سردار فواد تمہارا کچھ نہیں بن سکتا۔۔۔سردار فواد

میرے پیپر تھے سول انجنیرنگ کے، آتا جاتا کچھ تھا نہیں، دیر تک پھر بھی تیاری کرتا رہا، صبح صبح ایک کال آ گئی ، دوسری طرف ایک مہربان دوست بول رہا تھا۔ سردار فواد کدھر ہو ؟۔۔۔میں نے کہا پیپر ہیں سیکنڈ شفٹ میں ادھر جاؤں گا تم ایک کام کرو فوراً پنڈی کچہری پہنچو ۔میں نے وجہ پوچھی کہنے لگے تم ادھر ہی پہنچو ادھر ہی وجہ بھی بتاؤں گا۔ میں مارے مروت کے اور دوست کے احسانوں تلے  دبا گھنٹے تک کچہری پہنچا تو انہوں نے مجھے بلانے کا مقصد بتایا کہ یہ آپ کے سامنے میرے استاد اور محکمہ تعلیم کے ایک افسر بیٹے ہوئے ہیں اور یہ ہتھکڑی لگا ہوا ان کا بیٹا ہے جو دو دن پہلے آپ کے ساتھ پیپر دے  رہا تھا، وہاں نقل کرتے پکڑا گیا اور ابھی تھانے سے آیا ہے اور آج اس کی ضمانت کروانی ہے، جج سے بھی بات ہو گئی ہے تم نے گواہی دینی ہے کہ میں ہال میں موجود تھا میرے سامنے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا اور سچ بھی یہی تھا کہ وہ صبح پیپر دے رہا تھا اور میں شام کو۔ میں نے کہا اگر دوستی میں جھوٹی گواہی دے کر بھی کسی کا مستقبل محفوظ ہوتا تو میں گواہی دینے کو تیار ہوں اس لڑکے کا پیپر میرے سا تھ اسی دن ڈیڑھ بجے ہونا تھا اس کی ضمانت ہو گی اور اس کی ہتھکڑی اتر گئی ۔اس کا والد اسے ایگزیمینیشن  ہال   چھوڑنے چلا گیا اور میں اپنے کمرے میں تیار ہونے چلا گیا کہ جلدی ایگزیمینیشن  ہال پہنچ سکوں ،پہلے ہی عدالت میں بھی دیر ہو چکی تھی گاڑیوں کے  رش کی وجہ سے میں بیس منٹ دیر سے   پہنچا ۔

سپرٹینڈینٹ ڈکٹیٹر صفت انسان تھا میرے ساتھ اس کی ویسے بھی نہیں بنتی تھی اس نے سخت غصے سے دیر سے آنے کی وجہ پوچھی تو میں نے لمحوں میں ساری داستان سنا دی کہ اس وجہ سے لیٹ ہوا ہوں، ہال کی  آخری لائن میں موجود فلاں لڑکے کی وجہ سے دیر ہوئی ہے سپریڈنٹ نے اس لڑکے کو بلایا تو میری جان میں جان آئی کہ خدا کا شکر بچ گیا لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا جب اس لڑکے سے سپریڈنٹ نے میری بات کی تصدیق چاہی تو اس لڑکے نے صاف انکار کر دیا کہ جناب میں تو اس کو جانتا بھی نہیں، آج پہلی دفعہ دیکھا ہے ،سپریڈنٹ نے اس لڑکے کو واپس اپنی سیٹ پر بٹھا دیا اور مجھے ہال سے باہر نکال دیا ،پیپر نہیں دینے دیا۔ اس پیپر کی وجہ سے میرا پورا سال ضائع ہو گیا اور سخت مشکل سے دوسرے سال پاس ہوا اور میرے لئے آزمائشوں کا پہاڑ ٹوٹ گیا

لیکن وقت گزر گیا میرا وہ دوست جس نے مجھے ضمانت کے لئے بلایا تھا اس نے درجن بار مجھ سے معزرت کی لیکن مجھے اس پہ شکوہ نہ تھا اور وہ دو سال قبل اس دنیا سے چلا گیا مجھے اس کی موت کا ہمیشہ صدمہ رہے گا لیکن آج یہ سارا واقعہ اس لئے لکھنا پڑ  گیا کہ سات سال پہلے جس لڑکے کے لئے میں نے اتنی بڑی قربانی دی ایک دن مجھے فیس بک پر جموریت کی حمایت کرنے پر تنقیدی کمنٹس کرتا ہے کہ سردار فواد تمہارا کچھ نہیں بن سکتا۔۔

میں نے جواب میں بہت ضبط رکھتے ہوئے کہا کہ واقعی میرا کچھ نہیں بن سکتا اس لئے کہ میں محسن کش نہیں ہوں ۔

میری کہج ادائی سے ہار کر شب انتظار چلی گئی۔۔

میرے ضبط حال سے روٹھ کر میرے غمگسار چلے گئے!

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *