محبت کی پہلی کہانی۔ ۔۔۔مریم مجید ڈار

وہ برف زمانے تھے جب گہری نیند سوئی ہوئی لڑکی کے کمرے کی مشرقی کھڑکی کے پاس اس بیل نے ننھے پتے پیدا کرنے کا آغاز کیا تھا جو خزاں میں سرخ ہو جاتے ہیں۔وہ اپنی کھڑکی کی چوکھٹ پر چھوٹی اور بھوکی گلہریوں کے لئیے کھانا رکھ رہی تھی تو اس نے دیکھا کہ برف کے سفید ذروں کے بیچ ہلکے سبز رنگ کاایک پتہ ٹھٹرا ہوا موجود تھا۔”اوہ! بہار آ گئی ہے۔۔”وہ خوشی سے چلائی اور اپنی بانہیں اوپر اٹھا کر گول گول گھومنے لگی”ماں! دیکھو بہار آ گئی ہے اور اب تمہیں آتشدان کے اتنا قریب بیٹھ کر موٹے اونی لباسوں کی بنائی نہ کرنی پڑے گی”۔! وہ سبک خرام پرندے کی طرح چہک رہی تھی۔ بوڑھی عورت نے اسے حیرت سے دیکھا، کھلی کھڑکی سے آتے سرد ہوا کے جھونکوں نے اسے کپکپا دیا اور اس نے اپنی کرسی آتشدان کے مزید قریب کر لی۔ جھریوں زدہ ہاتھوں کی ابھری نسوں اور سبز اون کا رنگ باہم ملا جلا تھا۔اسے دھاگہ تلاش کرنے میں دقت ہو رہی تھی۔

ادھر پرجوش اور خوش و خرم لڑکی نے اپنے سنہری بالوں کو زور سے جھٹکا اور دوڑتی ہوئی کمرے سے نکل گئی۔ “تو کیا اس نے پہلی کہانی کا چہرہ دیکھ لیا ہے”؟؟ بوڑھی عورت نے سوچا اور کھلی کھڑکی تک چلی آئی۔ چوکھٹ پر ہاتھ جما کر باہر جھانکا مگر اسے تو کوئی نشانی دکھائی نہیں دی۔ “یقینا!! اس نے دیکھ لیا ہے”! بوڑھی عورت نے کھڑکی بند کر دی اور واپس آتشدان کے قریب بیٹھ کر بنائی میں مصروف ہو گئی۔
نوجوان لڑکی جو بہار کو خوش آمدید کہنے گھر سے نکلی تھی اب دھیرے دھیرے گاتی گنگناتی ہوئی ایک چھوٹی سی پگڈنڈی پر رواں تھی جس کے آخری موڑ پر ایک کائی زدہ چٹان تھی اور جھکے ہوئے سینگ نما حصے  میں وہ کچھ ہیزل نٹس گلہریوں کے لئیے رکھنے آیا کرتی تھی۔جب وہ قریب پہنچی تو اس نے دیکھا کہ ایک ہیزل نٹ کے ادھ کھلے خول سے ایک ننھا سا پودا جھانک رہا ہے۔ “اوہ! بہار سچ مچ آ گئی! پتہ نہیں ماں یقین کیوں نہیں کرتی”؟؟ اس نے سامنے پیڑ پر بیٹھی گلہری کو دیکھ کر خفگی سے کہا اور کوئی جواب نہ پا کر اپنے کوٹ کی جیبوں سے نئے نٹس نکال کر رکھنے لگی۔ “جب سفید برف سبز پتوں کو آزاد کر دے گی۔۔۔ہاں ہاں!! اور گھاس کی نوکیں نرم ہو جائیں گی۔۔ہاں ہاں!! تو محبت کی پہلی نشانی کا سایہ تمہیں خزاں کی چوکھٹ پر نظر آئے گا!” وہ بے حد مگن ایک قدیم گیت گاتے ہوئے بہار کو خوش آمدید کہہ رہی تھی، بہار جو برف موسم میں فقط اس کم سن لڑکی کی خاطر آئی تھی۔نہیں! رکو! وہ بہار نہیں تھی وہ محبت کی پہلی کہانی تھی۔
اسے واپس لوٹتے ہوئے اتنا وقت لگ گیا تھا کہ کالونی کی سڑک پر لگے ہوئے برقی روشنی کے لیمپ روشن ہونے لگے تھے اور ان کی زرد روشنی سفید برف پر چھوٹے چھوٹے سورج بناتی تھی۔
لڑکی کو کالونی کے آخری سرے پر جانا تھا اور راستے میں چھ لیمپ پوسٹس آتی تھیں۔ ابھی وہ پہلے لیمپ پوسٹ کے قریب ہی پہنچی تھی کہ کوئی بے حد عجلت اور افراتفری میں اس سے ٹکرا گیا۔
“اوہ معاف کرنا”! آنے والا جلد باز اس کو گرنے سے بچانے کے لئیے تھامتے ہوئے بولا تو اس نے آنکھیں کھولیں جو خوف سے بند ہو گئی تھیں۔۔
وہ ایک اجنبی نوجوان تھا جس کے سلیٹی کوٹ پر تین سرخ پروں کا نشان بنا ہوا تھا۔”میں جلدی میں تمہیں دیکھ نہیں پایا! تم ٹھیک تو ہو؟ کہیں چوٹ آئی ہے کیا؟” وہ لڑکی سے پوچھ رہا تھا جو خاموش کھڑی اس اجنبی کے سائے کو ایک کٹے ہوئے درخت پر گرتا دیکھ رہی تھی۔ “محبت کی پہلی نشانی کا سایہ تمہیں خزاں کی چوکھٹ پر نظر آئے گا” گیت کے بول اس کے ذہن میں گونج رہے تھے۔ سرمئی آنکھوں اور الجھے بالوں والے نوجوان نے اسے حیرت سے دیکھا اور پھر وہ سر جھٹک کر اپنی نئی سیکھی ہوئی دھن بجاتا آگے کو چل پڑا ۔وہ دھن جو وہ تین مہینے جہاز کے عرشے پر بوڑھے سیاہ فام سے سیکھتا رہا تھا۔
وہ دھن سحر انگیز تھی اور اس کا سحر کسی ایک بہار تلاشتی لڑکی پر ہونا تھا۔ وہ سائرن جادوگرنیوں کے بربط کا ساز تھا جو جکڑ لیتا ہے،بلا لیتا ہے اور کبھی جانے نہیں دیتا۔
وہ آگے بڑھتا گیا اور دھن پیچھے کھڑی لڑکی سے لپٹتی رہی۔۔
اگلی صبح جب وہ اپنی چھوٹی سی بیکری میں تازہ بنائی ہوئی ڈبل روٹیوں کو ترتیب سے رکھ رہی تھی تو تین برس میں یہ وہ پہلی صبح تھی جب اس کی سب ڈبل روٹیاں سنہری بھوری اور بہترین پکی ہوئی تھیں۔دراصل پہلے وہ بہت جلد نیند سے مغلوب ہو جاتی تھی اور کچھ ڈبل روٹیاں ضائع ہو جاتی تھیں مگر گزشتہ رات نیند اس سے آخری بار مل کر طویل رخصت پر چلی گئی تھی۔ دھن کے بوجھ نے اسے سست اور تھکان زدہ کر دیا تھا۔ وہ رات بھر ڈبل روٹیوں کو بھٹی میں رکھتی اور نکالتی رہی تھی اور وہ اس دھن کو دل ہی دل میں دہرا رہی تھی جو وہ اجنبی بجاتا ہوا نکل گیا تھا۔”اوہ! مجھے اس بارے میں اتنا سوچنا نہیں چاہیئے آخر وہ ایک دھن ہی تو تھی” اس نے بالاخر  مضبوط بننے کا ارادہ کرتے ہوئے تندہی اور جانفشانی سے شیشے کے پٹ والی لکڑی کی الماری میں رکھی ڈبل روٹیاں از سرنو ترتیب دینے لگی۔
جلد ہی گاہک آنے لگے اور ایک مصروف دن نے اسے کچھ دیر کے لئیے دھن بھلا دی “آج تمہاری ڈبل روٹی میں بہت انوکھا ذائقہ ہے! تم نے یہ نئی ترکیب کہاں سے سیکھی ہے چھوٹی لڑکی”؟؟ گٹار بجانے والے فقیر نے مزے سے کھاتے ہوئے اس سے پوچھا ۔وہ ہر روز اسے ایک ڈبل روٹی دیا کرتی تھی کیونکہ اسے بہت برا لگتا تھا جب کوئی بھوکا ہو۔اس کے گلے میں بھوکے انسان کا تصور نرم خوراک کو بھی پھنسا دیا کرتا تھا۔”نہیں فرینک!! یہ کوئی نئی ترکیب نہیں، میں روز ایسی ہی بریڈ بناتی ہوں” وہ حیران ہو کر بولی۔ جوابا فقیر نے ایک چھوٹا سا ٹکڑا اس کی طرف بڑھا دیا۔ “لو! خود جان لو”!! اس نے روٹی کا ٹکڑا منہ میں رکھا اور چبانے لگی۔”اوہ!! تم سچ کہتے ہو۔۔یہ ذائقہ۔۔یہ مکمل ذائقہ ہے”! وہ حیرت زدہ ہو کر بولی “مگر یہ تو روز مرہ کی ترکیب سے ہی بنی ہے” فرینک نے آخری ٹکڑا نگل کر ہاتھ جھاڑے اور اس کے کاونٹر کے قریب جھک آیا” اگر تم نے ترکیب نہیں بدلی مہربان چھوٹی لڑکی، تو پھر دراصل تم خود بدل گئی ہو۔اور جان لو کہ انسان کی دنیا بدل دینے کی طاقت صرف محبت کے پاس ہوا کرتی ہے” وہ زور سے ہنسا اور گٹار بجاتا فٹ پاتھ پر اپنے مخصوص ٹھکانے کی طرف چل دیا۔ وہ حیرت زدہ چھوٹی لڑکی برف پر بنتے اس کے قدموں کے نشانوں کو دیکھتی رہ گئی۔ “محبت”!!؟؟ وہ کھوئے ہوئے انداز میں بولی”مگر میں تو محض اس اجنبی کی دھن سے مضطرب تھی”؟؟تو کیا محبت؟؟۔۔۔۔جلد ہی اس کے خیالوں کا سلسلہ گاہکوں کی آمد سے ٹوٹ گیا اور وہ ڈبل روٹیاں الماری سے کاوئنٹر پر منتقل کرتے کرتے تھک گئی۔ ۔
آج کا دن بھی وقت سے پہلے نظر آ جانے والی بہار کی طرح نیا سا تھا۔ جب شام کے سورج نے اس کے بھورے سنہرے بالوں میں اپنی شعاوں کو بکھیرا تو اس کی الماری میں محض ایک ڈبل روٹی بچی تھی اور چھوٹے ڈبے میں بہت سی رقم تھی ۔۔وہ خوش رنگ تیتری کی طرح اٹھلائی اور بیکری بند کرنے کے ارادے سے لمبے سٹول سے اتر آئی۔
کاونٹر پہ وزن کے پیمانے سمیٹتے ہوئے اس نے بے ارادہ ہی سڑک کے پار نظر دوڑائی تو اسے وہ الجھے بالوں اور سرمئی آنکھوں والا اجنبی کھڑا نظر آیا جو کل اس سے پہلے لیمپ پوسٹ کے پاس ٹکرایاتھا۔ شاید اسکی نظر اس سرمئی آنکھ سے لپٹ گئی تھی، تبھی تو وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اس کے کاوئنٹر کے باہر آ کھڑا ہوا  ۔ “ہیلو! “وہ مسکرایا اور نظر سمیٹ لی، اسکی آنکھ آزاد ہوئی تو اسے ایک جھٹکا سا لگا  ۔”ہیلو! “وہ لب ہلائے بنا بولی۔ کیا تم ٹھیک ہو؟؟ کل دراصل میں بہت جلدی میں تھا اور مجھے کسی کی امانت اس تک پہنچانی تھی، اس اجنبی قصبے میں امانت پہنچانا بھی کس قدر مشکل کام ہے۔” وہ دھیرے سے ہنسا ۔ “سنو! یہ بیکری تمہاری ہے” باتونی اجنبی نے اس سے پوچھا۔ اس نے جامنی اونی لبادے کے اوپری بٹن بند کرتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا “اوہ! تب تو مجھے ایک ڈبل روٹی مل ہی سکتی ہے ؟دراصل میں  بھوکا ہوں” وہ بہت بیچارہ نظر آنے لگا۔ وہ چپ چاپ مڑی اور الماری میں بچ جانے والی آخری ڈبل روٹی اس کے سامنے رکھ دی۔ وہ شکر گزاری کے ساتھ مسکرایا اور اسے اٹھا کر واپسی کے لئیے مڑنے لگا۔ “اوہ”! معاف کرنا میرے پاس پیسے نہیں ہیں، ہاں مگر! تم یہ میرا ماوتھ آرگن رکھ سکتی ہو۔”وہ قدرے جھجھکتا ہوا سا پلٹا۔ “کوئی بات نہیں۔۔تم اسے لے جاو اور ماوتھ آرگن لے کر میں کیا کروں گی، ہاں تم اس کے بدلے میں مجھے وہ دھن سکھا سکتے ہو جو تم کل بجا رہے تھے؟ دراصل۔۔اسے سننے کے بعد میری ڈبل روٹیوں میں ایک نیا، مکمل ذائقہ آ گیا ہے۔۔ میں وہ دھن سیکھنا چاہتی ہوں ۔” وہ اس کا ماوتھ آرگن اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہہ رہی تھی۔اس نے وعدہ کر لیا کہ وہ اسے دھن ضرور سکھائے گا اور کل اسی وقت دوبارہ اس سے ملنے آئے گا۔ واپس جانے سے پہلے اس نے جیب سے دو جامنی موم بتیاں نکالیں اور کاونٹر پہ رکھ کر سڑک پار کر گیا۔
وہ تب تک اسے پلک جھپکائے بغیر اسے دیکھتی رہی جب تک وہ شام کے ملگجے کا حصہ نہیں بن گیا۔ پھر اس نے دکان بند کی اور موم بتیاں لبادے کی جیب میں ڈال کر گھر کی سمت چلنے لگی۔
آج اس نے دوسری نشانی بھی دیکھ لی تھی، سنہرے موٹے دھڑ والے بھنورے لیمپ پوسٹس کے اردگر منڈلا رہے تھے اور وہ تو بہار میں ہی ہوا کرتے تھے۔۔لیکن!! بہار آخر کہاں تھی؟؟
شام کا کھانا کھا لینے کے بعد اور بریڈ تیار کر لینے کے بعد اس نے وہ موم بتیاں سرہانے پڑی چھوٹی میز پہ رکھ دیں اور انہیں بنا جلائے ہی اس کے کمرے میں مدھم روشنی پھیلنے لگی۔۔ “جب سفید برف سبز پتوں کو آزاد کر دے گی۔۔۔”اس کے کانوں میں گیت اور دھن آسمانی راز کی طرح مدغم ہونے لگے اور پلکیں بوجھل ہوتی گئیں۔ جب وہ چھوٹی، نوجوان لڑکی سو گئی تو اس کی کھڑکی کے باہر بیل نے چار مزید پتوں کو جنم دیا۔ وہ اب کھردری پتھریلی دیوار پہ اپنے سبز پنجے پھیلا رہی تھی  ۔
صبح بہت روشن تھی اور چمنیوں سے اٹھتا گاڑھا سرمئی دھواں میناروں کی طرح بلند ہو رہا تھا۔ ماں نے کل رات ہی اونی لبادے کی بنائی مکمل کی تھی اور آج اسے دیر تک سونا تھا ۔ وہ اپنی سائیکل پہ بریڈ لادے، سنہری بالوں کو پونی میں قید کئیے گنگناتی ہوئی بیکری کی جانب بڑھنے لگی۔ برقی تاروں پر بہار کے پرندوں کا ایک جوڑا بیٹھا تھا۔ وہ لمبی دموں اور گہرے نیلے سر والے برڈ آف پیراڈائز تھے۔ اس نے سائیکل کی گھنٹی شرارت سے بجائی تو وہ لمبی دمیں لہراتے ہوئے اڑ گئے ۔ اس کی ہنسی بہت دیر تک سڑک پہ برف پگھلاتی رہی اور خود وہ سرشار اور سبک گام سی اپنی بیکری کھولنے لگی تھی۔ آج سبھی گاہک بریڈ کے ذائقے کو بہت سراہ رہے تھے اور بوڑھی مسز بنجامن جو کہ فیل پا کی بیماری میں مبتلا تھیں، انہوں نے اسے بتایا کہ کل بریڈ کھانے کے بعد ان کی طبعیت بشاش ہو گئی اور کل ہی انہیں بہت عرصے کے بعد اپنے بیٹے کا پوسٹ کارڈ بھی ملا ہے”اوہ لڑکی! تم ایک مہربان علامت ہو” انہوں نے فرط مسرت سے اس کے گلابی گالوں کو ہلکا سا کھینچا اور سوجے ہوئے پاوں گھسیٹتی ہوئی چلی گئیں۔ “تو فرینک سچ کہتا ہے’؟؟مگر محبت۔۔۔۔؟؟؟وہ سوچتی رہی، دھن کانوں میں سرسراتی رہی اور علامات بہار ایک کے بعد ایک ظاہر ہونے لگیں۔
شام میں جب وہ ڈھلتے سورج کی کرنوں کا راستہ روکے اس کے کاوئنٹر پر کھڑا تھا تو ٹھیک اسی لمحے سڑک کے پار پھولوں کی دکان میں پہلا ٹیولپ کھلا تھا۔وہ سرخ اور گلابی دھاریوں والی پنکھڑیاں اٹھائے انہیں دیکھ رہا تھا۔
وہ دکان بند کر کے اس کے ساتھ چلنے لگی اور سڑک پر اس کی سائیکل کے پہیوں کے نشان سنہری ہونے لگے وہ اس کے پیچھے بیٹھا اسے دھن سکھا رہا تھا اور وہ سائیکل چلاتے ہوئے سیکھ رہی تھی۔ لیمپ پوسٹس کی روشنیاں ان کے سائے کو ایک دکھاتی تھیں۔ ۔
اس رات ماں نے اس کے کھلے ہوئے چہرے اور لباس سے آتی انوکھی مہک کو دیکھا، محسوس کیا اور مان لیا کہ بہار آ چکی ہے۔
آنے والے ہفتوں میں سبھی لوگوں کے لیئے بہار آ چکی تھی۔ آڑو کے شگوفوں، بید مجنوں کی کونپلوں اور  سیبوں کی منہ بند کلیوں نے انگڑائیاں لینا شروع کر دی تھیں۔ سفید برف سبز پتوں کو آزاد کر چکی تھی اور نئی اگنے والی گھاس کی نوکیں بے حد نرم تھیں۔۔۔علامات!! وہ پوری ہو رہی تھیں۔۔
اس کی بیکری پہ گاہکوں کا ہجوم ہوتا تھا اور وہ دھن تقریبا سیکھ چکی تھی۔پیٹر! وہ اجنبی جس کا سایہ اسے خزاں کی چوکھٹ پر نظر آیا تھا اب بالکل بھی اجنبی نہیں رہا تھا۔ وہ تمام دن جہاز پر آنے والا سامان بازار میں بیچا کرتا تھا اور سر شام ہی اس کی بیکری کے کاونٹر پہ موجود ہوتا۔دھیرے دھیرے دوستی بڑھتی گئی۔
کھڑکی کے باہر دیوار پر سبز بیل اب اس کی کھڑکی کے آدھے پٹ تک آتی تھی اور اب اسے چٹان کے جھکے ہوئے حصے میں زیادہ ہیزل نٹس رکھنے پڑتے تھے کیونکہ گلہریوں نے بہت سے ننھے بچے دئیے تھے اور وہ ننھی دھاری دھار سرمئی اور سیاہ دمیں اٹھائے شاخوں پہ پھدکتے اور نٹس کترتے تھے۔
اب وہ تنہا نہیں ہوتی تھی، محبت کی پہلی کہانی اس کے ہمراہ ہوا کرتی تھی۔ وہ دونوں مسلسل بولتے اور  بے تکان ہنسا کرتے تھے ۔ اونی لبادوں کی جگہ وہ اب ریشمی پھولدار سکرٹس پہننے لگی تھی اور سنہری بالوں پر اکثر ایک نیلا ربن لگا گلابی ہیٹ رکھا نظر آنے لگا تھا۔
محبت کے دن کس قدر ملائم ہوتے ہیں، مٹھی سے چین کے ریشم کی مانند پھسل جاتے ہیں اور خبر ہی نہیں ہونے پاتی۔ ماں اسے روکنا چاہتی تھی، سمجھانا چاہتی تھی مگر اس کے چہرے پہ کھلتے شگوفے نوچنے کی ہمت نہ ہوتی تھی  “خیر!! موسم گزرنے پر اسے چلے ہی تو جانا ہے۔۔ اور تب تک کے لئیے۔۔۔۔ہاں! تب تک کے لئیے تو۔۔۔۔”وہ سفید کپڑے پر پھول کاڑھنے کے لئیے سرخ دھاگہ تلاش کرنے لگی۔ بیل نے کھڑکی سے جھانکا اور بوڑھی عورت کے خزاں رسیدہ ہاتھوں کو تمسخر سے دیکھ کر اپنا آپ جھٹک دیا۔ بہار میں بیلوں کو خزاں کا منظر بھلا یاد ہی کب رہتا ہے۔۔
قصبے میں بہار عروج پر تھی۔ لوگوں نے اپنی کھڑکیوں کو جرینئیم کے دہکتے پھولوں سے سجا دیا تھا، کیاریوں میں ٹیولپ سر اٹھائے جھومتے تھے، پرائم روز کی مہک نارنجی تتلیوں کو مدہوش کرتی تھی اور ایک خواب آلود، نیند آور مہک ہر ذی روح کے بدن سے پھوٹ کر پرخمار بوجھل پن میں بدلتی تھی۔
قصبے کے لوگ اب لمبی دوپہریں کھاڑی کے کنارے پکنک مناتے ہوئے گزار رہے تھے اور پھلوں میں رس بھرنے کا عمل تیزی سے جاری تھا۔ میٹھی خوشبووں سے بوجھل ایک شام میں وہ اس کے کاونٹر پہ آیا تو کچھ بے چین، اداس اور الجھا ہوا سا تھا۔ اس نے سبب جاننا چاہا مگر وہ بس یہ اتنا کہہ کر چل دیا کہ وہ اسے کل دوپہر میں اس ٹاپو پر ملے جہاں پرانے قلعے کے کھنڈر ہیں۔ وہ بے چین ہو گئی، روکنا چاہتی تھی مگر وہ رکا ہی نہیں اور اس شام اسے اکیلے گھر واپسی کے خیال نے بے حد اداس کر دیا تھا۔ اس نے شام کا کھانا بھی نہیں کھایا اور بے دلی سے ڈبل روٹیاں بھٹی میں جھونکتی رہی۔
“تو وقت آنے والا ہے۔۔”؟؟ بوڑھی ماں نے سہم کر اس کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھا اور زرد پھولوں کی نامکمل رہ جانے والی پتیوں کی بھرائی کرنے لگی۔
اگلے دن اس نے دوپہر سے پہلے بیکری بند کر دی اور ٹاپو پر بنے پرانے قلعے کے کھنڈروں کی طرف اس سے ملنے چل پڑی۔ وہ اس سے پہلے وہاں موجود تھا اور چہرے پہ ہیٹ رکھے لیٹا گھاس کا ایک سبز تنکا چبا رہا تھا۔ وہ دھیرے دھیرے چلتی ہوئی اس کے ہلتے ہوئے پیروں کے پاس آ کھڑی ہوئی اور ہاتھ میں پکڑی ہوئی  بوتل سے کچھ پانی شرارتا اس پر چھڑک دیا۔ وہ اپنا ہیٹ ہٹا کر اٹھ بیٹھا اور اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اپنے پہلو میں بٹھا لیا۔ وہ زرد سورج مکھی کے پھولوں والے  لبادے میں تھی جو گھٹنوں تک آتا تھا اور اس کے پاوں میں زرد بند جوتے تھے۔ “دھوپ کی دیوی”! وہ اس کے کان کے پاس گنگنایا اور اسکی کھلتی مچلتی ہنسی ٹاپو پہ پھیلنے لگی  ۔”آو پھول چنتے ہیں” اس نے اسے اٹھا لیا”مگر پہلے مجھے وہ بات تو بتاو جس کے لیئے تم نے مجھے یہاں بلایا ہے” وہ اس وجہ کو جاننا چاہتی تھی جس نے اسے کل شام اکیلے گھر جانے پر مجبور کر دیا تھا مگر اس نے ان سنی کر دی اور جلد ہی اس کی رفاقت میں اسے بھی سب بھولنے لگا۔ وہ ساری دوپہر انہوں نے ٹاپو پر اگے جامنی،گلابی اور نیلے سٹے دار پھول چنتے ہوئے گزاری تھی۔ اس نے ماوتھ آرگن پر بہت سی دھنیں بجائیں اور قلعے کے کھنڈروں پہ پتھر کی نوک سے جابجا اپنے نام لکھے اور اب تھک کر وہ ایک اونچے پتھر پہ بیٹھے جام لگی بریڈ کھاتے ہوئے لہروں کے ساتھ ساتھ اڑتے آبی پرندوں کو دیکھ رہے تھے۔ “کیا اب تم مجھے بتاو گے کہ کل ایسا کیا ہوا تھا جو تم مجھے گھر تک چھوڑنے نہیں آئے “؟ نوجوان لڑکی نے بریڈ کا بچا ہوا ٹکڑا پانی میں اچھال دیا اور سرمئی آنکھوں والے نوجوان کے چہرے پہ نظریں گاڑ دیں۔ وہ چند لمحے سر جھکائے گھاس کی پتیاں نوچتا رہا “ایک دو دن میں جہاز روانہ ہو رہا ہے” بالاخر اس نے سر اٹھا کر دھیرے سے کہا۔ وہ چند لمحوں کے لئیے تو اس بے محل جواب کی وجہ سمجھ نہ پائی اور جب سمجھ آیا تو۔”نہیں!!” اس کے لبوں سے سسکی سی نکل گئی اور دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں لبریز ہو گئیں۔
“ابھی تو۔۔ابھی تو ماں نے تمہارا کوٹ بھی مکمل نہیں کیا۔! اور ابھی ان انگور کی قلموں پر پتے بھی نہیں آئے جنہیں ہم دونوں نے لگایا تھا۔۔اور ابھی تو میں نے بہترین ذائقے کی بریڈ بنانا سیکھی ہے۔ تو تم ابھی کیسے جا سکتے ہو۔؟؟” وہ دونوں ہاتھ منہ پر رکھے سسکتے ہوئے بول رہی تھی اور اسکی آواز میں اس سٹیمر کے انجن جیسا کرب تھا جس نے اس کے محبوب کو اس سے دور لے جانا تھا ۔
“تم مت روو!” وہ دکھے ہوئے دل کے ساتھ اس کے قریب ہوا۔ “یہ تو طے تھا ناں! مجھے لوٹنا ہی تو تھا۔۔تمہارا قصبہ اس جہاز کے لنگر انداز ہونے کا بس ایک پڑاو تھا۔۔!! وہ اس کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا۔”اچھا!؟؟ اگر ایسا ہی تھا تو۔۔تو تب تم مجھ سے خزاں کی چوکھٹ پر کیوں ٹکرائے؟ اور مجھے اس دھن کے سحر میں مبتلا ہی کیوں کیا؟ کیا تم جانتے نہ تھے کہ وقت سے پہلے بہار دیکھ لینے والی لڑکی کے لئے دھن ایک قاتل،ایک ساحر ہوتی ہے؟؟”بولو!؟؟ تم نے ڈبل روٹی کے بدلے دھن کیوں سکھائی اور وہ جامنی موم بتیاں کیوں میرے کاوئنٹر پر چھوڑ گئے جبکہ تمہیں جانا تھا، تم فقط لنگر انداز ہوئے تھے تو مجھ میں قیام کس کی اجازت سے کیا؟” وہ اسے دونوں ہاتھوں سے دھکیلتی ہوئی بے ربط بولتی اور اندھا دھند بھاگتی ہوئی نیچے کھڑی اپنی سائیکل تک گئی اور بے ڈھنگے پن سے اسے چلاتی ہوئی واپس جانے لگی۔
دوپہر کی ہوا میں “الوداع میرے محبوب! موت کا خنک بوسہ میرے لبوں پر پھیل رہا ہے” کی ماتمی دھن تھی ۔ وہ شکستہ دل کے ساتھ اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر دھیرے دھیرے ٹاپو سے اتر  آیا۔ سڑک سے ذرا پہلے اسے اس کا زرد جوتا اوندھا پڑا نظر آیا اس نے اسے اٹھا کر کوٹ کی لمبی اندرونی جیب میں ڈال لیا۔ پھر تھوڑے فاصلے پر اس کے سورج مکھی کے پھولوں والے لباس کا ایک ٹکڑا خار دار تار میں الجھا نظر آیا، اس نے اسے بھی اٹھا لیا اور چلنے لگا۔ سڑک پہ جا بجا وہ نیلے گلابی اور جامنی سٹے دار پھول بکھرے تھے جو انہوں نے ٹاپو سے چنے تھے اور اس کی سائیکل کے آگے لگی چھوٹی سی ٹوکری میں بھر دئیے تھے  ۔ وہ جھک کر انہیں اٹھانے لگا، بہت دھیرے دھیرے، بڑی ہی توجہ سے ! جیسے اسے بہت فرصت ہو اور وقت کاٹے نہ کٹ رہا ہو۔ وہ سارے پھول چن چن کر کوٹ کی جیبوں میں  بھرتا رہا  ۔ آخری سٹہ اسے بیکری کے سامنے سے ملا تھا۔ وہ رات اس نے بند بیکری کے دروازے سے ٹیک لگائے ماوتھ آرگن پر “الوداع میرے محبوب۔۔موت کا خنک بوسہ میرے لبوں پہ پھیل رہا ہے ” بجاتے ہوئے گزاری تھی!اور کوٹ کی اندرونی جیب میں رکھا اس کے زرد لباس کا ٹکڑا اس کے بے رنگ آنسووں سے نچڑتا تھا۔
ادھر اس کے کمرے کی کھڑکی سے جھانکتی بیل کے دو پتے زرد ہوگئے تھے اور اس کی اس قدر شکستگی پر ماں کی آنکھوں تلے دو چار موٹی موٹی مزید جھریوں کا اضافہ ہو گیا تھا اور بدحواسی کے عالم میں اس نے سرخ پھولوں کی پتیوں میں سیاہ رنگ کاڑھ دیا تھا۔
وہ چار دن بعد بخار سے نکلی تو اس کا جہاز اور وہ خود بھی واپسی کا سفر اختیار کر چکے تھے۔
ماں سے نظریں چرائے ہوئے اس نے ڈبل روٹیوں کا آمیزہ گوندھنا شروع کیا تو ماں نے دیکھا اس کے ہاتھوں کی حرکت میں اس  قدر وحشت تھی جیسے وہ اس آمیزے کے اندر اپنا آپ گھلا دینا چاہتی ہو۔ “سنو! میرا خیال ہے تمہیں ابھی کچھ دن آرام کرنا چاہئے” اس نے سہمی ہوئی آواز میں اسے روکنا چاہا مگر وہ اپنے کام میں مصروف رہی۔ “تو بالاخر وقت ٹھہر گیا۔۔۔”بوڑھی عورت نے خوبانیوں کے جام کی بوتل کو الماری میں رکھتے ہوئے خود کلامی کی اور اس کا کوٹ جو ابھی نامکمل تھا اسے اٹھا کر بیکار کپڑوں کے باکس میں ڈال آئی۔
وقت سے پہلے بہار کو تلاشنے والی اور محبت کی پہلی کہانی کا چہرہ دیکھنے والی نوجوان لڑکی کے لئیے خزاں بھی وقت سے بہت پہلے آ گئی تھی۔وہ خود کار مشین کی طرح ڈبل روٹیوں کے سانچے بھٹی میں رکھتی اور نکالتی رہی۔ یہاں تک کہ صبح کے پرندے چہچہانے لگے اور آج پوری رات تندہی سے کام کرنے کے باوجود اس کی ڈبل روٹیاں کچھ جلی ہوئی تھیں اور کچھ کچی رہ گئی تھیں مگر اب اسے کسی بات کی پرواہ نہیں تھی۔
وہ بیزار چہرے اور بند لبوں کے ساتھ بریڈ بیچتی رہی۔”اوہ! پیاری۔۔۔اس کا ذائقہ بھیانک ہے۔۔کیا تم نے ترکیب بھلا دی ہے”؟؟ فرینک حیرت اور بے یقینی سے پوچھ رہا تھا۔”نہیں”! اس نے فقط ایک نظر اس پہ ڈالی اور سر جھکا کر کاونٹر کے پیچھے بیٹھ گئی۔”اوہ!! تو تب پھر۔۔۔تمہارے دل پہ جدائی کا سیاہ داغ پڑ چکا ہے۔۔۔آہ! “وہ دھیرے دھیرے بولتا ہوا چلا گیا۔”جدائی کا سیاہ داغ!؟؟ ہونہہ! فرینک پاگل ہو گیا ہے، میرا دل تو پومپی آئی کا کھنڈر بن گیا ہے، حنوط شدہ محبت کی لاش کا قبرستان” اس نے زور سے اس بھوری چڑیا کو اڑایا جو کاونٹر کے کنارے پر آ بیٹھی تھی۔
روکھے پھیکے بدمزہ دن گزرنے لگے، بریڈ کا ذائقہ مزید خراب ہوتا گیا اور گاہک کم ہوتے گئے، ہوتے گئے۔۔”معاف کرنا چھوٹی لڑکی! مگر تمہاری بریڈ کھا کر میری طبعیت بہت گھبرانے لگتی ہے اور کل ہی میرے کتے کی ٹانگ بھی ٹوٹ گئی ہے۔۔یہ کوئی اچھی علامت نہیں”!! وہمی اور علامات تلاشنے والی مسز بنجامن معذرت خواہانہ انداز میں اسے کہہ رہی تھیں۔
وہ چپ چاپ زمین کو دیکھتی رہی۔ محبت کی پہلی کہانی کے نوخیز بدن پر سلوٹیں پڑ رہی تھیں۔
قصبے میں بہار گرما میں ڈھل رہی تھی مگر اس کے لئے خزاں کب کی آ چکی تھی۔ گاہک اب اتنے کم ہو گئے تھے کہ اسے چار چار دن بریڈ بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ ماں اب کڑھائی بنائی چھوڑ کر خوبانی اور سیب کے جام بنانے لگی تھی اور پھر خود ہی انہیں بیچ بھی آتی۔ وہ چپ چاپ کھڑکی کو ڈھانپ چکی بیل کو گھورتی رہتی اور گھنٹوں جامنی موم بتیوں کو سامنے رکھے، پلک جھپکائے بنا دیکھا کرتی۔ اس نے پگڈنڈی کے آخری سرے پر موجود چٹان کے جھکے ہوئے حصے میں گلہریوں کے لئیے ہیزل نٹس رکھنا بھی چھوڑ دئیے تھے اور لیمپ پوسٹس اسے اپنے جانی دشمن لگنے لگے تھے۔
ایک دوپہر جب ماں گھر واپس آئی تو اس نے دیکھا کہ وہ زمین پر بیٹھی سبز پتوں والی بیل کو جڑ سے کاٹ رہی ہے۔ پھر اس نے پاگل پن کے عالم میں اسے کھڑکی اور دیوار سے نوچنا شروع کر دیا۔اس کوشش میں اس کی انگلیوں سے خون رسنے لگا تھا مگر وہ باز نہ آتی تھی۔
ماں نے ٹھنڈی سانس بھر کر اسے دیکھا اور اندر چلی گئی۔
وہ آہستہ آہستہ چرچ میں رکھی موم بتیوں کی طرح پگھلنے اور گھلنے لگی تھی۔ دھن نے کہیں اس کے اندر ہی بسیرا کر لیا تھا اور وہ اب ایک آسیبی سرگوشی کی مانند اس کا لہو پیتی تھی۔ اس کے لباس کولہوں سے ڈھلکنے لگے تھے،شانوں کی ہڈیاں چاقو کے دستے کی مانند ابھر آئی تھیں اور گالوں کے گڑھے اب پرانے مندمل زخموں کی طرح نظر آتے تھے۔ ماں اب اسے دیکھنے سے کترانے لگی تھی۔ وہ جام بناتی تھی اور اس کے شیرے میں اس کے نمکین آنسو ٹپاٹپ گرتے تھے”اف یہ علامات! اف یہ محبت کی کہانی”!! وہ سر جھکائے بوتلیں بھرے جاتی۔
موسم اب سرد ہونے لگا تھا اور قصبے کی سڑکوں پر زرد پتے برفیلی ہوا کے ساتھ اڑتے پھرتے تھے  ۔
“اگر تم نے وہ بیل نہ اکھاڑی ہوتی تو اب اس کے پتے سرخ ہو رہے ہوتے”! کمرے کے دہشتناک سناٹے سے گھبرا کر ماں نے اسے مخاطب کرنا چاہا تو اس  نے کروٹ بدل کر لحاف تان لیا۔ وہ اتنی خاموش ہو گئی تھی کہ ماں کو لگتا اگر اب وہ بولے گی تو اس کے آپس میں چپکے ہونٹوں کی کھال ادھڑ جائے گی۔
دن گزرتے رہے، گزرتے رہے اور وہ اس دھن کو بھلانے کی کوشش میں سب بھولتی گئی مگر وہ دھن! وہ موت کی دیوی کے بربط کا ساز اسے بھولتا ہی نہ تھا۔ اور پھر جس صبح پہلی برفباری ہوئی تو تب اس کے کانوں نے ایک بار پھر سے وہ دھن سنی۔!
وہ بے حد دور تھی اور پھر قریب آتی گئی۔۔آتی گئی۔! وہ بے چین ہو کر اٹھ بیٹھی۔ماں آتشدان کے قریب آرام کرسی رکھے بنائی کر رہی تھی۔ “ماں! کیا تم نے کچھ سنا”! وہ بڑبڑائی”ہاں! برف گر رہی ہے! ماں نے اسے دیکھا۔”نہیں ماں!! یہ دھن۔۔۔یہ وہی دھن ہے ماں جسے سیکھنے کے عوض میں نے سارا سکون دے دیا تھا، دل بھی اور محبت بھی۔۔”وہ رونے لگی تھی۔ بوڑھی عورت نے ترحم سے اسے دیکھا اور باہر دستک ہونے لگی۔”کون ہے وہاں”؟؟ بوڑھی نے پوچھا اور کوئی جواب نہ پا کر دیکھنے کے ارادے سے باہر چل دی۔ دھن اب خاموش تھی۔وہ اسے اپناوہم قرار دے کر پھر سے بستر میں گھس کر سسک رہی تھی۔ تبھی کمرے کے دروازے پر آہٹ سی ہوئی”ماں دروازے پر کون تھا”؟؟ اس نے منہ چھپائے ہوئے پوچھا مگر جواب میں خاموشی رہی۔اس نے اچنبھے سے کمبل ہٹایا اور اٹھ بیٹھی۔کوئی آتشدان کے قریب کھونٹی پر سرمئی کوٹ لٹکا رہا تھا جس پر تین سرخ پروں کے نشان تھے۔ اس کا  سارا بدن جھنجھنا کر رہ گیا۔ “کون!!” اس کے باقی الفاظ لبوں میں ہی رہ گئے ۔وہ پلٹا اور ایک ایک قدم اٹھاتا اس کے پیروں کے پاس آ بیٹھا”تم!!” کیوں آئے ہو یہاں!؟؟ وہ دو قدم پیچھے ہٹی۔”میرے پاس نئی دھنیں ہیں”وہ کھڑا ہو گیا۔”نہیں!! مجھے اب کچھ نہیں سیکھنا”! میں نے ایک دھن کے بدلے سب گنوا دیا۔! چلے جاو!” حیرت اور اسے اچانک سامنے پا کر اس پر جو سکتہ طاری ہوا تھا وہ اب ٹوٹنے لگا تھا۔ “میں آ گیا ہوں”اس نے اس کے ہاتھ تھام لئیے۔”لنگر انداز ہونے کے لئیے؟”وہ ہاتھ چھڑانے لگی۔۔اس نے نہیں چھوڑے۔ وہ پہلے سے بھی دلکش ہو گیا تھا۔ “میں محبت کی پہلی کہانی کا انجام لکھنے آیا ہوں۔۔۔لنگر انداز نہیں قیام پزیر ہونے آیا ہوں۔۔ہمیشہ کے لئیے! مستول گرا دئیے ہیں! ” وہ مزید قریب ہونے لگا۔”میرے بادبانوں کو آنسووں کے کھارے پن نے کھا لیا ہے” وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔”مجھے وہ دھن واپس چاہئے” وہ اسکی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا۔ میں اتنے مہینوں سے خود سے کھو گیا ہوں مجھے خود کو ڈھونڈنا ہے۔میرا وجود جو تم اپنے ساتھ لے گئی تھیں، وہ واپس چاہئے۔۔اب میں کہیں نہیں جانے والا۔!! وہ ہنس رہا تھا مگر آنکھیں برس رہی تھیں۔” مجھے چھوڑ جانے والے کا بھروسہ۔۔۔۔”اس کا جملہ اس کے ہونٹوں پر ثبت ہو جانے والے بوسے نے جذب کر لیا۔وہ اسے بہت نرمی سے، جذبات کی پوری شدت سے چوم رہا تھا۔ اس کے ہونٹوں پر جمی کائی صاف ہونے لگی۔ وہ سسکیاں جو جمی رہ گئی تھیں وہ پگھلنے لگیں، بے حسی، بے بسی، کرب سب دھلنے لگا ۔ اور ایک طویل مدت کے بعد وہ اس سے الگ ہوا تو دونوں کے بدن میں زندگی لہریں لے رہی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر جانے کتنی صدیوں بعد مسکرائی۔”ارے یہ دیکھو! یہ شریر لڑکا تمہارے لئیے کتنا پیارا تحفہ لایا ہے”ماں کی خوشی سے کھنکتی آواز پر اس نے دروازے کی طرف دیکھا۔ماں کے ہاتھ میں ایک گلابی ٹوکری تھی جس میں ایک ننھا پوڈل بیٹھا تھا۔اور اس کے گلے میں اس کے زرد لباس کا ٹکڑا ایک ٹائی کی طرح بندھا تھا۔”اوہ! یہ کتنا پیارا ہے۔۔وہ لپک کر قریب آئی اور ٹوکری تھام لی۔وہ اب پیار سے اسے سہلا رہی تھی۔پھر اس نے ٹوکری ماں کو تھما دی اور اس سے مخاطب ہوئی” میرے ساتھ چلو” اس نے سر کو خم کیا اور اسے آگے بڑھنے کا اشارہ کیا”ارے کہاں جا رہے ہو تم لوگ!؟؟ باہر بہت سردی ہے اور ابھی تو یہ آیا ہی ہے۔۔مجھے کچھ سرو کرنے دو!” بوڑھی عورت نے حیرت اور خفگی سے بیٹی کو دیکھا۔” نہیں ماں!! مجھے گلہریوں کے لئیے نٹس رکھنے ہیں اور پہلے لیمپ پوسٹ کے پاس کسی سے ٹکرانا ہے،پھر وہ دھن سننی ہے جو محبت کی پہلی کہانی کا چہرہ دکھاتی ہے۔” وہ بولتی ہوئی اسے چلنے کا اشارہ کر کے باہر جانے لگی۔
بوڑھی ماں نے ان دونوں کو ایک دوسرے  کا ہاتھ تھامے ہوئے جاتے دیکھا اور پھر آتشدان کے قریب بیٹھ کر نوجوان کا نامکمل رہ جانے والا اونی کوٹ بننے لگی۔ کھڑکی کے باہر اکھاڑے جانے والی بیل ایک بار پھر پھوٹ آئی تھی۔۔

مریم مجید
مریم مجید
احساس کے موتیوں میں تحریر کا دھاگہ پرو کر مالا بناتی ہوئی ایک معصوم لڑکی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *