ساچان ویلفیئر سوسائٹی۔۔۔شہزاد سلطان

تعلیم اور صحت کے حوالے سے ایک انتہائی پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ہم تعلیم کے ایک قطرے کو بھی دریا سمجھتے ہیں۔ یقیناً  معیاری تعلیم مہیا کرنے سے بڑی  خدمت کوئی نہیں اور اگر ایک دور دراز علاقے میں پہاڑیوں کے بیچ ایک ایسی جگہ جہاں لوگوں کو تعلیم کے متعلق شعور ذرہ برابر بھی نہ ہو وہاں معیاری تعلیم مہیا کی جائے تو اسے ایک انقلاب کا نام دیا جاسکتا ہے۔

ضلع خضدار کے ایک تحصیل نال کا   دور افتاد پہاڑی علاقہ گروک ایک ایسا خوش قسمت علاقہ ہے جہاں ایک شخص نے اپنی مدد آپ کے تحت ایک این جی او بنائی ہے جس کا مقصد پہاڑی علاقوں کے وہ بچے جو بکریاں چرانے سے زیادہ کچھ نہیں جانتے انہیں   تعلیم دینا ہے۔اس عظیم مشن کو شروع کئے ہوئے اسے تقریباً  چار برس ہونے کو ہیں مگر آج بھی وہ اس عمل میں ذہنی حمایت بھی نہیں حاصل کرسکے۔ اس کی وجہ صرف اور صرف تعلیمی شعور کا فقدان ہے۔اس ویلفیئر کے تحت جہاں بچوں کو تعلیم دی جاتی تھی اس سکول کا کل ایک دورہ کیا تو دیکھ کر نہایت خوشی ہوئی کہ وہاں کل 52 رہائشی بچے زیر تعلیم تھے جن میں گریشہ؛ گروک اور جھاؤ کے بچے شامل ہیں۔ان کے لئے ہاسٹلز میں سولر سسٹم بھی مہیا کیا گیا ہے جس سے اس پسماندہ علاقے میں جہاں بجلی بھی کسی کام کی نہیں بچوں کے ہاسٹلز میں پنکھے چل رہے تھے۔ذاتی خرچ پر ویلفیئر سوسائٹی کے بانی نے سکول کے لئے ایک بور لگا کر وہاں سولر سسٹم کے ذریعے سکول کو پانی سپلائی کرنے کا گراں قدر کام کیا ہے۔

اس سے جب پوچھا کہ آپ نے یہ شروع کیسے کیا؟

مال داری سے انتہا درجے محبت رکھنے والے اس مسیحا نے کہا کہ میٹرک کے بعد خود کراچی پڑھنے گیا تھا مگر ایک دو مہینے کے بعد لوٹ آیا۔ جب ہماری نرسری کمزور تھی تو کراچی میں انٹرمیڈٹ میں ہم اس کمپٹیشن کا حصہ نہیں بن سکتے تھے جس کا اعلی تعلیمی بنیادوں کے بعد وہاں پڑھنے والے بچے حصہ تھے۔ اپنے علاقے میں لوٹ کر آیا تو اندازہ ہوا کہ بہت سارے ٹیچرز پڑھانے کو ایک خدمت سمجھنے کے بجائے ایک نوکری سمجھتے ہیں اور اس نوکری کو بھی دیانت داری سے نہیں نبھاتے۔
اس لئے خیال آیا کہ ایک ایسی  این جی او بناؤں جو مضبوط بنیادی تعلیم مہیا کرے تاکہ ہماری نئی نسل آگے جاکر اس طرح احساس کمتری کا شکار  نہ ہو۔

پھر سوال کیا کہ کس طبقے کی  سپورٹ آپ کے پاس ہے جسے ہم واقعتاً  سپورٹ کہہ سکیں۔

کہنے لگے کہ کوئی نہیں!
بہت کوشش کی مگر جس کو بھی اس کاز میں ساتھ دینے کی دعوت دی اس نے جواب دیا کہ یہ کام آپ کے  بس کی بات نہیں۔ نوجوانوں کو بٹھاکر اس حوالے سے مشورے بھی کئے مگر عملا کسی نے ساتھ نہیں دیا۔

وہاں اس نے تین ملازم بھی رکھے تھے جوکہ بچوں کے کھانے پینے سے لے کر ان کے بستر بچھانے اور جمع کرنے کے ذمہ دار تھے۔ انہیں تنخواہ بھی بانی اب تک خود دے رہے ہیں۔یومیہ صرف سالن کا خرچہ تقریبا 1500 روپے ہے اس کے علاوہ دو دن میں ایک کھٹہ گندم بھی خرچ ہوتا ہے۔کسی بھی فلاحی ادارے یا حکومتی امداد کے بغیر اس ویلفیئر کو یوں کامیابی سے چلانا کسی عامی کے  بس سے باہر ہے لیکن یہ ذمہ داری گروک میں ایک علم دوست اور قوم کے مستقبل کے حوالے سے فکرمند انسان اکیلا نبھا رہے ہے۔

جب میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کے بچے بھی ساچان میں پڑھتے ہیں؟

کہنے لگے کہ جی ہاں ہمارے کنبے کے سارے لوگوں کے بچے بشمول میرے بچوں کے وہیں زیر تعلیم ہیں۔

ساچان کا مطلب پوچھا تو کہنے لگے کہ بادل جب آتے ہیں اور موسلا دھار نہیں برستے بلکہ ہلکے  ہلکے  قطرے جو گرتے ہیں جو بسا اوقات تین چار دن تک برستے ہیں اور زمینی فصلوں کے لئے سب سے طاقتور ہیں۔ انہی بارش کے قطروں کو بلوچی میں ساچان بولتے ہیں۔

میں نے کہا کہ اللہ کرے یہ ساچان گروک پر بہت خوب برسے۔

تھوڑے سے مایوسی کے عالم میں پہلے کہا کہ مشکلات بہت ہیں پھر کہنے لگے کہ امید ہے ان شاء اللہ یہ برسے گا۔

بلوچستان میں اپنی نوعیت کے  واحد سکول میں گروک اور دور دراز سے آنے والے بچوں کی تعداد مستقبل میں بڑھنے کے بہت امکانات ہیں اس لئے انتظامیہ جو کہ ابھی تک اکیلا بانی ہے اس حوالے سے خاصا پریشان تھا۔ مالی حوالے سے اتنا بڑا کام صرف ذاتی زمین داری سے پورا  کرنا نہایت مشکل امر ہے اور تعداد بڑھنے کی صورت میں یہ مشکل ناممکن کی  حد تک جاسکتا ہے۔

ہاسٹلز میں جاکے بچوں سے مل کر نہایت خوشی ہوئی اور کام دیکھ کر دل با غ باغ  ہوگیا۔ہائی سکول کے ٹیچرز سے بھی ملاقات ہوئی تو وہ لوگ بھی سالوں پرانے اور محدود فرنیچرز پر گزارہ  کررہے تھے۔ ایس ایس ٹی کا مسئلہ ہم سب کا مشترکہ ہے مگر وہاں اس کے علاوہ بھی کئی آسامیاں خالی تھیں ۔

ٹیچرز اور بچوں کے پینے کا پانی ٹھنڈا کرنے کے لئے مٹکے بھی نہیں تھے اور بھی کافی سارے مسائل سے گروک ہائی سکول دوچار تھا۔ساچان ویلفیئر سوسائٹی کے شروع ہونے سے قبل ہائی سکول میں 20 سے بھی کم بچے پڑھتے تھے وہ بھی ریگولر نہیں۔ اب یہ تعداد 210 تک پہنچ چکی ہے۔

میر کرم خان بزنجو سے جب پوچھا کہ اس ویلفیئر کو پورے نال میں وسعت کیوں نہیں دیتے؟

کہنے لگے کہ ہمارا صرف  مسئلہ اخراجات کا ہے۔ ابھی یہ اخراجات میں خود سے کر رہا ہوں۔ جب سپورٹ زیادہ ہوگی اور مالی حوالے سے خود کفیل ہوں گے تو اسے وسعت بھی دیں گے۔
فی الحال ساری  توجہ اس کو مستحکم اور معیار تعلیم کو بہتر بنانے پر ہے۔ اچھے ٹیچرز بھی اس کے لئے لگوانےہیں  مگر اس علاقے میں اچھا ٹیچر دستیاب نہیں اور باہر سے لائیں تو کم از کم وہ چالیس سے پچاس ہزار تک   ڈیمانڈ کرتے ہیں۔ اس لئے پہلی کوشش اسے ایک مکمل فعال اور معیاری ادارہ بنانے پر ہے۔
دو دن قبل آغا شکیل درانی نے اس سکول کے لئے تیس کمروں پر مشتمل ایک ہاسٹل بنانے کا بھی اعلان کیا ہے اللہ کرے کہ یہ کام بھی جلدی ہو۔

دوستوں سے درخواست ہے کہ کارِ خیر میں حصہ ڈالیں ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *