• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • بچوں میں اسمارٹ فون کی عادت ان کے بچپن پر اثر انداز ہو رہی ہے

بچوں میں اسمارٹ فون کی عادت ان کے بچپن پر اثر انداز ہو رہی ہے

اسمارٹ فون اور ٹیبلٹ بچوں اور نوعمروں کے مزاج کو غیرفطری بنارہے ہیں کیونکہ ٹیکنالوجی کی بدولت وہ کئی براعظموں کے لوگوں سے بات تو کررہے ہیں لیکن خود اپنے ساتھیوں سے دور ہورہے ہیں اور اس بنیاد پر ان کا بچپن شدید متاثر ہورہا ہے۔

امریکا میں کامن سینس میڈیا کے ایک سروے سے معلوم ہوا ہے کہ 72 فیصد نوعمر (ٹین ایج) لڑکے اور لڑکیاں یہ سمجھتےہیں کہ حقیقی زندگی کے بجائے فون پر آئے ہوئے پیغام کا جواب دینا ضروری ہے جب کہ 59 فیصد والدین یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے بچے اسمارٹ فون کی شدید لت کے شکار ہوچکے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ٹیکنالوجی اور فون پر انحصار بچوں کو ان کے معمولات سے دور کررہا ہے جن میں کھیلنا، وقت پر کھانا، دوستوں سے بات کرنا، اہلِ خانہ کے ساتھ بیٹھنا اور دیگر روزمرہ مصروفیات شامل ہیں۔ اس طرح ان کے رویّے میں بنیادی تبدیلیاں آرہی ہیں جو انہیں حقیقی زندگی سے دور کررہی ہیں۔ اسے ماہرین نے انٹرنیٹ کا پریشان کن استعمال یا پروبلیمٹک انٹرنیٹ یوز (پی آئی یو) کا نام دیا ہے۔

اسی طرح انٹرنیٹ پر مسلسل گیم کھیلتے رہنے کا ایک نیا مرض سامنے آیا ہے جسے انٹرنیٹ گیمنگ ڈس آرڈر کا نام دیا گیا ہے اور لگ بھگ 10 فیصد امریکی بچے اس کا شکار ہورہے ہیں۔

ایک اور تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ اس نسل کے نوعمر بچے والدین کی جانب سے تفویض کردہ ذمہ داریاں نباہنے میں بھی سستی دکھارہے ہیں جو ایک خطرناک امر اور ان کی عملی زندگی کے لیے مضر ہے۔ اس طرح ایک ایسی نسل پروان چڑھ رہی ہے جو گھروں میں قید ہے اور باہر جانے سے گریز کرتی ہے۔

2017 میں اس سے بھی پریشان کن سروے سے معلوم ہوا تھا کہ آٹھویں سے بارہویں جماعتوں کے طلبا و طالبات جو سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر موجود رہتے ہیں ان میں ڈپریشن، تنہائی اور خودکشی تک کا رحجان دیکھا گیا ہے تاہم کئی بچے اس کا اعتراف بھی کرتے ہیں کہ وہ اسمارٹ فون کے قیدی بن کر رہ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس رحجان کو خطرناک قرار دیتے ہوئے اس میں اعتدال پر زور دیا ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *