووں اور موجودہ لوڈشیڈنگ کی وجوہات کے بارے میں حقائق جاننے کی خواہش مند ہے۔ نگران حکومت اپنی توانائیاں قوم کو ریلیف دینے میں صرف کرے اور الزام تراشی کا کھیل بے شک نہ کھیلے، مگر حقائق کو قوم کے سامنے لائے کہ بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کا ذمہ دار آخر کون ہے؟ اور اس کا حل کیا ہے۔؟

طاہر یاسین طاہر
طاہر یاسین طاہر
صحافی،کالم نگار،تجزیہ نگار،شاعر،اسلام آباد سے تعلق

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *