بدقماش عورت ۔۔۔۔ سہیل عبداللہ

  وہ جوانی کی دہلیز پر نئی نئی جلوہ افروز ہوئی تھی. بے چینی سے آس پاس دیکھتی آخر ایک بند دکان کے سامنے کھڑی ہوگئی. گھبراہٹ سے پورے جسم پر ایک لرزا سا طاری تھا. سڑکوں پر وہ پہلے بھی بھیک مانگنے بلا جھجھک نکلا کرتی تھی مگر آج کیفیت کچھ الگ تھی کیونکہ چند ہی دن قبل وہ محسوس کر چکی تھی، کہ اسکا بچپن اس کے ہاتھوں سے نکل چکا ہے. کھلونے تو آج تک اس نے کبھی چھوئے بھی نہ تھے مگر ہاں بچپن کی ایک دل موہ لینے والی مسکراہٹ جو اسکی غم دنیا سے لاتعلقی کی پہچان تھی وہ اب ہوس اور وحشت سے بھری نظروں کے زیر مرچکی تھی. کھیل کود و ہنسی مذاق جیسے معمولی الفاظ کی جگہ اب عزت و عصمت جیسے موٹے و بھاری لفظ لے چکے تھے.

شام کا وقت تھا. چند ہی دن قبل شہر میں موسم سرما اپنی پہلی دستک دے چکا تھا. اعلی گھرانوں کے مرد و زن تفریح و خریداری کے لئے نکل چکے تھے. انکی چمکتی گاڑیوں, اجلے اور ان چھوئے کپڑے و اعلی خوشبو جات کی مہک سے شہر کی خوبصورتی کو چار چاند لگ چکے تھے، جبکہ ایک اندھیرے کونے میں کھڑی اس بھک منگی لڑکی کی آنکھوں سے اگر یہ سماں دیکھا جاتا تو ناامیدی اور حسرت کا ایک طوفان اس شہر کو جیسے لیے ڈوب رہا تھا۔ بایاں ہاتھ پھیلائے وہ ایک پان کی دکان کے سامنے کھڑے کچھ کم عمر لوگوں کے پاس گئی, اور حسب معمول وہی الفاظ دہرائے  جو ہر بھکاری اپنی اولاد کے کان میں پیدا ہونے کے بعد اذان کی جگہ سناتا ہے۔ “خدا کے نام پہ کچھ دے دیں صاحب صبح سے بھوکی ہوں” سب نے ایک ایک کر کے جیبیں ٹٹولیں اور کچھ نکالے بغیر ہی یہ کہہ کر اس کو دفع کردیا۔ “معاف کرو لڑکی” وہ لڑکی خالی ہاتھ نیچے کیے  بغیر ہی آگے چل دی۔۔

چند قدم آگے کچھ عورتوں اور بچوں کی جانب گئی اور ایک عورت کے سامنے  کاسہ پھیلا دیا۔ “باجی صبح سے کچھ نہیں کھایا ہے، کچھ پیسے دے دیں” مگر وہ لوگ خریداری میں اس انہماک سے مصروف تھے کہ یہ الفاظ انکے کانوں تک پہنچ تو گئے مگر دماغ کو چھوئے بغیر ہی رائیگاں گئے۔۔ اپنی فریاد دو بار دہرا کر وہ لڑکی وہاں سے چلی دی اور شہر کے ایک مشہور ریستوران کے سامنے نالے پر بنے چبوترے پر آ بیٹھی۔ اسکی بھوک بھی بڑھتی رات کی سیاہی مانند شدت اختیار کرتی جارہی تھی۔۔! لوگوں کی آمدورفت زورو شور  سے جاری تھی۔۔

اندر سے مختلف کھانوں کی مہک اسکے ناک کے عضلات کو مسلسل چھو رہی تھی جیسے یہ خوشبو اس کے افلاس کا مذاق اڑا رہی ہو، جس سے پیٹ کی آگ مزید بھڑک جاتی ہے۔ ویسے اونچی خواہشات کو تو وہ نا امیدی کے ہاتھوں بچپن سے ہی دفن کرتی آئی تھی لہذا  نظریں صرف ایک سوکھی روٹی کی منتظر تھیں۔ اسے اتفاق کا نام دیں یا بدقسمتی کہ آج کوئی بھی پانچ روپے کا ایک سکہ اسے دینے کیلئے راضی نہیں تھا۔۔۔ بھوک شدت اختیار کر رہی تھی۔

دیکھتے ہی  دیکھتے بازار میں لوگوں کا طوفان تھم گیا اور چہرے پر اداسی کے آثار لئے سر گھٹنوں پر رکھ کر وہ بیٹھ گئی۔ کچھ لمحات   بعد اس نے محسوس کیا کہ  تھوڑے  فاصلے پر کھڑا آدمی اسے انتہائی غور سے دیکھ رہا ہے جسکی وجہ سے وہ ڈر گئی اور ایک نظر خود کو سر سے پاؤں  تک دیکھنے لگی۔ قمیض چھوٹی ہونے کی وجہ سے ایک جانب سے شلوار سے ذرا اوپر اٹھ سی گئی تھی جسکی وجہ سے اسکی کمر نظر آ رہی تھی۔  اس نے فوراً  ہی قمیض کا پچھلا دامن کھینچ کر نیچے کردیا۔ رات گہری ہوتی جارہی تھی اور اب تو کمزوری کی وجہ سے سر  بھی چکرانے لگا تھا۔

ناامید ہو کر وہ واپس اپنے جھونپڑی نما گھر کیلئے روانہ ہونے ہی والی تھی، جہاں ایک خرانٹ نشئی باپ ڈنڈے کے ساتھ اسکا منتظر تھا کہ اچانک سے ایک ادھیڑ عمر شخص سفید کپڑے ،جس کے اوپر ایک کالا واسکٹ پہنا ہوا تھا اسکے قریب آیا اور اس لڑکی کو آواز دے کر مخاطب ہوا۔ ” کتنے پیسے چاہیئں  ۔؟ ” کچھ لمحوں کیلئے تو وہ لڑکی اس غیر متوقع  سوال سے ہکا بکا رہ گئی اور پھر گھبراتے ہوئے لرزتے لبوں کے ساتھ بولی۔ “صاحب بھوک لگی ہے کھانا کھلا دو” وہ آدمی اسکے قریب آیا اور پھر گویا ہوا۔ “میں تجھے کھانا بھی کھلاؤں گا اور بہت سارے پیسے بھی دوں گا۔ میرے ساتھ چلو۔۔۔” وہ لڑکی اتنا تو سمجھ گئی کہ یہ درندہ صفت شخص مجھے کس غرض سے بلا رہا ہے۔  چند لمحوں کیلئے وہ خاموش رہی اور پھر اپنی چھوٹی سی عقل میں اپنے حساب سے سوچ کر اس شخص کی بات پر راضی ہونے کیلئے کچھ بولنے ہی والی تھی کہ اسکی نظر اس وحشی کے دراز قد اور بھاری بھرکم جسم پر پڑی تو ڈر اور خوف اس پر مزید حاوی ہوگیا۔۔ کپکپی سے اسکے اوپر اور نیچے کے دانت ایک عجیب آواز کے ساتھ ایک دوسرے سے لگ رہے تھے جسکی وجہ سے وہ کچھ بول نہیں پائی اور اس نے واپس فیصلہ کیا کہ وہ گھر جائے گی۔۔ مگر خالی پیٹ کی آگ نے اسے  کچھ اور سوچنے قابل نہ چھوڑا تھا۔۔۔ دو قدم آگے چلی۔۔اور اس آدمی سے پوچھا “کتنا وقت لگے گا”۔۔ “بس تھوڑا سا وقت اور پھر میں تجھے واپس چھوڑ جاوں گا”۔ انسان کے روپ میں اس درندے نے جواب دیا۔ اسکے بعد وہ آدمی اسے اپنی گاڑی کے پاس لے گیا۔ گاڑی کے سامنے کی اگلی دونوں نشستوں پر دو اور لوگ بیٹھے تھے جنہیں دیکھ کر اس  کے رہے سہے اوسان بھی خطا ہونے لگے۔۔ ٹانگیں لڑکھڑانے لگیں۔۔۔! اسے اتنی تو خبر تھی کہ اسکے ساتھ برا ہونے والا ہے مگر بھوک اور خالی پیٹ نے اسے آنے والی اذیت اور کرب کے احساس سے بے نیاز کردیا، بھوک اسکے دل و دماغ پر چھائی ہوئی تھی۔۔۔۔۔

julia rana solicitors london

گاڑی میں بیٹھ کر چند ہی ثانیوں میں وہ شہر کے بے حس ہجوم سے گزرتے ہوئے ایک نامعلوم منزل کی جانب گامزن ہوگئے۔۔۔۔۔۔ سنا ہے ایک صبح شہر کی کچرا کنڈی سے ایک کم عمر برہنہ  لڑکی بے ہوشی اور نشے کی حالت میں ملی، جس کی ٹانگوں پر  سرخ دھبے تھے  مگر حیرانی کی بات کہ جسم پر کوئی واضح زخم نہیں تھا ۔۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”بدقماش عورت ۔۔۔۔ سہیل عبداللہ

  1. بکواس تحریر.. حقائق سے دور وہی پرانا مظلومیت اور غربت کا راگ الاپا ہے لکھاری نے. . آجکل فقیر اچھا خاصا کماتے ہیں. اور سیکس کر کے کون بے ہوش ہوتا ہے؟ کم از کم عورت بے ہوش نہیں ہوتی. اور اگر سیکس کر کے کچھ روپے کما لیے تو یہ کونسی مظلومیت ہو گئی؟

Leave a Reply