معاشی مفادات اور امت مسلمہ۔ ۔۔علی خان

ایران پر پابندیوں کا بحال کرنا اور یورپ کا ایران کے حق میں امریکہ سے مذاکرات کرنا۔ مشرق وسطی میں سعودی عریبہ کا لبرلائیز ہونا اور ایران کے دوست “قطر” کا بائیکاٹ ۔۔۔ روس کا شامی حکومت کی حمایت ۔  اسرائیل میں امریکا کے سفارتخانے کا انتقال ، چین کا پاکستان کے ساتھ شراکت کا معاہدہ (CPEC) ۔  یہ سب واقعات ایک ہی نظریے کی نشاندہی کرتی ہے ۔۔۔ معاشی مفادات۔

یہ معاشی مفادات ہی ہیں جن کی وجہ سے ایک عیسائی ممالک کی یونین ،(یورپی یونین)ایک شعیہ مسلم ملک(ایران) کے مفاد میں امریکہ کے سامنے کھڑی ہے۔ ایک مسلم ریاست (سعودی عریبہ) کا دوسرے مسلمان ممالک (مشترکہ تعاون کونسل)  کے ساتھ مل کر ایک مسلمان ملک (قطر) کا معاشی محاصرہ کررکھا ہے ۔ سعودی عرب کا اپنے قوانین میں نرمی کرنا اور عورتوں کو آزادی دینا اور ساتھ ہی عالمی طرز کے جدید شہر بنانے کا عندیہ دینا۔ ایک عیسائی اکثریتی ملک (روس) کا ایک شعیہ مسلم ملک (شام) کی فوجی مدد کرنا۔ ایک عیسائی ملک (امریکہ) کا یہودی ملک (اسرائیل) کی حمایت میں اپنا سفارت خانہ منتقل کرنا ۔ ایک بدھ مت قوم (چین) کا مسلم ملک (پاکستان) میں وسیع پیمانے پر سرمایہ کاری کرنا۔ یہ سب معاشی مفادات کی حالیہ موجودہ زندہ مثالیں ہیں۔

آپ جب عرب ممالک میں پاکستانی ہوتے ہوئے سفر کرتے ہیں تو اپنے ملک کی کمزور سفارتکاری کو تو کوستے ہی ہیں ساتھ ہی یہ چیز بھی باور ہو جاتی ہے کہ جو امت مسلمہ کی وحدت اور حقانیت کا راگ پاکستان میں الاپا جاتا ہے وہ ایک خواب ہی ہے۔ ایسا خواب جسے مذہبی جماعتیں اپنے جلسے میں شرکاء کو گرمانے کا کام لیتی ہیں لیکن حقیقت میں اس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔ عالمی سطح پر بس معاشی مفادات کو ہی مدنظر رکھا جاتا ہے اور یہی ایک چیز ہے جو کسی بھی مذہب و رنگ و نسل کے باشندوں کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے ۔ اگر کسی امت مسلمہ کا وجود ہوتا تو اس وقت کم از کم تمام مسلمان ممالک کے باشندے ایک دوسرے ملک میں بغیر ویزے کو داخل ہو سکتے۔

لیکن حقیقت تو اس کے برعکس ہی ہے آپ یورپی شہری ہو کر کسی بھی مسلم ملک میں بغیر ویزے کے داخل ہو سکتے ہیں لیکن آپ مسلم ممالک کے خودساختہ لیڈر ملک پاکستان کے شہری ہوتے ہوئے کسی بھی اسلامی ملک میں بغیر پیشگی ویزے کے داخل نہیں ہو سکتے بلکہ بعض ممالک نے تو پاکستانیوں پر باقاعدہ پابندی بھی لگا رکھی ہے۔

آج سے چند سال پہلے جب انٹرنیٹ عام نہیں تھا یہ تو امت مسلمہ کی بات لوگوں کو آسانی سے ہضم ہو جاتی تھی لیکن آج کے جدید دور میں جب معلومات کی رسائی آپ کی انگلیوں کی جنبش پر موجود ہو کہنے والوں کو ذرا احتیاط کرنی چاہئے۔ اسی لئے ہمیں اپنے ملکی اور ملی مفادات کو ہی مدنظر رکھنا چاہئے باقی رہی بات کہانہوں کی تو جلسوں میں علم ناشناص لوگوں کے لئے  اکثر سراب کی ہی ضرورت ہوتی ہے

Ali Khan
Ali Khan
ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار ۔۔ حستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *